محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔

۱۔ سزا
اخلاص ختم ہوچکا تھا، اسلئے ان کے درمیان کوئی بے لوث شخص نہیں بچ سکااوریہی ان لوگوں کی سزا تھی۔

۲۔ دلیل ِ مہرباں
بچوں کوشکویٰ تھاکہ ان کے والد نے ان کی والدہ مرحومہ کے ساتھ بہتر سلوک نہیں کیا۔ یہ بات والد ِ محترم کو بالراست موصول ہوئی تھی۔دل نے بیحد افسوس کیا۔ زندگی کے مختلف موڑپربچوں کی یہ بات والد تک کسی نہ کسی طرح پہنچ ہی جاتی کہ وہ ہماری والدہ پر مہربان نہیں تھے۔ ایک موقع پر بات یہ بھی آئی کہ والدہ ہی نہیں ، اباجان ہم بچوں پر بھی کبھی مہربان نہیں رہے۔ تو والد نے خود کوضبط کرتے ہوئے اُس دن بچوں سے کہا’’عمر کے بڑھنے کے ساتھشکوے ، گلے ، ختم ہوجاتے ہیں اور ختم ہوجانا چاہیے ۔کیوں کہ عمررفتہ زندگی کے مختلف رازوں سے پردہ اٹھاتی چلی جاتی ہے۔ تم دیکھ لیناکہ ایک دن جب میں دنیا سے جاؤں گاتوتمہیں احساس ہوگاکہ تمہارا باپ ایک عظیم انسان تھا، اوراس نے کسی پرزیادتی نہیں کی تھی، اپنی خاتون کامعاملہ ہویابچوں کا، البتہ بھول چوک مجھ سے ممکن ہے کیوں کہ یہ اولاد ِ آدم کی سرشت میں داخل ہے ‘‘والد نے اشارے کنایے میں بات سمجھادی تھی۔
ایک سال سے بنگلور میںوالد کاقیام تھا۔ ایک سال بعد وہ اپنے بچوںسے ملنے ان کے پاس واپس آگئے ۔ جس دن بچوں سے ملنے گھرپہنچے ، اسی دن اللہ کو پیارے بھی ہوگئے۔ بچوں نے جب اچانک ہی باپ کی نعش کو دیکھا، توانھیں ایسالگاجیسے نعش کہہ رہی ہو’’ساری عمر تمہارے لئے جیتارہابچو۔ آج وقت نے تمہاری آنکھوں کے سامنے موت سے ملاقات کروادیا۔میں اب تم بچوں کے کندھوں پر ہی سوار ہوکر قبرستان جاؤں گا۔ اس سے بڑھ کرمیرے مہربان ہونے کی دلیل اور کیاہوسکتی ہے ؟‘‘

۳۔ چوناکاری
وہ ایک وکیل تھااور اپنے تمام موکلین کا کام تاخیر سے انجام دیتے ہوئے انہیں چونا لگایاکرتاتھا۔ اس عمل کے باوجود وہ معاشرے میں ایک محترم سینئر وکیل گردانا گیاجس کے گھر پر ہردن قانونی ضرورت مندوں کاتانتا بندھارہتاتھا۔

۴۔ لاجواب سوال
جسم تو وہی تھالیکن اس پرکشش وسڈول جسم پر مختلف کپڑے بدل بدل کرایک انداز سے پہنے جاتے تھے اور اس کی نمائش کی جاتی تھی۔ پچھلے پانچ سال سے فیس بک اور ریل پر وہ اس لڑکی کو دیکھ رہاتھا۔
ایک دن اچانک ہی اس کو خیال آیاکہ یہ نظارہ ،اور اس پرکشش جسم میں محویت رب ِ کریم کے لئے ہے یا شیطان الرجیم کی جانب سے دیاجانے والا دھوکا؟عجیب بات یہ ہے کہ وہ اس سوال کاجواب نہیں دے سکاہے۔ گزشتہ آٹھ دس دن سے اسی سوال نے اس کو لاجواب کررکھاتھالیکن باطن نے کہا’’یہ تو رب کریم امتحان لے رہاہے کہ میرامشاہدہ کریاپھر اُس کا‘‘

۵۔ گھرواپسی
نعرے لگاکر ، اورگالی دے کر بھی اپنے جذبات کااظہار ممکن تھالیکن یعقوب سندی نے صاف اور واضح الفاظ میں کہاکہ ’’حکومت اگرہم سب کی خدمت نہیں کرسکتی اور تمام شہریوں میں پھوٹ ڈالنا چاہتی ہے تووہ سن لے کہ عوام کو پھوٹ منظور نہیں، ایسی حکومت گھر بیٹھی رہے‘‘
ایک شریف آدمی کی یہ بات گھرگھر پہنچ گئی اور آخرکار حکومت کوتخت وتاج چھوڑ کر گھر بیٹھنا پڑا۔گھرواپس پہنچتے ہی حکومت ، اپوزیشن میں بدل گئی تھی۔

۶۔منصف مزاجی
حرص ہی تھی کہ آخرت چھوڑ کر دنیا کمالی۔ اگریہ حرص نہ ہوتی تو اُخروی دن سرخرو ہوجاتا۔یہ میں نہیں کہہ رہاہوں خوداسی نالائق کابیان ہے۔ گویاانسان اپنے بارے میں بخوبی جانتاہے کہ وہ کدھر جارہاہے ؟اور آخرکار وہ کہاں پہنچے گا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے