(4؍مئی شہادت کے حوالے سے )

محمدیوسف رحیم بیدری

ٹیپو جینتی مخالف حالات اکتوبر 2017ء کے پس منظر میںحضرت ٹیپو سلطان شہید رحمۃ اللہ علیہ پر میرؔبیدری نے چند اشعار کہے تھے ، ملاحظہ فرمائیں    ؎
ہند سے عشق کا اک منشور تھے ٹیپو سلطان ؒ
اِس بھارت کا کوہِ نور تھے ٹیپو سلطان ؒ
جاتی واد سے ہر دم دور تھے ٹیپو سلطان ؒ
ایسے وہ شیرِ میسور تھے ٹیپو سلطان ؒ
جب کہ پڑوس میں مندر تھا، اِس کو نہ ہٹایا
ہندوؤں سے چاہت کا طور تھے ٹیپو سلطان
ذکرِ مسلم کیا، ہندو کا جینا روا تھا
ایسا اسلامی دستور تھے  ٹیپو سلطان ؒ
انگریزوں کے حوالے کیا دو فرزندوں کو
قسمت کے آگے مجبور تھے ٹیپو سلطان ؒ
سچ ہے، زمینِ ہند بچانے وہ تو شہید ہوئے
ناداں کہتا ہے مغرور تھے ٹیپو سلطان ؒ
ہوش کے ناخن لو، ٹیپو کے دشمن لوگو!
رام کے بھارت کا منصور تھے ٹیپو سلطان ؒ
( بحوالہ شعری مجموعہ ’’سرخاب ‘‘ میربیدری، صفحہ 72اور 73۔ اشاعت :ستمبر 2020؁ء )
ویکی پیڈیا ٹیپوسلطان کے بارے میں ازحد اہم معلومات دیتاہے۔ اس کے نزدیک ’’سلطان فتح علی صاحب ٹیپو 20 نومبر، 1750ء کو پیدا ہوئے اور ان کی وفات(شہادت)4 مئی، 1799ء کوہوئی۔ سلطان حیدر علی کے سب سے بڑے فرزند، جنھیں میسور کا شیر بھی کہا جاتا ہے ریاست میسور کے حکمران تھے۔ ہندوستان کے اصلاح و حریت پسندحکمران، بین المذاہب ہم آہنگی کی زندہ جاوید مثال، طغرق (فوجی راکٹ) کے موجد تھے۔ انھوں نے اپنی حکمرانی کے دوران متعدد انتظامی اختراعات متعارف کروائیں، جن میں ایک نیا سکوں کا نظام اور کیلنڈر اور ایک نیا زمینی محصول کا نظام شامل تھا، جس کی وجہ سے میسور کی ریشم کی صنعت نے ترقی کا آغاز کیا۔ انھوں نے میسوری راکٹ اور فوجی دستہ فتح المجاہدین کو قائم کیا۔ انھوں نے اینگلو میسور جنگوں کے دوران برطانوی افواج اور ان کے اتحادیوں کی پیش قدمی کے خلاف راکٹوں کو استعمال کیا۔ٹیپو سلطان اور ان کے والد نے اپنی فوج جو فرانسیسی تربیت یافتہ تھے کو انگریزوں کے خلاف اپنی جدوجہد میں فرانسیسیوں کے ساتھ اتحاد میں استعمال کیا۔ 1782ء میں حیدر علی کی کینسر سے موت کے بعد ٹیپو سلطان نے میسور کے حکمران کے طور پر ان کی جگہ لی۔ انھوں نے دوسری اینگلو میسور جنگ میں انگریزوں کے خلاف اہم فتوحات حاصل کیں اور منگلور کے 1784ء کے معاہدے پر بات چیت کی جس کے ساتھ، دوسری اینگلو میسور جنگ کا خاتمہ ہوا۔ٹیپو سلطان برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے ایک ناقابل تسخیر دشمن رہے، جس نے 1789ء میں برطانوی اتحادی ٹراوانکور پر اپنے حملے کے ساتھ تنازعات کو جنم دیا اور تیسری اینگلو میسور جنگ میں انگریزوں کو سرینگا پٹم کے معاہدے پر مجبور کیا جس سے انگریزوں کو پہلے فتح کیے گئے متعدد علاقوں کو کھونا پڑا۔ انھوں نے سلطنت عثمانیہ، افغانستان اور فرانس سمیت غیر ملکی ریاستوں میں سفیر بھیجے تاکہ برطانیہ کی مخالفت کو اکٹھا کیا جاسکے۔ چوتھی اینگلو میسور جنگ میں، برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے فوجیوں کی ایک مشترکہ قوت، جس کی حمایت مراٹھوں اور نظام حیدرآباد نے کی تھی جس میں ٹیپو سلطان کو شکست ہوئی۔ اوروہ 4 مئی 1799ء کو اپنے سرنگا پٹم کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ آج 4؍مئی ہے۔ آج ہی کے دن ٹیپوسلطان شہید کا ’’یوم ِ شہادت‘‘ انتہائی احترام سے عوامی سطح پر  منایاجاتاہے ، جس کو سرکاری سطح پر بھی منانے کی ضرورت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔نوجوان مؤرخ آفتاب عالم شاہ نوری ٹیپوسلطان کی بابت اپنی تازہ ترین تصنیف میں لکھتے ہیں ’’ٹیپو سلطان 20 نومبر، 1750ء (بمطابق جمعہ 20 ذوالحجہ، 1163ھ) کو دیوانہالی(دیونہلی) میں پیدا ہوئے۔ ٹیپو سلطان کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ موجودہ دور میں یہ بنگلور دیہی ضلع کا مقام ہے، جو بنگلور شہر کے 33 کلومیٹر (21 میل) شمال میں واقع ہے۔ حیدر علی نے نرینہ اولاد کی آرزو میں آرکاٹ کے مشہور بزرگ ٹیپو مستان کی مزار پر دعا مانگی تھی، اسی لیے بیٹے کا نام انہی بزرگ کے نام پر ٹیپو سلطان رکھا گیا۔ اپنے دادا فتح محمد کے نام کی مناسبت سے فتح علی بھی کہا جاتا تھا۔ حیدر علی نے ٹیپو سلطان کی تعلیم پر خاص توجہ دی اور فوج اور سیاسی امور میں اسے نو عمری میں ہی شامل کیا۔ 17 سال کی عمر میں ٹیپو سلطان کو اہم سفارتی اور فوجی امور پر آزادانہ اختیار دے دیا۔ اسے اپنے والد حیدر علی، جو جنوبی ہند کے سب سے طاقتور حکمران کے طور پر ابھر کر سامنے آئے، کا مکمل اعتماد حاصل تھا۔تخت نشینی کے بعد ٹیپو سلطان نے ہندو مسلم بھائی چارگی اور اتحاد کا ایسا نمونہ پیش کیا، جسے عام طور پر سراہا جاتا ہے۔ ٹیپو سلطان نے قابلیت و اہلیت کی بنیاد پر عہدے اور مناصب عطا کیے۔ ان کی فوج اور انتظامیہ میں متعدد ہندو افسران کلیدی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھے۔ ٹیپو سلطان نے میر آصف کے اہم منصب پر پورنیا کو فائز کیا، کرشن راؤ کو افسرِ خزانہ بنایا، جبکہ شمیا آئینگار ڈاک اور پولیس کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے۔ ان کے بھائی نرسنگ راؤ سرنگاپٹنم میں متعدد اہم عہدوں پر فائز رہے۔ سری نواس راؤ اپاجی رام سلطان کے معتمد خاص تھے اور انہیں مختلف سفارتی مشنوں پر بھیجا جاتا تھا۔ مولچند اور سوجان رائے مغل دربار میں سلطان کے وکیل تھے۔ نائیک راؤ اور نائیک سنگانا پر بھی سلطان کو حد درجہ اعتماد تھا۔ سلطان کا پیشکارِ خاص، منشی نرسیہ، اور کئی دوسرے انتظامی افسران ہندو برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک برہمن کو کورگ کا فوجدار مقرر کیا گیا، ایک کو مالابار کے جنگل کاٹنے کا بلا شرکت غیرے ٹھیکہ دیا گیا، اور ایک دوسرے برہمن کو کو ئمبٹور کا آصف مقرر کیا گیا۔ٹیپو سلطان نے نہ صرف ہندو افسران کو ذمہ داریاں دیں بلکہ مملکت کے کئی مندروں کی سرپرستی بھی کی۔ سرنگیری کا مندر اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ محب الحسن کی کتاب ”تاریخ ٹیپو سلطان” کے مطابق، سلطان نے متعدد مندروں کو عطیات اور قیمتی اشیاء پیش کیں۔ تعلقہ ننجن گوڈ کے گاؤں کلالے کے مندر میں نقرئی ظروف کے چار پیالے، ایک پلیٹ اور اگالدان موجود ہیں، جن پر کندہ کتبوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ برتن سلطان نے نذر کیے تھے۔ میل کوٹ کے نارائن سوامی مندر میں جواہرات اور چاندی کے برتن آج بھی محفوظ ہیں، جن پر کندہ عبارتیں سلطان کی پیشکش کا ثبوت دیتی ہیں۔ 1785ء میں اسی مندر کو بارہ ہاتھی اور 1786ء میں ایک نقارہ پیش کیا گیا۔ ننجن گوڈ کے سری کنٹیشور مندر کو سلطان نے ایک مرصع پیالہ عطا کیا، جس کے نچلے حصے میں پانچ قیمتی جواہرات جڑے تھے۔ اسی طرح سری رنگاپٹنم کے رنگ مندر میں چاندی کا کافور دان اور دیگر قیمتی اشیاء موجود ہیں، جن کی کندہ عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ٹیپو سلطان نے بطور تحفہ پیش کی تھیں۔یوں ٹیپوسلطان نے اپنی حکمرانی میں نہ صرف مذہبی رواداری کی روشن مثال قایم کی بلکہ عملی اقدامات کے ذریعہ ہندومسلم اتحاد کو فروغ دیا۔ (بحوالہ کتاب ’’محمدبن قاسم سے بہادرشاہ ظفر تک ۔ مسلمانوں کاعروج وزوال ‘‘ مرتب:آفتاب عالم ؔشاہ نوری ۔ اشاعت :مارچ 2026؁ء، صفحہ 171تا173)
اس طویل اقتباس میں مردمجاہد اور شہید ٹیپوکی پیدائش سے لے کر ہندوؤں کو دئے جانے والے مراعات کا ذکر ہے۔ان مندرجات پر دوسرے مؤرخین کی بھی ہم گواہی لینا چاہیں گے ۔ اور دوسرے کارناموں کابھی ذکر ہوگا۔ پروفیسر کریم الدین ایک مضمون ’’تاریخی حقائق‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ ریاست میسور آج ایک نام ہے، اس کا محرک کون تھا؟ یقیناً سلطان ٹیپو ہی تھے، جبکہ میسور  وڈ یار کے زمانے میں اس کی حکومت صرف 33 قریوں تک محدود تھی، اس چھوٹی سی سلطنت کو 80 ہزار میل تک پھیلا نے کا سہرا سلطان ہی کے سر جاتا ہے۔ کورگ اور مالابار کے ساحل تک ریاست میسور کے پھریرے لہرائے ہیں۔ عوامی انقلاب کے داعی، عوامی بینک کے بانی جہاں زیادہ روپیہ جمع کرنے والوں کو کم منافع اور غرباء کو کم رقم جمع کرنے والوں کو زیادہ منافع دیا جاتا تھا راکٹ ٹیکنالوجی کے باوا آدم اور کہو تو آج چاند پر قدم رکھنے کے کام کے موجد  سلطان شہید ہی ہیں۔(بحوالہ کتاب ’’مردِ حریت سلطان ٹیپو ‘‘ ۔ مضمون ’’تاریخی حقائق ‘‘از:پروفیسر کریم الدین ، سری رنگ پٹن ،ص24)
قاضی محمد انیس الحق اپنے  مضمون ’’ٹیپوکی عظمت ‘‘میں لکھتے ہیں  ’’سابق صدرِ ہند ڈاکٹر ابوزین العابدین عبد الکلام اپنی تصنیف Wings of fire  میں فرماتے ہیں کہ جب وہ ان کو ایک خلائی سائنسدان کی حیثیت سے ایک کانفرنس میں Nasa مدعو کیا گیا تھا تو چائے کے وقفے میں وہ پہلی منزل کی بالکنی سے نیچے برآمدے میں پینٹ کی گئیں تصویر کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی نظر ایک بڑی پینٹنگ پر رک گئی۔ جس میں غیر یورپی لوگوں کو فضا میں راکٹ داغتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ وہ تجسس سے زینے طے کرتے ہوئے پینٹنگ کے پاس پہنچے اور اس پہ لکھا دیکھا کہ ٹیپو سلطان کے سائنسدان خلائی راکٹ کا تجربہ کر رہے ہیں اور اس کے موجد ٹیپو سلطان کے سائنسدان ہیں۔ اس سے بڑا خراجِ عقیدت ٹیپو سلطان کے لئے کیا ہو سکتا ہے؟(بحوالہ کتاب ’’مردِ حریت سلطان ٹیپو ‘‘مصنف:ڈاکٹر سی وائی ایس خان بنگلور ، ص44)
ڈاکٹر صبغتہ اللہ اپنے مضمون ’’بے مثال شخصیت ‘‘ میں ٹیپوسلطان کی زرعی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے تاریخی حوالوں سے لکھتے ہیں ’’سلطان ایک بہت اعلیٰ انجینئر بھی تھے، زرعی ترقی کے لئے دریائے کاویری پر تین ڈیاموں، سدمحی، سدمحمدی اور سد منعم بنانے کی پلاننگ کی تاکہ دریائے کاویری کے پانی کو منظم طریقہ سے استعمال میں لایا جاسکے اور رعایا اس سے مناسب فائدہ اٹھائے۔ اس کے لئے سرکار کی طرف سے لاکھوں روپیہ خرچ کیا گیا۔ ’’سدمحی‘‘ جو آج کرشناراج ساگر کے نام سے موجود ہے اس کی بنیاد سلطان نے کنم باڑی کے مقام پر اپنی شہادت سے گیارہ مہینے پہلے رکھی۔ زوال سلطنت کے بعد اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ بالآخر مہاراجہ کرشناراج وڈیر کے دور حکومت میں سریم وسویشوریا نے اس ڈیام کو بنایا۔ جب ڈیام کے لئے بنیاد کھودی جا رہی تھی تو سلطان کے دور کا کتبہ ملا جس پر فارسی عبارت کندہ ہے۔ جس میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ حضرت ٹیپو سلطان نے سدمحی نام کے اس پشتہ کی بنیاد رکھی۔ ڈیام جب پایہ تکمیل کو پہنچا تو یہ کتبہ ڈیام کے صدر دروازے پر انگریزی اور کنڑا ترجمہ کے ساتھ نصب کیا گیا۔ سلطان نے اس پشتہ کے علاوہ دارالسلطنت کے مشرق میں سدمحی کی سنگ بنیاد رکھنے کے دو دن بعد سدمحمدی اور سد منعم کی بنیاد رکھی تھی۔ لیکن اس کتبہ کا پتہ نہیں چلتا۔ البتہ کتبہ کا چربہ میسور کے سلیم تمنائی مرحوم کے ذاتی کتب خانہ میں مخطوطوں کے ساتھ میں نے اپنے ریسرچ کے دوران 25 برس قبل دیکھا تھا۔ زرعی پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ کاویری ندی پانی کے بھرپور استعمال سے سارا علاقہ مرغزار بن گیا۔ ریاست میں ہر طرف شادابی نظر آتی ہے۔ کاشت کرتے کرتے کسان اپنی اپنی زمینوں میں گھر بنانے لگے۔ اس طرح دور دور گھر بنتے بنتے گاؤں اور بستیاں آباد ہونے لگیں۔ کسان خوشحال زندگی بسر کرنے لگے۔ (بحوالہ کتاب ’’مرد حریت سلطان ٹیپو ‘‘صفحہ 57)
مسلمانوں میں درآئی خرابیوں میں ٹیپوسلطان نے کی اصلاح :۔ 
معروف محقق ڈاکٹر سی وائی ایس خان نے ٹیپوسلطان پر دوکتابیں لکھی ہیں ، اور ان کی تحقیق کو معتبر مانا جاتا ہے۔ موصوف نے ٹیپوسلطان کے دور حکومت میں مسلمانوںمیں درآئی سماجی خرابیوںاور مذہب سے لاپروائی پر بھی بات کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’ اس بہادر سپاہی کی ساری زندگی جنگوں میں ہی گزری اور ‘سلطنتِ خداداد’ کی بنیادیں بہت مضبوط ہو گئیں۔ اور ایسے ہی دنوں میں سلطان تخت نشین ہوئے تھے۔ اور جب سلطان نے دیکھا کہ کیسے مسلمان مذہب سے دور ہوتے جا رہے ہیں تو سلطان نے کچھ قانون لاگو کئے جس میں: 1) بلا امتیاز مذہب منشیات کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا۔2) ہر شہر اور گاؤں میں قاضی مقرر کیے گئے۔ جن کی ذمہ داری یہ تھی کہ مسلمانوں کی نگرانی اور رہنمائی کریں۔ اور مذہب کی طرف راغب کریں۔ 3) مسلمانوں کو مذہب سے آشنا کرنے کے لیے کتاب فتح المجاہدین کے پہلے باب کی ہزار ہا نقلیں ملک میں مفت تقسیم کی گئیں۔ معلوم ہو کہ اس کتاب کے پہلے باب میںمسائل، عقائد و نماز وتر کہ وغیرہ پر زیادہ روشنی ڈالی گئی تھی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ نمازِ جمعہ میں پڑھے جانے والے خطبات بھی شامل کیے گئے تھے۔ ان دنوں مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ لوگ مسجد میں جانا ہی ترک کر چکے تھے۔ اذاںدینا کسی کو آتا ہی نہیں تھا۔ نماز نہ پڑھتے تھے اور نہ پڑھانے دیتے تھے۔ رمضان کے روزے صرف کتابوں میں رہ گئے تھے۔ کلمہ بہت کم مسلمانوں کو آتا تھا۔ مسلمانوں کی اسی حالتِ غیر کو دیکھ کر سلطان بہت افسردہ ہو گئے تھے۔ 4) ان دنوں پیری اور مریدی کا بہت رواج تھا اور لوگ اسے اپنا پیشہ بنائے ہوئے
تھے۔ اس پیشے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ معلوم ہو کہ ان دنوں مرشدوں کا یہ عالم تھا کہ لوگ جھک جھک کر ان کی قدم بوسی کرتے تھے ان مرشدوں اور پیروں سے بذاتِ خود مرادیں مانگی جاتی تھیں۔ اور مرشد اس بات کا فائدہ اٹھا کر عورتوں کا استحصال کرتے، رات رات بھر عورتوں کو اپنے پاس رکھ لیتے گویا لوگ غلام بن گئے تھے، نیاز و تحائف، چڑھاوے دینا ایک عام بات تھی۔ مرشدین کی عادت تھی کہ معصوم عوام کو گمراہ کر کے یہ بتایا جاتا تھا کہ اگر پیر و مرشد کی دعائیں نہ لی گئیں اور ان کی خدمت نہیں کی گئی تو خاندان تباہ ہو جائیں گے۔ لہٰذا ہر مسلمان ان کے بہکاوے میں آ کر ان کی بات مان لیتے تھے۔ گھر کا ہر کام ان مرشدوں کی مرضی سے ہی ہوا کرتا تھا۔ حد یہ تھی کہ مرشد کا بے روک ٹوک داخلہ گھروں میں تک ہوتا۔ اگر مرشد کی بات گھر کی بہوئیں اور بیٹیاں نہ مانتی تھیں تو ان پر شیطانی سایہ بتا کر انہیں درگاہوں میں زنجیروں میں جکڑ کر ستایا جاتا، استحصال کیا جاتا تھا۔ یہ لڑکیاںراتوں کو ٹھنڈ میں برہنہ، زنجیروں میں باندھ لیے جانے سے تنگ آ کر مرشدوں کا حکم بجالاتی تھیں تو انہیں شیطانی طاقتوں سے رہائی دلوائی جاتی تھی۔ اور گھر بھیج دیا جاتا تھا۔ اور جب ضرورت ہوتی تو انہیں درگاہ واپس بلوایا جاتا تھا۔ ایسی دھاندلیاں ہر مرشد اپنائے ہوئے تھا۔ لہٰذا ان پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ 5) محرم کی ان رسومات کو جو دکن کی اسلامی شیعہ سلطنتوں کے زمانے سے چلی آتی تھیں ان سب رسموں کو ممنوع قرار دیا گیا۔ ان رسموں میں باگھ کا حال ڈال لینا، شیر کا حال ڈال لینا، ریچھ جیسا بن جانا، بندر بن جانا، سوانگ رچانا، ڈھول کی تال پر ناچنا، گروہ بنانا وغیرہ شامل تھا۔
رسم و رواج پر پابندی کا نتیجہ:۔ جب سلطان کی طرف سے اصلاحات جاری ہوئیں تو نتیجہ یہ نکلا کہ وہ حلقہ جو پیری مریدی کا دھندہ کرتا تھا ان کا بزنس بند ہو گیا جو ان لوگوں کی روٹی روزی بھی تھی۔ اور عیاشی کا ایک بہترین ذریعہ بھی تھی۔ سلطان کے خلاف ہو گیا۔ان دنوں لارڈ کارنوالس نے مسلمانوں کے اس عقیدہ اور پیری مریدی کی حرکات کا فائدہ اٹھا کر مذہبی آزادی کا اعلان کر دیا۔ اور خصوصیت سے محرم منانے کی اجازت دی اور بذاتِ خود ان رسومات میں حصہ لینے لگا۔ وہ علم اپنے ہاتھوں میں لے کر جلوس کے ساتھ کچھ دیر چلتا اور علموں کی تعظیم بھی کرتا جاتا تھا۔ کارنوالس کا ایسا کرنا جاہل مسلمانوں پر بہت اثر انداز ہوا اور سب نے ایک زبان ہو کر کہا کہ مسلمان بادشاہوں سے فرنگی اچھے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف جب پیری مریدی پر پابندیاں عائد ہوئی تھیں تو پیر و مرشد جو اہل سادات ہوتے تھے۔ ان سب کو یہ پابندی نہایت گراں گزری۔ کیونکہ دکن کی اسلامی حکومتیں ان پر ضرورت سے زیادہ ہی مہربانیاں کیا کرتی تھیں۔ بلکہ جاگیر اور وظائف تک جاری تھے۔ ایسا چلن آرکاٹ اور سرا میں ہوتا آیا تھا۔ بات یہاں تک آ گئی تھی کہ اگر وہ پیر و مرشد نہیں بھی رہے تو بھی ان پر حکومتیں بہت مہربانیاں کرتی تھیں۔ ایسی صورت میں سلطان کاان سے جاگیریں چھین لینا وظائف بند کردینا انہیںبہت برالگاتھا۔ حالانکہ سلطان نے ان کے لئے کچھ اور ہی سوچ رکھاتھا۔ لہٰذان سب کو سرکاری ملازمتیں دی گئیں اور انہیں تجارت کرنے کی ترغیب دی گئی ۔ بڑی بات یہ ہوئی کہ ان سب کو اتنی زیادہ رعایتیں ،ملازمتوں اور تجارتوں میں دی گئیں کہ جو پیرومرشد نہیں تھااور وہ صرف سیدتھاتو اس کے بھی وارے نیارے ہوگئے تھے۔ (بحوالہ کتاب ’’مردِ حریت سلطان ٹیپو ‘‘ مصنف : ڈاکٹرسی وائی ایس خان ، بنگلور ،ص216تا219) یہی صورت حال برہمنوں کی رہی۔ وہاں بھی اصلاحات کی گئیں تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اور اس طرح حکومت کے اندرمخصوص طبقوں نے گویا بے اطمینانی کااظہار کیا اور پھر انگریزوں سے مل گئے۔ آخر کا رایک بے باک اور بے لوث سلطنت ِ خدادا کا خاتمہ ٹیپوسلطان کی موت کے ساتھ ہوا۔
ناکامی مگر عظمت کانشان باقی:۔ اس بارے میں پروفیسر بی شیخ علی ’’ایک فوق الادراک ہستی ‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں ’’سلطان بظاہر اپنے مقصد میںکامیاب نہ ہوسکے لیکن ان کی ناکامی ہی ان کی عظمت کی نشان ہے۔ ان کی ایثار و قربانی ہی ان کی سربلندی و سرفرازی کی علامت ہے۔ ان کی شہادت ہی ان کی حیاتِ جاویداں کی ضامن ہے۔ سقراط کو زہر کا پیالہ دیا گیا۔ حضرت زکریا علیہ السلام کا سر کاٹا گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی قرار دی گئی(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوسولی نہیں دی جاسکی ، وہ آسمانِ دنیا پر اٹھالئے گئے ۔اورقیامت کے قریب ان کی دنیا میں واپسی ہوگی ۔اور ساری دنیا انہیں آسمان سے اترتے ہوئے سرکی آنکھوں سے دیکھے گی۔ یوسف رحیم)۔ حضرت امام حسین کو کربلا کا واقعہ پیش آیا۔ نپولین کو قید، ابراہم لنکن کو قتل، گاندھی جی کو گولی، مگر ان سب کے سر پر عظمت کا تاج۔ اسی طرح حضرت ٹیپو سلطان شہید کے سر پر عظمت کا وہ تاج رہے گا جو روزانہ گنبدِ اعلیٰ پر عیاں ہے۔ دنیا کے کسی شہنشاہ یا حکمران یا عظیم ہستی کو وہ شرف حاصل نہیں جو سلطان کے حصہ میں آیا یعنی ہر مہینے کے تیس دن، ہر سال کے بارہ مہینوں میں زائرین کا ہجوم ان کی تربت پر عقیدت کے پھول برسائے۔ نپولین، فاتح عالم، ذلت کی موت مرا، مگر سلطان معظم کی وہ شان کہ فرشتے رشک کریں   ؎
چناں بہ زی کہ اگر مرگ تست مرگ دوام
 خدا ز کردہء خود شرمسار گردر
(ایسی زندگی بسر کر کہ اگر تجھ کو موت آجائے تو حیاتِ جاویدانی نصیب ہو اور خدا جو تجھ کو پیدا کیا ہے خود شرمسار ہو جائے کہ خلقت کو کیسے بندے سے محروم کر دیا گیا۔)(بحوالہ کتاب ’’مردِ حریت سلطان ٹیپو ‘‘ مصنف :ڈاکٹر سی وائی یس خان بنگلورص21)
ٹیپوسلطان کی زندگی سے متعلق مختلف شعراء کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔ عرش ملسیانی اپنی نظم ’’ارض وطن ‘‘ میں لکھتے ہیں    ؎
اوٹی شملہ دارجلنگ سے شہر بسانے والے ہو
تاتیا ٹوپے لکشمی بائی ٹیپوکی اولاد ہوتم
فضل حق خیرآبادی نظم ’’زندہ باد اے وطن‘‘ میں لکھتے ہیں   ؎
توبھگت سنگھ کی آنکھوں کاتارابنا
ٹیپوسلطان کاتو دلارا بنا
اسی طرح اور کچھ اشعار دیکھئے   ؎
ہمیں گوتم ہمیں گاندھی ، ہمیں ذاکر ، ہمیں نہرو
ہمیں چشتی ، ہمیں نانک ہمیں حیدر ، ہمیں ٹیپو
کیف احمد صدیقی
پلاتی ہیں کسے اب دودھ مائیں باوضوہوکر
تبھی تو ہم میں اب ٹیپوکوئی پیدا نہیں ہوتا
انس نبیل
مرگیا مصداق ؔ بھی سلطان ٹیپوکی طرح
دیکھ کر ہم رازاپنا دشمن جانی کے ساتھ
مصداق اعظمی
حوصلہ جس کاجواں ہوتاہے ٹیپوکی طرح
ظلم کے سانپ کا سربڑھ کے کچل دیتاہے
عمران ثانی
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے