از: الطاف آمبوری

یکم مئی کی صبح تھی۔ شہر ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا، مگر ہری کی آنکھیں رات کے اندھیرے میں ہی کھل گئی تھیں۔ اس کے لیے دن اور رات کا فرق صرف روشنی کا نہیں، ذمہ داری کا تھا۔ چھوٹے سے کمرے میں اس کے بچے ابھی سو رہے تھے۔ بیوی نے خاموشی سے روٹی کا ایک ٹکڑا اور چائے کا کپ اس کے سامنے رکھا، جیسے ہر دن ایک ہی کہانی دہرا رہا ہو۔
ہری ایک مزدور تھا۔ اس کے ہاتھوں کی سختی اور چہرے کی جھریاں اس کی عمر سے زیادہ اس کی محنت کی گواہی دیتی تھیں۔ آج عالمی یوم مزدور تھا، مگر اس کے لیے یہ دن بھی ویسا ہی تھا جیسے باقی دن کام کی تلاش، دیہاڑی کی امید، اور شام کو خالی یا بھرے ہاتھ گھر لوٹنا۔
چوک پر آج بھی مزدوروں کا ہجوم تھا۔ ہر ایک کی آنکھوں میں ایک ہی سوال تھا: "آج کام ملے گا یا نہیں؟” ہری نے آسمان کی طرف دیکھا۔ سورج ابھی پوری طرح نکلا نہیں تھا، مگر گرمی کا احساس پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ کچھ دیر بعد ایک ٹھیکیدار آیا۔ اس نے چند لوگوں کو چنا، باقیوں کو نظر انداز کر دیا۔ ہری کا نام اس فہرست میں نہیں تھا۔
وہ ایک لمحے کے لیے خاموش کھڑا رہا۔ پھر آہستہ سے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ اس کے ذہن میں بچوں کے چہرے گھومنے لگے ان کی معصوم خواہشیں، اسکول کی فیس، اور بیوی کی خاموش پریشانیاں۔
اسی دوران ایک نوجوان آیا، جس کے ہاتھ میں کیمرہ تھا۔ اس نے ہری سے پوچھا: "آپ جانتے ہیں آج مزدوروں کا دن ہے؟”
ہری نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا: "ہمارا دن؟ صاحب، ہمارا دن تو وہ ہوتا ہے جب ہمیں کام مل جائے۔”
نوجوان خاموش ہو گیا۔ اس نے شاید پہلی بار محسوس کیا کہ تقریبات اور حقیقت میں کتنا فرق ہے۔
دوپہر تک ہری کو کام نہیں ملا۔ وہ تھکا ہوا سا گھر کی طرف لوٹنے لگا۔ راستے میں اس نے ایک بینر دیکھا جس پر لکھا تھا: "مزدوروں کو خراجِ تحسین!”
وہ رک گیا، ایک لمحے کے لیے اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ ان ہاتھوں میں پسینہ تھا، مٹی تھی، مگر یہی ہاتھ اس شہر کی عمارتیں کھڑی کرتے تھے، سڑکیں بناتے تھے، اور زندگی کو چلانے کا سبب بنتے تھے۔
شام کو جب وہ گھر پہنچا، بچے دروازے پر دوڑ کر آئے۔ ان کی آنکھوں میں خوشی تھی، جیسے باپ کا آنا ہی سب سے بڑی دولت ہو۔ ہری نے ان کو گلے لگایا۔ اس لمحے اسے لگا کہ شاید یہی اس کی اصل کمائی ہے۔
رات کو جب سب سو گئے، ہری دیر تک جاگتا رہا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں کہا: "اے بھگوان! ہمارے پسینے کو بھی کبھی عزت کی خوشبو دے دے۔”
یکم مئی گزر گیا، مگر ہری کی کہانی ختم نہ ہوئی۔ کیونکہ مزدور کا دن صرف ایک تاریخ نہیں، ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے وہ جدوجہد جو ہر طلوعِ آفتاب کے ساتھ نئے سرے سے شروع ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے