محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
ہنسی دوا ہے :۔
ہنسی دوا ہے ۔ آدمی جب تھک جاتاہے تو اس کو ہنسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہنسی کو نبی کریم ﷺ نے بھی پسند فرمایا۔ ایک موقع پر صحابہ کرام ؓ ایسے شخص کو ڈانٹ رہے تھے جو رات دیرگئے تشریف لاکر نبی کریم ﷺ کے آرام میں (صحابہ کرام ؓ کی دانست میں ) خلل ڈالتاتھا۔ تب نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ نے صحابہ کواس عمل سے روک دیا اورکہایہ شخص مجھ سے ملنے آتاہے اور(آپ لوگ جانے کے بعد) مجھے خوب ہنساتاہے۔اس بات سے پتہ چلتاہے کہ وقت کے نبی ﷺ بھی ہنسی کو انسانی زندگی یاتھکن کے لئے لازمی قرار دیتے تھے۔
ہم جس دنیا میں رہتے ہیں اور جس دنیا کانظام جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ، انھوں نے ماہ مئی کے پہلے اتوارکو’’ ورلڈ لافٹر ڈے‘‘(عالمی ہنسی کادن) قرار دیا ہے اور اپیل کی ہے کہ انسانی مزاج میں آئے ہوئے تناؤ کو ہنسی کے ذریعہ سے دورکیاجائے ۔اس سال 2026ء کو یہ دن اتوار 3؍مئی کو آیاہے۔ آئندہ سال 2027ء کو ماہ مئی کی پہلی اتوار 2؍مئی کو آئے گی اس لحاظ سے آئندہ سال 2؍مئی کو ’’عالمی ہنسی کا دِن ‘‘ منایاجائے گا۔ اسی طرح 2028ء کو7؍مئی اور 2029ء کو 6؍مئی کو ورلڈ لافٹر ڈے منایاجائے گا۔ اِمسال کا موضوع ’’ہنسی کے ذریعہ عالمی امن ‘‘ قرار دیاگیاہے۔ یوں سمجھئے مسٹر ٹرمپ جس طرح کے بیانات ایران اور ہر مز کو لے کر دے رہے ہیں، اس سے زیادہ ہنسی کی بات اور کیاہوسکتی ہے ۔ اور ان ہی بیانات کی وجہ سے گویا دنیا میں امن قائم ہے۔ اِمسال اپیل کی گئی ہے کہ ہنسی کے ذریعہ جسمانی صحت کو ایک طاقتور ٹول میں تبدیل کرنے کی سعی کی جائے ۔ انسانی رشتے مزاح کے ذریعہ مضبوط بنائے جائیں ۔ مقامی طورپر یاآن لائن لافٹر یوگاکلب میں شامل ہوں۔ کوئی تقریب رکھیں۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ کس کس نے کیا۔ عین ممکن ہے کہ یہ باتیں دولت مند ، اور کلبوں میں فارغ اوقات بتانے والوں کے لئے ہوسکتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ دوستوں اور اپنے کنبے کے افراد کے ساتھ لطیفے اور مضحکہ خیز کہانیاں اور مزاحیہ ویڈیو شیئر کرنے کوکہاہے۔ ویسے روزانہ ہی مزاحیہ ویڈیو شیئر کئے جارہے ہیں لیکن ہم اردو والوں کو چاہیے کہ مزاحیہ ویڈیو بنانے کی طرف توجہ دیں۔ خصوصاً ہندوستانی اردو والے اس معاملے میں پاکستانی اردو والوں سے بے حد پیچھے ہیں۔ صفر اور ایک ہزار صفر کا مقابلہ سمجھئے (ہنسی ) ۔
لافٹر ڈے کی تاریخ :۔ ورلڈ لافٹر ڈے کی تاریخ اور اصل ہنسی کے عالمی دن کی تاریخ 1998سے شروع ہوتی ہے۔ اس کی شروعات ذرائع کے بموجب لافٹر یوگا موومنٹ کے بانی ڈاکٹر مدن کٹاریہ نے ممبئی، ہندوستان میں کی تھی۔یہ تحریک اس خیال سے پروان چڑھی کہ ہنسی، چاہے جان بوجھ کر شروع کی جائے، ایک گروپ سیٹنگ میں فطری اور خوش کن بن سکتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، لافٹر کلب اور عوامی تقریبات دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گئیں۔آج، ورلڈ لافٹر ڈے گروپ ہنسی کے سیشنز، کمیونٹی ایونٹس، فلاح و بہبود کی سرگرمیوں، اور آن لائن مہمات کے ذریعے منایا جاتا ہے جو لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ہنسنے کی ترغیب دیتی ہیں۔اسٹینڈ اپ کامیڈی کو بھی آپ اسی کاحصہ سمجھ لیں۔ اسٹینڈ اپ کامیڈی بھی ہماری دولت مند شہری زندگی کاحصہ ہے۔ تاہم اس کامیڈی پر اشرار کی بری نظریں ہیں ، پتہ نہیں اس کامستقبل کیاہے ؟ تاہم کئی ایسے فنکار اسٹینڈ اپ کامیڈی سے جڑے ہیں ، اور بہت ہی عمدہ کامیڈی (مزاح) پیش کررہے ہیں۔
ہنسی سے نیند آتی ہے:۔ محققین کا کہناہے کہ ہنسی کورٹیسول کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے، جو تناؤ کااہم ہارمون ہے۔ تناؤ کی کم سطح سے بہتر موڈ، نیند، بلڈ پریشر کنٹرول، اور مدافعتی توازن کو سہاراملتاہے۔ اور بھی بہت سی باتیں اس ذیل میں ملتی ہیں۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہنسی بیماری کا علاج نہیں ہے لیکن یہ آپ کے روزمرہ کی صحت کے معمولات کا ایک قیمتی حصہ بن سکتی ہے۔کیوں کہ جسم میں جکڑن کے احساس کو ہنسی کم کرتی ہے۔ایک انگریزی مضمون کے بموجب تناؤ کو کم کرکے اور مدافعتی سرگرمی کو متاثر کرکے ہنسی آپ کے جسم کو بہتر مدافعتی توازن برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔شیوانی اوستھی نے امراجالا کے 2؍مئی 2026ء کی اشاعت میں لکھاہے ’’ہنسی جسم میں اینڈورفنز خارج کرتی ہے جو خوشی کا احساس دلاتی ہے۔یہ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتی اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔ہنسی دماغی صحت کو بہتر بناتی ہے۔ اسی لیے ہنسی کو ”بہترین دوا” کہا جاتا ہے‘‘۔اب ہم چندلطائف کی طرف آتے ہیں ۔
۱۔ ابھی ہنس لو ان دانتوں سے کھلا کھلاکر ، ورنہ بڑھاپے میں صرف تکلیف دیں گے ہل ہلاکر
۲۔ آندھیوں سے کہو اوقات میں رہے، اس ہفتہ تیسری بنیان غائب ہوئی ہے۔
۳۔ استاد:۔ غزل اور تقریر میں کیافرق ہے
شاگرد:۔ پرائی عورت کا ہر لفظ غزل ہے ۔ اور اپنی اہلیہ کا ہر لفظ تقریر ۔
۴۔ روشنی نام تھا اس کا لیکن 7-8لڑکوں کو اس نے اندھیرے میں رکھاہواتھا۔
۵۔ ڈاکٹر(مریض سے): جب آپ دباؤ میں ہوتے ہیں تو آپ کیا کرتے ہیں؟
مریض: میں لوگوں کے جوتے ملاتا ہوں اور پھر انہیں ڈھونڈتا ہوا دیکھتا ہوں!
۶۔ پپو: جیل کو ہندی میں ’’حوالات‘‘ کیوں کہتے ہیں؟
گپو جی:۔ کیونکہ وہاں آپ کو صرف ہوا اور لاتیں ملتی ہیں۔
۷۔ بوائے فرینڈ:۔ میں نے آپ کے لیے سب کچھ چھوڑ دیا
گرل فرینڈ: ۔تم نے میرے لئے کیاکیا چھوڑا؟
بوائے فرینڈ:۔ پڑھائی اور کیا؟
ہنسی کے عالمی دن 2026ء کے موقع پر ہم مشتاق احمد یوسفی کے مزاحیہ اقوال کی طرف چلتے ہیں۔ کل کادور ’’دور ِ یوسفی‘‘ تھا۔ اور آج کا دور ’’زلیخاؤں ‘‘ کا ہے لیکن یہ زلیخائیں 33فیصد نشستیں لوک سبھا میں مانگ رہی ہیں۔ اور حقائق یہ ہیں کہ یہ گرام پنچایت ، تعلقہ پنچایت ، ضلع پنچایت اور میونسپلٹی میں منتخب ہوکر آتی ہیں تو یہ گھر میں بیٹھی رہتی ہیں اور ان کے شوہر ، دیور یا پھر کوئی اور مرد ان کی جگہ پورے گاؤں یامحلہ میں اپنا مکھڑا دکھاتے ہیں۔ لہٰذا ’’دور ِ یوسفی ‘‘آج بھی وہیں کھڑا ہے اور مسکراتے ہوئے ان زلیخاؤں کو دیکھ رہاہے۔ توآئیے اردو ادب کے مشتاق اور مزاحیہ ادب کے یوسفی کی تحریروں سے چند کلمات پڑھ لیتے ہیں اور کھلکھلا کر ہنستے ہیں ۔ ٭مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔٭مونگ پھلی اور آوارگی میں خرابی یہ ہے کہ آدمی ایک دفعہ شروع کردے تو سمجھ میں نہیں آتا ختم کیسے کرے۔٭
عورتیں پیدائشی محنتی ہوتی ہیں۔ اس کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ صرف ۲۱ فیصد خواتین خوبصورت پیدا ہوتی ہیں، باقی اپنی محنت سے یہ مقام حاصل کرتی ہیں۔(عورتوں سے معذرت کے ساتھ ، واقعی یہ بات مشتاق احمد یوسفی نے کہی، یوسف رحیم بیدری نے نہیں کہی اور نہ ہی کہیں سے یہ بات اڑائی ہے)٭مرد عشق و عاشقی صرف ایک مرتبہ کرتا ہے، دوسری مرتبہ عیاشی اور اس کے بعد نری عیاشی۔٭گالی، گنتی، سرگوشی اور گندا لطیفہ تو صرف اپنی مادری زبان میں ہی مزہ دیتا ہے۔٭آسمان کی چیل، چوکھٹ کی کیل اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے، ننگا کرکے چھوڑتے ہیں۔٭اختصار ظرافت اور زنانہ لباس کی جان ہے۔٭آدمی ایک دفعہ پروفیسر ہو جائیے، تو عمر بھر پروفیسر ہی کہلاتا ہے، خواہ بعد میں سمجھ داری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔٭گنجان کاروباری شہر میں مچھلی اور مہمان پہلے ہی دن بدبو دینے لگتے ہیں۔٭آپ نے شاید دیکھا ہوگا کہ چینیوں کا چہرہ عمر سے بے نیاز ہوتا ہے اور انگریزوں کا جذبات سے عاری۔ بلکہ بعض اوقات تو چہرے سے بھی عاری ہوتا ہے۔٭سود اور سرطان کو بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔٭جب شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پینے لگیں تو سمجھ لو کہ شیر کی نیت اور بکری کی عقل میں فتور ہے۔٭بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں ذرا فرق نہیں۔ سوتے میں بھی آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے۔٭ہماری گائکی کی بنیاد طبلے پر ہے اور گفتگو کی بنیاد گالی پر۔٭ایجاد اور اولاد کے لچھن پہلے ہی سے معلوم ہوجایا کرتے تو دنیا میں نہ کوئی بچہ ہونے دیتا اور نہ ایجاد۔٭سچ تو یہ ہے کہ حکومتوں کے علاوہ
کوئی بھی اپنی موجودہ ترقی سے مطمئن نہیں ہوتا۔٭بندر میں ہمیں اس کے علاوہ اور کوئی عیب نظر نہیں آتا کہ وہ انسان کا جد اعلی ہے۔٭اس سے زیادہ بدنصیبی اور کیا ہوگی کہ آدمی ایک غلط پیشہ اپنائے اور اس میں کامیاب ہوتا چلا جائے۔٭دنیا میں غیبت سے زیادہ زود ہضم کوئی چیز نہیں۔٭آپ راشی، زانی اور شرابی کو ہمیشہ خوش اخلاق، ملنسار اور میٹھا پائیں گے۔ اس واسطے کہ وہ نخوت، سخت گیری اور بد مزاجی افورڈ ہی نہیں کر سکتے۔٭عورت کی ایڑی ہٹاوتو اس کے نیچے سے کسی نہ کسی مرد کی ناک ضرور نکلے گی۔٭جتنا وقت اور روپیہ بچوں کو ’’مسلمانوں کے سائنس پر احسانات‘‘ رٹانے میں صرف کیا جاتا ہے، اس کا دسواں حصہ بھی بچوں کو سائنس پڑھانے میں صرف کیا جائے تو مسلمانوں پر بڑا احسان ہوگا۔٭انگریزی فلموں میں لوگ یوں پیار کرتے ہیں جیسے تخمی آم چوس رہے ہوں۔٭ہمارا عقیدہ ہے کہ جسے ماضی یاد نہیں رہتا اس کی زندگی میں شاید کبھی کچھ ہوا ہی نہیں، لیکن جو اپنے ماضی کو یاد ہی نہیں کرنا چاہتا وہ یقینا لوفر رہا ہوگا۔