صلاح الدین لیث المدنی

مرکز الصفا الاسلامی نیپال

حج اسلام کے عظیم ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے جو بندے کے ایمان، اطاعت اور اخلاص کا جامع مظہر ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالی نے واضح فرمایا: وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا۔ یعنی اللہ کے لیے ان لوگوں پر اس کےگھر کی زیارت کرنا فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔ اس آیت میں حج کی فرضیت اور اس کی اہمیت کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ حج محض ایک عبادت نہیں بلکہ یہ اللہ تعالی کی وحدانیت، بندگی اور کامل اطاعت کا عملی اظہار ہے جس میں دنیا بھر کے مسلمان ایک مرکز پر جمع ہو کر اپنے رب کے حضور جھکتے ہیں اور اس کی کبریائی کا اقرار کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حج کی عظمت اور فضیلت کو متعدد احادیث میں بیان فرمایا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں نہ کوئی فحش بات کی اور نہ گناہ کیا تو وہ اس دن کی طرح (گناہوں سے پاک) واپس لوٹتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حج انسان کے لیے روحانی پاکیزگی اور گناہوں کی معافی کا عظیم ذریعہ ہے۔ اسی طرح ایک اور متفق علیہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے حج کی فضیلت اور اس کے اجر کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے کہ ایک صحیح اور قبول حج انسان کو جنت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ حج دراصل توحید کا عملی مظہر ہے۔ جب حاجی احرام باندھ کر "لبیک اللهم لبیک، لبیک لا شریک لك لبیک” کا اعلان کرتا ہے تو وہ زبان اور عمل دونوں سے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں۔ یہ اعلان صرف الفاظ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا حج اسی عقیدے کے گرد گھومتا ہے۔ خانہ کعبہ کا طواف، صفا و مروہ کی سعی، عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں قیام اور منیٰ میں رمی جمرات یہ سارے اعمال بندے کو اس حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ وہ صرف ایک اللہ کا بندہ ہے اور اسی کی اطاعت اس کی زندگی کا مقصد ہے۔ توحید کا کردار حج میں اس قدر نمایاں ہے کہ ہر عمل شرک کی نفی اور خالص عبادت کی تعلیم دیتا ہے۔ خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت بندہ کسی اور کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ صرف اللہ کے گھر کے گرد گھومتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی زندگی کا مرکز صرف اللہ ہے۔ صفا و مروہ کی سعی حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی اس توکل کی یادگار ہے جو انہوں نے اللہ پر کیا اور یہ عمل بندے کو سکھاتا ہے کہ حقیقی مدد صرف اللہ سے ہی طلب کی جائے۔ عرفات میں وقوف ایسا عظیم اجتماع ہے جہاں انسان اپنی عاجزی اور بندگی کا اعتراف کرتا ہے اور اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے گویا یہ قیامت کے دن کی ایک جھلک ہے۔ حج انسان کے اندر تقویٰ، صبر، اخلاص اور بھائی چارے کی صفات پیدا کرتا ہے۔ احرام کی حالت میں سب انسان ایک جیسے نظر آتے ہیں نہ کوئی امیر ہوتا ہے نہ غریب نہ کوئی بڑا ہوتا ہے نہ چھوٹا بلکہ سب اللہ کے بندے بن کر اس کے سامنے حاضر ہوتے ہیں۔ یہ مساوات اسلام کی اس تعلیم کو ظاہر کرتی ہے کہ انسان کی فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔ یعنی اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ حج کی ادائیگی انسان کی زندگی میں ایک انقلابی تبدیلی لاتی ہے۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ حج ادا کرتا ہے وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے، اپنے اخلاق کو سنوارتا ہے اور اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔ حج کے بعد اس کی زندگی میں تقویٰ، دیانت داری اور نیکی کی جھلک نمایاں ہونی چاہیے کیونکہ یہی حج کا حقیقی مقصد ہے۔ اگر حج کے بعد بھی انسان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو اسے اپنے حج کے اخلاص اور قبولیت پر غور کرنا چاہیے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حج اسلام کی ایک جامع عبادت ہے جو عقیدہ، عبادت، اخلاق اور اجتماعیت کو یکجا کرتی ہے۔ یہ بندے کو توحید کی حقیقت سے روشناس کراتی ہے اور اسے اللہ کی بندگی میں مکمل طور پر سر جھکانے کی تعلیم دیتی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں حج نہ صرف فرض عبادت ہے بلکہ یہ انسان کے لیے روحانی پاکیزگی، گناہوں کی معافی اور جنت کے حصول کا ایک عظیم ذریعہ بھی ہے۔ لہٰذا ہر صاحب استطاعت مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس فریضے کو ادا کرے اور اس کے ذریعے اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے