از: مفتی نذیر احمد حسامی
ناظم تعلیمات مدرسہ اسلامیہ فیضان العلوم ظہیر آباد
اللہ تعالیٰ وہ خالق ہے جس نے انسان کو پیدا کیا، اور پھر اسے بے راہ نہیں چھوڑا۔ ہدایت کے چراغ جلانے کے لیے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا، اور ان چراغوں کی روشنی کو محفوظ رکھنے کے لیے کتابیں نازل فرمائیں۔ اس سلسلے کی آخری کڑی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور آخری صحیفہ قرآن مجید ہے۔ اسلام، گویا زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرنے والا ایک مکمل نقشہ ہے—ایسا نقشہ جس میں عبادت بھی ہے اور عادت بھی، روح بھی ہے اور جسم بھی۔ انہی روشن تعلیمات میں ایک اہم عمل ختنہ بھی ہے۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا عمل ہے، مگر حقیقت میں طہارت، فطرت اور بندگی کا حسین امتزاج ہے۔ اگر اسے سنت کے مطابق ادا کیا جائے تو یہ محض ایک طبی عمل نہیں رہتا، بلکہ عبادت کا درجہ اختیار کر لیتا ہے۔ آج کے دور میں جب گرمیوں کی آمد ہوتی ہے تو گھروں میں بچوں کے ختنہ کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ والدین بچوں کی صحت کے لیے بہترین ڈاکٹروں اور مشہور دواخانوں کا رخ کرتے ہیں، اور اس پر کثیر رقم بھی خرچ کرتے ہیں، لیکن افسوس! اس سنتِ ابراہیمی کے ساتھ ایسی رسمیں بھی جڑ گئی ہیں جو اس کی روح کو دھندلا دیتی ہیں، یوں عبادت کا چراغ رسم و رواج کی دھند میں مدھم پڑ جاتا ہے۔
ختنہ: لفظ، مفہوم اور تاریخ
ختنہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں “کاٹ دینا”، چونکہ اس عمل میں عضو کے زائد حصے کو کاٹا جاتا ہے اس لیے اسے ختنہ کہا جاتا ہے۔ یہ کوئی نیا عمل نہیں بلکہ زمانۂ قدیم سے جاری ہے، اسلام سے پہلے بھی یہ رواج موجود تھا اور دیگر مذاہب—خصوصاً یہودیت—میں آج بھی اسے مذہبی حیثیت حاصل ہے، جبکہ عیسائیت میں اگرچہ مذہبی طور پر ترک ہو چکا مگر طبی نقطۂ نظر سے اب بھی رائج ہے۔ اسلامی تاریخ کا ورق پلٹیں تو سب سے پہلی نمایاں شخصیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نظر آتی ہے، جنہوں نے ختنہ کیا۔ حدیث میں آتا ہے: "أول من اختتن إبراهيم عليه السلام” (سب سے پہلے ختنہ کرنے والے حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں) — (صحیح بخاری) اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اسی (80) سال کی عمر میں ختنہ کیا۔ یہ واقعہ گویا صبر و اطاعت کی ایک روشن مثال ہے، عمر کی شام ہو یا جوانی کی صبح—اللہ کا حکم سر آنکھوں پر۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ﴿وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ﴾ (البقرہ: 124) یعنی اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو مختلف آزمائشوں میں ڈالا، اور انہوں نے سب کو پورا کیا۔ علماء لکھتے ہیں کہ ان آزمائشوں میں ختنہ بھی شامل تھا۔
اہم نکات اور شرعی رہنمائی
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عمل سے کئی سبق ملتے ہیں: ختنہ کی اہمیت عمر کی قید سے آزاد ہے، اللہ کا حکم آئے تو تاخیر نہیں بلکہ تعمیل ہونی چاہیے، اور اگر کوئی شخص بڑی عمر میں اسلام قبول کرے تو اسے بھی ختنہ کرنا چاہیے الا یہ کہ کوئی طبی مجبوری ہو۔
ختنہ: فطرت کی پکار
احادیث میں ختنہ کو فطرت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "خمس من الفطرة…” (پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں…) — (صحیح مسلم) جن میں ختنہ بھی شامل ہے۔ یہ محض ایک عمل نہیں بلکہ انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ کئی انبیاء پیدائشی طور پر مختون تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی شان کے ساتھ دنیا میں تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کا ساتویں دن عقیقہ بھی کیا اور ختنہ بھی کروایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں ممکن ہو جلد ختنہ کرنا بہتر ہے—بشرطیکہ بچے کی صحت اجازت دے۔
جلد ختنہ: حکمت اور فائدہ
جلدی ختنہ کرنے میں کئی فائدے ہیں: بچے کو کم تکلیف ہوتی ہے، بے پردگی کا اندیشہ نہیں رہتا، اور زخم جلد بھر جاتا ہے۔ گویا یہ عمل ایسے ہے جیسے نرم مٹی میں بیج بو دیا جائے—آسانی بھی اور فائدہ بھی۔
طہارت، صحت اور حکمت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ختنہ کو طہارت اور پاکیزگی کا ذریعہ قرار دیا۔ قرآن میں ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾ (البقرہ: 222) یعنی اللہ پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اور حدیث میں ہے: "الطهور شطر الإيمان” (پاکیزگی آدھا ایمان ہے) — (صحیح مسلم) طہارت، صحت کا دروازہ ہے، جہاں صفائی ہوگی وہاں بیماریوں کے جراثیم دم توڑ دیں گے۔ جدید تحقیق بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ ختنہ کئی بیماریوں—جیسے ایڈز، سوزش اور بعض اقسام کے کینسر—سے بچاؤ کا ذریعہ بنتا ہے۔ یوں اسلام کا ہر حکم ایک روشن چراغ ہے—جس میں دین بھی ہے اور دنیا بھی۔
سنت طریقۂ ختنہ
ختنہ کا مسنون طریقہ نہایت سادہ ہے: جب بچہ جسمانی طور پر تیار ہو جائے تو ختنہ کر دیا جائے، کسی ماہر ڈاکٹر یا معالج سے کروانا درست ہے، زائد چمڑے کو کاٹ دیا جائے، اور بعد میں زخم کی دیکھ بھال اور علاج کیا جائے۔ صحت یاب ہونے کے بعد صفائی کے لیے غسل دیا جا سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
رسم و رواج: روح کے دشمن
افسوس کہ آج اس سادہ سنت کے ساتھ کئی غیر ضروری رسمیں جڑ گئی ہیں: کئی بچوں کا ایک ساتھ ختنہ کرنا، مہندی لگانا اور خاص کپڑے پہنانا، مخصوص کھانے اور دعوتیں کرنا، تحفے اور ہدیے دینا، اور “ختنہ کے دن” منانا۔ یہ سب ایسے بوجھ ہیں جو سنت کے پر کو بوجھل کر دیتے ہیں۔ شریعت میں ان کا کوئی ثبوت نہیں۔ یہ ایسے ہے جیسے خالص پانی میں رنگ ملا دیا جائے—نہ پانی اپنی اصل میں رہے نہ رنگ خالص ہو۔
حاصلِ کلام
ختنہ محض ایک رسم نہیں بلکہ شعائرِ اسلام میں سے ہے، یہ طہارت کی علامت ہے، فطرت کی صدا ہے اور سنتِ ابراہیمی کی یادگار ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ختنہ کو سنت کے مطابق کیا جائے، غیر ضروری رسموں سے بچا جائے اور اس عمل کو عبادت سمجھ کر ادا کیا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو یہی چھوٹا سا عمل بندے کے نامۂ اعمال میں ایک روشن باب بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہر عمل کو سنت کے مطابق کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