٭گانے والی صورت اچھی ہو تو مہمل شعر کا مطلب بھی سمجھ میں آ جاتا ہے۔٭جاڑے اور بڑھاپے کو جتنا محسوس کروگے اتنا ہی لگتا چلا جائے گا۔(مشتاق احمد یوسفی بھی ان میں شامل ہیں، ایک بار پڑھ لیاتو پھر دوبارہ سہ بارہ پڑھنے کومن کرتاہے ۔یوسف رحیم)٭نشہ اور سوانح حیات میں جو نہ کھلے اس سے ڈرنا چاہیے۔٭شیر، ہوائی جہاز، گولی، ٹرک اور پٹھان ریورس گئیر میں چل ہی نہیں سکتے۔٭کسی خوبصورت عورت کے متعلق یہ سنتا ہوں کہ وہ پارسا بھی ہے تو نہ جانے کیوں دل بیٹھ سا جاتا ہے۔٭کسی اچھے بھلے کام کو عیب سمجھ کر کیا جائے تو اس میں لذت پیدا ہو جاتی ہے۔ یورپ اس گر کو ابھی تک نہیں سمجھ پایا۔ وہاں شراب نوشی عیب نہیں۔ اسی لیے اس میں وہ لطف نہیں آتا۔٭مزاح، مذہب اور الکحل ہر چیز میں بآسانی حل ہو جاتے ہیں۔
اردو کے مایہ ناز ہر دور کے شہنشاہ جاسوسی ادب ابن صفی کو اگر ہم پڑھتے ہیں توا ن کے پاس بھی مزاح کازور دار طوفان بلکہ سونامی ملتی ہے۔ جس میں بہہ جانے اوراسی میں رہ جانے کو جی کرتاہے۔ کئی نسلیں ابن صفی کے مزاح کی سونامی میں جیتے جیتے بوڑھی ہوگئی ہیں۔ (ہمیں بھی ان میں سمجھ لیں ، لیکن آج بھی آتش مزاح جوان ہے الحمد للہ ) ڈپلومیٹ مرغ کے حرف آغاز میں ابن صفی لکھتے ہیں ’’ طنزومزاح میرافن نہیں بلکہ کمزور ی ہے۔ کمزوری اس لئے کہ میں صاحب ِ اقتدار نہیں ہوں ۔ صاحب ِ اقتدار واختیار ہوتاتو میرے ہاتھ میں قلم ک ی بجائے ڈانڈنظر آتا اور میں طنز کرنے یا مذاق اڑانے کی بجائے ہڈیاں توڑتا دکھائی دیتا‘‘٭یکسانیت سے فرار انسانی طبیعت کا خاصہ ہے ۔ ٭جہاں انسانی سماج ہے وہاں جرائم ہیں، اور بہ قول ابن صفی: جرائم کسی خاص طبقے تک محدود نہیں، مصلح بھی مجرم ہوسکتا ہے۔٭عورتوں کی عقل ان کے پاؤں میں ہوتی ہے اور مردوں کی عقل ان کی آنکھوں میں، جو اکثر دھوکا کھا جاتی ہیں۔٭مجھے لگتا ہے کہ میری موت بھی کسی بے وقوفی کی وجہ سے ہی ہوگی۔٭قتل کرنا کوئی جرم نہیں، مگر طریقے سے کیا جائے تو یہ ایک فن ہے۔٭جاسوس کا کام دشمن کو ڈھونڈنا نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ دشمن اسے ڈھونڈ تو نہیں رہا۔٭حمید: ۔اگر میں نے جرم کر لیا تو کیا ہوگا؟فریدی:۔ تمہاری بیوقوفی خود گواہی دے گی کہ تم مجرم نہیں ہو سکتے۔٭ہماری قوم بہت ہی امن پسند ہے۔ اسی لیے تو جرائم بھی اتنے خاموشی سے ہوتے ہیں کہ کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا۔٭میراذاتی خیال ہے کہ کوئی شادی شدہ شخص کامیاب جاسوس ہو ہی نہیں سکتا۔ ٭عورت سے قریب رہ کر تم ہرگز عورت کو نہیں پہچان سکتے ۔ کیوں کہ تمہاری جذباتیت جو عورت کے قرب کی وجہ سے جاگتی ہے تمہیں اس کی فطرت کا مطالعہ نہیں کرنے دیتی۔ وہ اس کی کمزوریوں کو حسن اور آرٹ کارنگ دے کر ان کی پردہ پوشی کرنے لگتی ہے (خطرناک بوڑھا) ٭ہماری قوم بہت ہی امن پسند ہے ۔ ایک گدھا آج تک دوسرے گدھے کے لیے مہلک ثابت نہیں ہوااور نہ کبھی کسی گدھے نے یہی کوشش کی کہ دوسرے پر اپنی برتری کارعب ڈالے ۔ ہم سب برابر ی اور بھائی چارے کے قائل ہیں (فرار) اردو شاعری میں مزاحیہ شاعری ایک علیحدہ صنف ہے ۔ جس پر کسی اور لافٹر ڈے پر بات ہوسکتی ہے۔ ملتے ہیں پھر ان شاء اللہ ۔
