📌نجم باگ

اس سے پہلے کہ دھوپ تیز ہوجاۓ مجھے نکل جانا چاہیئے میں نے اپنا بستر چھوڑ دیا اور حمام میں گھس پڑا پانی کی دھار سر پہ پڑی اور وجود راحت و مسرت سے سرشار ہوگیا جلدی جلدی جسم پر صابن رگڑا اور پھر پانی بہا کر توال سے جسم صاف کیا اور لنگی باندھ باہرنکل کر ناشتہ کے لئیے شور مچانا شروع کردیا۔
اب یکلخت بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ناشتہ کے لئے جلدی مچانا مجھے خود مناسب نہیں لگ رہا تھا پر کیا کیا جا سکتا ہے ان کو اپنی آمد اور ملاقات کی خواہش کا اظہار کر دیا تھا اور اجازت بھی مل گئ تھی گو ان کی رہائش شہر کے آخری کنارے پر تھی پر بہت دنوں سے واٹس اپ کے طفیل ربط میں تھے میسیج کا تبادلہ چل رہا تھا پہلی بار موبائل پر بات ہوئ اور رگ جاں میں خوشگواری دوڑ رہی تھی ادھر اہلیہ نے منہ بسورتے ہوۓ انڈا نیم بریش اور پروٹا سامنے لا کر رکھ دیا تیزی سے حلق میں اتار دئیے اور اسکوٹی پر سوار امیدوں کا جہاں دل میں بساۓ ملاقات کے لیئے نکل پڑا ایک چھوٹا سا گفٹ اور دوتین کتابچہ بھی اپنے ساتھ رکھ لیئے گیٹ کی بیل بجانے پر ایک خاتون نکھری ستھری پرس اور ایک دو کتابیں تھامے آئیں اور وش کرکے باہر نکل گئیں وہ انکی اہلیہ تھیں میں نے آواز دی کہ اتنی صبح کہاں کہنے لگیں کلاس کا وقت ہو گیا ہے کالج جارہی تھیں کمپیوٹر سائنس کی لکچرر تھیں وہ دروازے پر کھڑے چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ مجھے خوش آمدید کہہ رہے تھے۔
اندر جانے پر بریک فاسٹ کے لیئے اصرار کرنے لگے میرے منع کرنے کےباوجود پلیٹ میں دو اڈلی  میرے سامنے رکھ دیں کھانے کے دوران معلوم ہواکہ وہ مجھے اپنی طالبہ کا والد باور کر رہے ہیں میں نے وضاحت کر دی کہ میں بھی ان ہی طرح ریٹائرڈ پروفیسر ہوں میٹینگ میں ملاقات ہوئ تھی وہیں پہ موبائل سے نمبر لے لیا تھا تب سے ربط میں ہوں بہت خوش ہوۓ اٹھ کر گلے ملے اور میرے دعوتی میسیجس کو خوب سراہتے رہے ۔میرے گھر آنے کا وعدہ کیا اور گیٹ تک مجھے رخصت کرنے کے لئیے آۓ میں واپسی  میں سوچتا رہا کہ ہم میڈیا کی پھیلائ ہوئ نفرت انگیز اور دہلا دینے والی خبروں پر کچھ زیادہ ہی دھیان دے رہے ہیں جبکہ حالات تو بہت حوصلہ افزا ہیں لوگ محبتوں اور بھائ چارگی کے متلاشی ہیں یہ دراصل ہم کو شکست خوردہ کرنے کے لیئے سوچی سمجھی حکمت عملی ہے ہمیں اس کو اہمیت نہیں دینی ہے بلکہ اپنے مثبت بیانیہ کو جاری رکھنا ہے۔
اب گھرپر پہنچتے ہی مجھے خیال آیا کہ ان سے بھی ملنا ہے اس لیئے کپڑے نہیں بدلے فون کیا کنیکٹ نہیں ہوا ایک دوبار کی کوشش سے بات ہوئ عید کی مبارکبادی دی میں نے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا بہت  خوش ہوۓ کہنے لگے
صاحب آپ نے یاد کیا مجھے بہت خوشی ہوئ۔
حالانکہ ان کی شاپ میں میں دس سال رہا کبھی تکرار نہیں ہوئ کبھی کراۓ کے تعین اور ادائیگی میں ناخوشگواری نہیں آئ مجھے اپنے چھوٹے بھائی کی طرح چاہتے تھے اور امی بھی میرا بہت خیال رکھتی تھی کچھ نہ کچھ کھانے کے لیئے بھجواتی پی رہتی تھیں میں ہی لوگوں کی سکھاوٹ میں آکر شاپ چھڑ دیا اور اب پچھتا رہا ہوں مگر انہوں نے بھی مجھے پوچھ نہیں دیکھا  میں ان سے کیاکہتا کہ ہم نے وابستگی کا چلن چھوڑ دیا ہےآپ صرف دوچار بار میری شاپ میں خریدی کے لیئے آۓ اور میرے نمبر پر آپ کے بہت اچھے میسیجس آتے رہتے ہیں
آپ گھر پر آئیے
میں انتظار کرونگا
پھر تمہاری شاپ پر کون رہیگا
چھڑئیے صاحب کسی کو بٹھا آونگا
نہیں یہ مناسب نہیں ہے
تمہارے بزنس کا حرج ہوگا
میں شاپ پر آکر عید کی مبارکباد لیکر تم سے گلے مل کر لوٹ جاونگا
شاپ میں اس کے گلے لگ کر اس کو گفٹ ا ور دو تین کتابچہ اس کے حوالے کیا اور واپس لوٹا وہ مستقل گھر چلنے کے لیئے مصر رہا اور ۔مجھ  سے وعدہ لیا کہ آئندہ اس کی دعوت میں آونگا
واپسی میں میری آنکھیں لبریز تھیں کہ ہم کتنی سعید شخصیتوں کو محروم رکھ رہے ہیں ہمارا شعور کیوں سو گیا ہے ذمہداریوں سے کیوں کنارہ کش ہیں مثبت بیانیہ کے بغیر حالات کے سدھرنے کی خواہش کیسی عجیب نادانی ہے کاش وقت رہتے ہم سمجھ جائیں
گھر پہنچ کر ابھی پانی ہی حلق سے اتارا تھا کہ بیل رنگ ہوئ باہر گیٹ پر پوسٹ مین atm کارڈ لایا ہو ا تھا میں نے دستخط کرکے لے لیا میں نے اندر آنے کے لیئے کہا مٹھائ اور کتابچہ حوالے کیا
جی صاحب اس سے قبل بھی آپ نے مجھے کتابچہ دیئے تھے ۔میں نے پڑھ لیئے ہیں بہت اچھے ہیں مگر آپ کے لوگوں میں اس کی ہدایت کے خلاف ہی عمل ہوتا رہتا ہے ایسا کیوں ہے
یہ سب کم علمی کی وجہ سے ہے لیکن اب رفتہ رفتہ حالات سدھرنے لگے ہیں جی صاحب ہمارے پاس خرابی  ہی خرابی ہے فضول خرچی اور رسم ورواج کی بھر مار ہے غریب آدمی پیس رہا ہے آپ کا   پربھو آپ سے کچھ لیتا نہیں بلکہ سب کچھ وہی دیتا ہے یہ بہت اچھی بات ہے
میں سوچتا رہا کہ کیا ہم صراط مستقیم پر قائم ہیں
آج جلدی ہی کچرے اٹھانے والی جیپ آگئ ہے ابھی عید ہوۓ دودن ہی تو ہوۓ ہیں جبکہ اس  سے قبل چار پانچ روز بعد آیا کرتے تھے ہاں یاد آیا میں نے ہی رضی صاحب کے ہمراہ کارپوریٹر سے ملاقات کر کے توجہ دلائی تھی اہلیہ کچرے کے بکیٹ باہر رکھ رہی تھیں کچرے کارندوں نے عید خوشی طلب کی تو اہلیہ نے یاد دلایا کہ میں نے ان کی تہنیت کے  لیئےمختلف تنظیموں کو تو توجہ دلائی تھی پر کسی نے دھیان ہی نہیں دیا اب موقع ہے کہ میں کچھ قدر دانی کروں میں نے چاروں کو خوشی کے طور کچھ رقم دی شال اوڑھائ اور ۔ شیرقورمہ سے تواضع کی خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے گلے ملنے سے کترا رہے تھے کپڑوں کے میلے ہونے کا احساس تھا ۔ میں نے چاروں کو زبردستی گلے لگایا مجھ سے موبائل پر فوٹو لینے کی خواہش کی فوٹو دیکھ کر بہت خوش ہوۓ پاوں چھونا چاہ رہے تھے میں  نے منع کردیا کہ ہمارے ہاں سجدہ صرف اللہ کے لیئے ہے
ہاں صاحب معلوم ہے
آپ لوگ بہت خوش نصیب ہیں
اور میں سوچ رہا ہوں کہ
ہم واقعی خوش نصیب ہیں۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے