اہلِ علم و ادب کی شاندار شرکت، روح پرور ماحول نے سماں باندھ دیا

دولت پور، شراوستی (پریس ریلیز): گزشتہ شب عرسِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی بابرکت مناسبت سے ایک عظیم الشان اور یادگار نعتیہ مشاعرہ، استاذ القرا حضرت قاری محمد اسلم صاحب قبلہ کے دولت پور شراوستی میں واقع کاشانہ پر نہایت ہی شان و شوکت اور روحانیت کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس پروقار تقریب کی سرپرستی بزرگ قاری، استاذ القرا حضرت قاری سلیم صاحب کھرگو پور نے فرمائی۔
مشاعرے کی صدارت کا شرف حنیفہ ضیاء القرآن لکھنؤ کے پرنسپل، رئیس الاساتذہ حضرت قاری ذاکر حسین صاحب کو حاصل ہوا، جنہوں نے اپنی بابرکت شخصیت سے محفل کو نورانیت بخشی اور اپنے قیمتی کلمات سے سامعین کو مستفیض فرمایا۔
تقریب کی کامیابی میں استاذ القرا حضرت قاری ایوب صاحب کی قائدانہ صلاحیتوں کا نمایاں کردار رہا، آپ نے ابتدا سے اختتام تک نہایت ذمہ داری کے ساتھ پروگرام کو سنبھالا، نیز روایتِ اکابر کو زندہ رکھتے ہوئے ایک نہایت مؤثر اور دلنشین انداز میں نعتِ رسول ﷺ پیش کی، جس پر سامعین نے دل کھول کر داد و تحسین پیش کی اور محفل جھوم اٹھی۔
نظامت کے فرائض ماہرزبان وقلم حضرت مولانا جمال اختر صدف گونڈوی نے نہایت عمدگی، سلاست اور شائستگی کے ساتھ انجام دیے، جس نے پوری محفل کو ایک خوبصورت ربط اور تسلسل عطا کیا۔
یہ بابرکت پروگرام برکاتی اسلامک سینٹر کے مینیجر اور سابق استاذ دارالعلوم یتیم خانہ صفویہ کرنیل گنج گونڈہ، استاذ القرا حضرت قاری محمد اسلم صاحب قبلہ کی جانب سے ان کے والد مرحوم محمد اسلام خان (نور اللہ مرقدہ) کے سالانہ فاتحہ کے موقع پر منعقد کیا گیا، جس میں عامۃ الناس کے لیے وسیع پیمانے پر دعوتِ طعام کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
دولت پور اور بنکٹی کا علاقہ چونکہ علماء و قراء کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس روحانی و ادبی محفل میں علمائے کرام اور قراء عظام کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جس نے پروگرام کی رونق کو دوبالا کر دیا۔ مزید برآں ممبئی سمیت دیگر مقامات سے بھی شعراء و علماء کی آمد نے اس تقریب کو یادگار بنا دیا، خصوصاً حضرت مولانا عبد الکلام صاحب امجدی کی فعال شرکت قابلِ ذکر رہی، جنہوں نے پروگرام کے انتظامات سے لے کر مہمان نوازی تک ہر مرحلے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
نعتیہ مشاعرہ اپنی کامیابی، نظم و ضبط اور روحانیت کے لحاظ سے اس قدر مؤثر رہا کہ حاضرین نے اسے علاقہ کا بے مثال پروگرام قرار دیا۔ سامعین آخری وقت تک نہایت سنجیدگی اور انہماک کے ساتھ محفل میں شریک رہے اور ہر شاعر کو بھرپور داد و تحسین کے ساتھ نوازا، نیز انعام و اکرام اور داد ودہش کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
قاری محمد اسلم صاحب قبلہ کے خلوص، مہمان نوازی اور فیاضی نے اسٹیج کے ماحول کو غیر معمولی حسن بخشا۔ ان کی جانب سے شعراء کی دلجوئی اور عزت افزائی نے ایک ایسا دلکش اور یادگار منظر پیش کیا جس کی مثال عموماً بڑے شہروں کے پروگراموں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔
یہ بابرکت محفل رات تقریباً ڈیڑھ بجے تک پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہی اور کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچی۔ اختتام پر استاذ القرا حضرت قاری ایوب صاحب کی قیادت میں قل شریف کا اہتمام کیا گیا، جس میں قاری محمد اسلم صاحب کے والدین کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی، نیز حضرت مولانا فیاض احمد مصباحی صاحب کی چچی کے لیے بھی مغفرت کی دعا کی گئی۔
اس روحانی و ادبی تقریب میں اہلیانِ دولت پور کے علاوہ متعدد معزز شخصیات نے شرکت فرمائی، جن میں یتیم خانہ صفویہ کرنیل گنج گونڈہ کے پرنسپل حضرت مولانا نور النبی اعظمی صاحب، رسیا بازار بہرائچ سے آئے ہوئے حضرت قاری اسلم صاحب، حضرت قاری معصوم رضا اشرفی صاحب، حضرت مولانا ریحان حنفی صاحب، حضرت قاری اقرار صاحب، حضرت قاری رضی اللہ صاحب، حضرت قاری گلفام صاحب، حضرت قاری حضرت علی صاحب سمیت درجنوں علماء و قراء شامل رہے۔
یہ عظیم الشان نعتیہ مشاعرہ اپنے حسنِ انتظام، روحانیت، علمی وقار اور والہانہ عقیدت کے سبب مدتوں یاد رکھا جائے گا۔
مذکورہ اطلاع دارالعلوم انوارِمصطفیٰ سہلاؤ شریف کے ناظم تعلیمات ادیب شہیر حضرت مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی نے پریس ریلیز کے ذریعہ دیا-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے