مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
اس وقت ملت کو جن مسائل اور پریشانیوں کا سامنا ہے، ان میں سے ایک اپنے سرمایہ و اثاثہ کو حقیر سمجھنا اور اجتماعی جدوجہد کے مثبت اثرات کو منفی انداز میں پیش کرنا ہے، ایسے لوگ جب اپنی جدوجہد کا ذکر کرتے ہیں تو آسمان و زمین ایک کر دیتے ہیں، اپنے مضامین، اپنی نثر و نظم، اپنی سیاسی و سماجی خدمات کو اس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کریں گے، جیسے یہ سارا انقلاب انہیں کی رہین منت ہے اور ساری صالح قدریں انہیں کے ذریعہ پروان چڑھتی رہی ہیں۔ انہوں نے خود جہاں پڑھا ہوتا ہے اور جہاں سے وہ اس لائق ہوئے کہ اپنے کو اس لائق سمجھ رہے ہیں وہ ادارے اور تنظیم کی حرکات و سکنات بھی ان کی نظر میں چبھنے لگتی ہیں اور وہ بھی ان کی تنقید و تعریض کا نشانہ بنتے ہیں، اس طرح وہ بتانا چاہتے ہیں کہ میرے اندر غیر معمولی صلاحیت تھی اس لیے اس ماحول میں رہ کر بھی میں اپنے کو بنا سکا، ان کو ہر اگتا ہوا سورج ڈوبتا ہوا اور ہر آدھا بھرا گلاس آدھا خالی نظر آتا ہے۔ اس زاویہ نظر کی وجہ سے ہمارا سارا سرمایہ از کار رفتہ ہو جاتا ہے۔ کسی نے کوئی پرانی تنظیم کے نام پر کوئی نئی تنظیم اسی نام سے بنا لی تو اسے تقسیم کا عمل قرار دے دیا جاتا ہے؛ حالانکہ وہ شخص تو کبھی اس تنظیم کا داخلی فرد تھا ہی نہیں، خارج میں اس تنظیم کے حوالے سے اس کی کوئی خدمت نہیں تھی، اس نے اپنی انا کی تسکین کے لیے ایک ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا لی تو تنظیم کی صلاحیت کس طرح متاثر ہو گئی اور تنظیم میں تقسیم کا عمل کس طرح وجود میں آیا؟ ایسے لوگ خوابوں کی دنیا میں یقین رکھتے ہیں، وہ کسی انجینئرنگ کالج سے ڈاکٹری کی فراغت اور میڈیکل کالج سے انجینئر کے حصول کو حماقت کہتے ہیں؛ لیکن جب معاملہ مدارس اسلامیہ کا آتا ہے تو ان کی خواہش ہوتی ہے کہ چار فی صد طلبہ جو مدرسہ کی چٹائیوں پر بیٹھتے ہیں، انہیں آئی پی ایس، آئی ایس، کمپیوٹر کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر انجینئر، عصری علوم کا ماہر اور خدا جانے کیا کیا ہو کر نکلنا چاہیے۔ انہیں ان چھیانوے فی صد کی کارکردگی کی فکر نہیں ہوتی، جو انہیں موضوعات سے متعلق ان کے اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں؛ لیکن وہ مدارس کے تعلیمی موڈ کو چیلنج کرنے کے لیے بڑے بڑے منصوبے پیش کرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ چھیانوے فی صد کی ایسی منصوبہ بندی آج تک نہیں کر سکے ہیں، جس سے مسلمانوں کی معاشی بدحالی دور ہو اور ملت کے افراد سیاسی، سماجی اور سائنسی میدان میں آگے بڑھ سکیں، اس کے برعکس ان کو مدارس کی تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، جو اس گئے گزرے دور میں بھی اخلاقی اقدار کے فروغ اور صالح معاشرہ کی تشکیل کا بڑا ذریعہ ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان مدارس میں خیرات و زکوٰۃ سے جو رقم حاصل کی گئی ہے، وہ اگر ٹیکس کے نام پر سرکاری خزانے میں جمع ہو جائے تو رفاہ کے بڑے کام ہوں گے، انہیں یہ یاد نہیں رہتا کہ اسلام میں مدات کی رعایت کس قدر ملحوظ ہے، کوئی اگر اس کے خلاف کرتا ہے تو غلط کرتا ہے، یہ فرد کی غلطی ہے، فرد کی غلطی کو اجتماعی بنا کر پیش کرنا عقل اور انصاف دونوں کے خلاف ہے علمی زبان میں کہیں تو ہمارا مزاج قیاس استثنائی کو قیاس استقرائی کا ٹھہرا کر سب کو مورد الزام ٹھہرانے کا بن گیا ہے، اس زاویہ نظر میں تبدیلی کی ضرورت ہے، ایسے لوگ اپنے کو سیکولر اور جمہوری قدروں میں یقین رکھنے کے نام پر اپنے حقوق کی حفاظت اور حصول یابی کی تحریک کو بھی سیاسی عینک سے دیکھتے ہیں، ان کی نظر میں کوئی تحریک چلانا اپنے کو بے وزن کرنے کے مترادف ہے وہ سرکار کے ہر فیصلے پر سر تسلیم خم کر دینا اور اتنا جھکنا کہ دستار گر پڑے کو وزن دار ہونے کی علامت سمجھتے ہیں، وہ ملت کے اس رخ کو پسند کرتے ہیں کہ سب کچھ ہنس ہنس کر سہہ لیا جائے اور اف نہ کیا جائے، ایسے لوگ ملت کے وفادار نہیں ہیں، ہمیں ان کی سازشوں کو سمجھنا چاہیے، اس کے لیے پہلا وار علماء امت پر ہوتا ہے، کیونکہ اس گئے گزرے دور میں بھی یہی مرکز عقیدت و محبت ہیں، اس لئے کوشش کی جاتی ہے کہ ان پر ایسی تنقیدیں کی جائیں کہ امت کا رشتہ علماء امت سے کٹ جائے۔ ہمیں ان معاملات میں مثبت اندازِ فکر کو رواج دینا چاہیے؛ کیوں کہ یہی کامیابی کی شاہ کلید ہے کسی طرح کی منفی سوچ سے ہماری توانائی برباد ہوتی ہے، یقیناً صالح تنقید سے کام کو آگے بڑھانے اور اپنی ناکامیوں پر نگاہ رکھنے میں مدد ملتی ہے؛ لیکن یہ تنقید جب شخصی اور ذاتیاتی حد تک پہونچ جائے اور تنقید برائے تنقیص ہو جائے تو اسے کسی طور مفید نہیں کہا جاسکتا، اس قسم کی کسی بھی کوشش کا نتیجہ مثبت اندازِ فکر کو نقصان پہونچانے کا ہوتا ہے۔
