مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ 

ہماری زندگی میں جو معاملات سامنے آتے ہیں، ان میں بعض ایسے ناخوشگوار واقعات بھی ہوتے ہیں، جن کا اثر ہماری زندگی پر پڑتا ہے اور ہم اس شخص سے اس قدر نالاں ہوتے ہیں کہ اس کے ساتھ اٹھنا، بیٹھنا، راہ و رسم رکھنا پسند نہیں کرتے، اس کی طرف سے ہمارے دلوں میں کینہ، کدورت، غصہ اور غضب اس قدر بھر جاتا ہے کہ نکالے نہیں نکلتا، دراصل یہ نامناسب رویہ کا منفی ردعمل ہوتا ہے، اس سے سماجی زندگی متأثر ہوتی ہے، ہمارے دل کینوں سے پاک نہیں ہوتے اور اس کی وجہ سے اخروی زندگی کے برباد ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں ایسے واقعات کو بھلا دینا چاہیے؛ تاکہ ہماری اخروی زندگی بچ جائے، حضرت تھانویؒ نے انفاس عیسیٰ صفحہ 174 میں کینہ کے بارے میں لکھا ہے کہ کینہ وہ ہے جو اختیار و قصد سے کسی کی برائی اور بدخواہی دل میں رکھی جائے اور اس کو ایذا پہنچانے کی تدبیر بھی کرے، حضرت تھانویؒ نے اس کا علاج یہ لکھا ہے کہ "اس شخص کا قصور معاف کر کے اس سے میل جول اور تعلقات شروع کریں، گو تکلیف سہی، چند روز میں کینہ دل سے نکل جائے گا، سیرت پاک کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ حیات مبارکہ میں نامناسب رویوں کو بھلانے کی روایت تھی، یہی وجہ ہے کہ اس کو ٹالنے کے لیے قرآن کریم میں دعائیں سکھائی گئیں اور جن لوگوں کے سینے کینوں سے پاک تھے ان کو بشارتیں سنائی گئیں۔
اس سلسلے میں تمام ظلم و زیادتی کو بھلانے کا سب سے اہم واقعہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عام اعلانِ معافی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام لوگوں کو معاف کر دیا جنہوں نے نہ صرف آپ کو ہجرت پر مجبور کر دیا، بلکہ متعدد جنگوں میں مسلمانوں کے خلاف نبی کی موجودگی میں قیادت کی تھی۔
ببار بن اسود نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینبؓ پر ہجرت کے موقع سے نیزہ سے حملہ کیا، حضرت زینبؓ کجاوہ سے گر پڑیں، حمل ساقط ہو گیا اور بالآخر وہی ان کی موت کا سبب بنا، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دردناک اور کربناک حادثہ کے اصل مجرم کو معاف کر دیا، اسی طرح حضرت حمزہؓ کی شہادت کا واقعہ ہے، نہ صرف وحشی بن حرب نے ان کو شہید کر دیا، بلکہ ہندہ نے ان کا مثلہ کر دیا، ناک، کان، کاٹ کاٹ کر چبا ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا شدید اثر تھا، آنکھیں اشکبار تھیں، کلیجہ غم سے پھٹا جا رہا تھا، لیکن آپ نے دونوں کو معافی دیدی، تحمل، برداشت، عفو و درگذر سیرتِ نبوی کا وہ گوشہ ہے جو دوسرے تمام گوشوں کی طرح ہمارے لیے اسوہ و نمونہ ہے، سیرت پاک میں عفو و درگذر کے واقعات اس قدر ہیں کہ ان کا شمار نہیں کیا جا سکتا، طائف کی گلیوں میں اوباشوں کے پتھر سے لہولہان جسم ہو، یا لبید بن الاعصم کے ذریعہ آپ پر سحر، خیبر میں زینب نامی یہودی کے ذریعہ زہر دیدینے کا واقعہ ہو یا غزوہ بدر، احد، خندق کی جنگوں میں اسلام کے خلاف کفار کی جانب سے قیادت کرنے والے ابوسفیان، سب کو معافی دیدینا یہ بتاتا ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج دل میں کینہ رکھنے کا بالکل نہیں تھا اور ایذا رسانی کے واقعات کو بھلا کر معاف کر دینا آپ کی صفتِ رحمت کا مظہر تھا، آپ نے ہر موقع سے اللہ کے حکم "معاف کرنے کی عادت ڈالو، نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ نہ لگاؤ” (الاعراف: 198) کو سامنے رکھا، ظلم کرنے والوں کو معاف کیا، قطع تعلق کرنے والوں سے رشتہ استوار کیا، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
"نیکی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی، برائی کو اچھے طریقے سے دور کرو، پھر تم دیکھو گے کہ جس شخص سے تمہاری دشمنی ہے گویا وہ تمہارا گہرا دوست بن گیا ہے، مگر یہ بات انہیں لوگوں کو سمجھ آتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور انہیں لوگوں کو سمجھ میں آتی ہے جو بڑے نصیب والے ہیں۔”
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتِ خاص کا ذکر کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے ہدایت دی کہ ان لوگوں کو معاف کر دیجیے اور ان کے لیے مغفرت طلب کیجیے اور ان سے مشورے بھی لیا کیجیے اور جب عزم کر لیں تو اللہ کے بھروسے کام شروع کر دیں، کیوں کہ اللہ اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
ہمیں تمام معاملات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اپنانا چاہیے، نامناسب رویوں کو بھول کر عفو و درگذر سے کام لینا چاہیے، یہ نبوی طریقہ بھی ہے اور شرعی تقاضہ بھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے