از: مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی
دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر (راجستھان)
موجودہ دور انسانی تاریخ کے ان ادوار میں سے ہے جہاں ظاہری ترقی اپنی انتہا کو چھو رہی ہے۔ سائنسی ایجادات، ڈیجیٹل سہولتیں، اور معلومات کا سیلاب، یہ سب کچھ انسان کے تابع نظر آتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ انسان کا باطن زوال پذیر ہو چکا ہے۔ دل کی دنیا اجڑ رہی ہے، روحانیت دم توڑ رہی ہے، اور اعمال کی اصل روح یعنی اخلاص آہستہ آہستہ مٹتی جا رہی ہے۔
یہ وہی اخلاص ہے جو عمل کو آسمانوں تک پہنچاتا ہے، اور جب یہی نہ رہے تو عمل محض ایک رسم بن کر رہ جاتا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ریاکاری، نام و نمود، نمائش اور شہرت طلبی نے اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں۔
اخلاص: دین کی بنیاد اور قبولیتِ عمل کا معیار
قرآنِ مجید نے بارہا اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں وہی عمل معتبر ہے جو خالص اس کی رضا کے لیے ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ” (سورۃ البینہ: 5)
ترجمہ: اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔
یہ آیت نہ صرف عبادت بلکہ پوری زندگی کے لیے ایک اصول فراہم کرتی ہے کہ بندہ اپنے ہر قول و فعل کو اخلاص کے سانچے میں ڈھالے۔
اسی حقیقت کو نبی کریم ﷺ نے نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا:”إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ” (صحیح بخاری، حدیث: 1)
ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔
یہ حدیث دراصل ایک ایسا ضابطہ ہے جس پر پورا دین قائم ہے۔ نیت اگر خالص ہو تو معمولی سا عمل بھی عند اللہ عظیم ہو جاتا ہے، اور اگر نیت میں کھوٹ ہو تو بڑے سے بڑے اعمال بھی بے وزن ہو جاتے ہیں۔
ریاکاری: شرکِ خفی اور اعمال کی تباہی
ریاکاری ایک ایسا مہلک مرض ہے جو انسان کے باطن کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ بظاہر وہ نیک نظر آتا ہے مگر حقیقت میں اس کا عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی قدر نہیں رکھتا۔
نبی کریم ﷺ نے اس کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی:”أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الأَصْغَرُ”
مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے۔
صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟
فرمایا: "الرِّيَاءُ”ریاکاری (مسند احمد)
ریاکاری کو "شرکِ اصغر” قرار دینا اس کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے عمل میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کر لیتا ہے۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ ساتھ لوگوں کی تعریف بھی چاہتا ہے۔
ڈیجیٹل دور: اخلاص کے لیے ایک نیا چیلنج
موجودہ دور سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، جہاں ہر لمحہ نمائش کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اب انسان کے لیے نیکی کرنا مشکل نہیں، بلکہ نیکی کو چھپانا مشکل ہو گیا ہے۔
کسی غریب کی مدد کی جاتی ہے تو تصویر لازم سمجھی جاتی ہے، کسی دینی خدمت کو انجام دیا جاتا ہے تو اس کی تشہیر ضروری ہو جاتی ہے، حتیٰ کہ عبادات بھی "اسٹیٹس” اور "اسٹوری” کا حصہ بن جاتی ہیں۔۔۔
یہ رویہ نہ صرف اخلاص کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ معاشرے میں ایک ایسی فضا قائم کرتا ہے جہاں نیکی کا معیار اخفاء نہیں بلکہ اظہار بن جاتا ہے۔
حالانکہ قرآن مجید نے واضح فرمایا:”وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ” (سورۃ البقرہ: 271)
ترجمہ: اور اگر تم صدقہ کو چھپا کر فقراء کو دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔
بے اخلاص اعمال کا ہولناک انجام:
صحیح احادیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن کچھ ایسے لوگ پیش کیے جائیں گے جن کے اعمال بظاہر بہت بڑے ہوں گے، مگر انہیں مسترد کر دیا جائے گا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم):ایک عالم، ایک سخی، اور ایک مجاہد۔۔۔۔ یہ تینوں اپنے اپنے اعمال کا ذکر کریں گے، مگر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے یہ سب لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا، لہٰذا تمہیں دنیا میں ہی اس کا بدلہ مل چکا۔ (صحیح مسلم)
یہ روایت ہمیں جھنجھوڑ دیتی ہے کہ عمل کی عظمت نہیں بلکہ نیت کی سچائی اصل معیار ہے۔
اخلاص کے حصول کا عملی راستہ:
اخلاص محض ایک نظری تصور نہیں بلکہ ایک عملی جدوجہد ہے۔ اسے حاصل کرنے کے لیے درج ذیل امور ناگزیر ہیں:
1. مسلسل محاسبۂ نفس:
اپنے ہر عمل کے پیچھے نیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ دل کو بار بار ٹٹولنا چاہیے کہ کہیں اس میں ریاکاری تو شامل نہیں ہو رہی۔
2. خلوت کی زندگی سنوارنا:
جو انسان اپنی تنہائی کو پاکیزہ بنا لیتا ہے، وہی حقیقی اخلاص حاصل کرتا ہے۔ تنہائی میں کی گئی عبادت دل کو زندہ کرتی ہے۔
3. اعمال کو مخفی رکھنا:
حتی الامکان اپنی نیکیوں کو چھپایا جائے۔ یہ عمل نہ صرف اخلاص کو بڑھاتا ہے بلکہ انسان کو تکبر سے بھی بچاتا ہے۔
4. آخرت کا استحضار:
موت اور حساب کا تصور انسان کے دل میں اخلاص پیدا کرتا ہے۔ جب بندہ یہ سوچتا ہے کہ اسے اللہ رب العالمین کے سامنے پیش ہونا ہے تو وہ دکھاوے سے دور ہو جاتا ہے۔
5. دعا اور اللہ سے تعلق:
اخلاص اللہ رب العزت کی عطا ہے، اس لیے اس کے لیے دعا کرنا ضروری ہے۔ دل کی اصلاح بغیر اللہ وحدہ لاشریک کی مدد کے ممکن نہیں۔
معاشرتی سطح پر اصلاح کی ضرورت:
ریاکاری کا یہ فتنہ صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ:
دینی ادارے اخلاص کی تعلیم کو عام کریں۔۔۔۔
خطباء اور واعظین اس موضوع کو اجاگر کریں۔۔۔۔
سادگی اور بے نامی کو بطورِ قدر فروغ دیا جائے۔۔۔
نوجوان نسل کی تربیت نیت کی اصلاح پر کی جائے۔۔۔
مزید قابلِ توجہ پہلو:
والدین اپنے بچوں کو ابتدا ہی سے نیت کی درستگی سکھائیں۔
سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط اور نیت کی نگرانی کو لازم کیا جائے۔
نیکی کے بعد استغفار کیا جائے تاکہ ممکنہ ریا سے حفاظت ہو۔
حقیقی کامیابی کیا ہے؟
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
"يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ” (سورۃ الشعراء: 88-89)
ترجمہ: جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، مگر وہ شخص کامیاب ہوگا جو اللہ کے پاس سلامت دل لے کر حاضر ہوگا۔
یہی وہ معیار ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ کامیابی مال، شہرت یا تعریف میں نہیں بلکہ قلبِ سلیم میں ہے، اور قلبِ سلیم اخلاص کے بغیر ممکن نہیں۔
دعوتِ فکر و عمل:
اے اہلِ ایمان!
اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے دلوں کا محاسبہ کریں، اپنی نیتوں کو درست کریں، اور اپنی زندگی کو اخلاص کے سانچے میں ڈھالیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ:
دنیا کی واہ واہی عارضی ہے
لوگوں کی تعریف بے حقیقت ہے۔۔۔۔
اصل کامیابی صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہے-
لہٰذا آئیے آج یہ عہد کریں کہ:
ہم ہر عمل سے پہلے اپنی نیت کو درست کریں گے۔۔۔
نیکی کو تشہیر کے بجائے اخلاص کے ساتھ انجام دیں گے۔۔۔
اور اپنی زندگی کا ہر لمحہ صرف رضائے الٰہی کے لیے وقف کریں گے-
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاصِ کامل عطا فرمائے، ریاکاری کے فتنے سے محفوظ رکھے، اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت بخشے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین ﷺ
