نجم باگ

ساتھ قرنوں سے رہتے آۓ ہو
پھر کیوں کچے گھڑے سے رہتے ہو
روزسر پہ ہتھیلی پھیریں کیوں
کیا مقدر کا نام معافی ہے
ایک ذرا سی چٹکی پر
یہ دراڑیں بھلی نہیں لگتیں
روشنی کو بھی تو نکلنےدو
شیشہ بننا تو کرچی ہوناہے
آئینے تو شکل سجاتے ہیں
یہ تھکن نیند میں ہی ڈھانپےگی
رشتہ بننا بڑا مقدر ہے
نفع نقصان سے نہیں بنتے
کیوں جمالیات سے ابا سی ہے
چاۓ ٹھنڈی بھی ہوتو
اچھی ہے
ایک ذراسی جھری تو رہنےدو
قید کی اس مشقت سے
دھینگا مشتی سے ہوگا
کیا حاصل
جڑ کے رہنے میں ایک لذت سی
جکڑ بندی فقط حماقت ہے
سب اکیلے ہی چلتے رہتے ہیں
زندگی ہے کہ ساتھ چلتی ہے
ہر کوئ خودکےہی پلاٹ میں ہے
اپنی مٹی ہے اپنا موسم ہے
یہ تعلق تو پل صراط سے ہیں
انگلی پکڑے ہوۓ گذرنا ہے
رشتے خوں سے اب نہیں بنتے
ذوق کا gum ادھر ضروری ہے
لطف اب کہاں تھکن مٹاتاہے
بات تو پھر ادھوری رہتی ہے
ہو نزاعت بھی تو
در کھلا رکھو
بن کہے بھی تو
کچھ سنا کرلو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے