عبدالغفار صدیقی

پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کے نتائج آ چکے ہیں۔ سب سے زیادہ چونکانے والے نتائج مغربی بنگال کے ہیں، جہاں آزادی کے بعد پہلی بار کنول کھل گیا ہے۔ حالانکہ انتخابات کے بعد آنے والے ایگزٹ پول میں بھی کئی سروے ایجنسیوں نے بی جے پی کی جیت کی پیشین گوئی کی تھی، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے اتنی نشستوں کی امید کسی کو نہیں تھی، خود پارٹی کے اعلیٰ ذمہ داران کو بھی نہیں؛ وہ بھی بس معمولی فرق سے اکثریت کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ اس جیت کے نتائج کیا ہوں گے؟ ٹی ایم سی کی ہار کے اسباب کیا ہیں؟ آئندہ اپوزیشن جماعتوں کا کیا لائحہ عمل ہونا چاہیے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر آنے والے دنوں میں غور و فکر کیا جائے گا اور ان کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ جب سے مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آئی ہے، اپوزیشن جماعتیں یکے بعد دیگرے ریاستوں میں اپنی سرکاریں کھوتی جا رہی ہیں۔ آج ملک کی تقریباً 22 ریاستوں میں زعفرانی قیادت ہے۔

جب سے مرکز اور مختلف ریاستوں میں بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، ملک میں چند بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ ان میں کچھ تبدیلیاں عوام کے لیے مثبت اور مفید ہیں تو کچھ تبدیلیاں عوام اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے تکلیف دہ ہیں۔ اگر ہم مفید و مثبت پہلو تلاش کریں تو ملک نے کئی شعبوں میں ترقی کی ہے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا، آیوشمان بھارت یوجنا، سوامی بھارت مشن اور پردھان منتری اُجولا یوجنا جیسے اقدامات بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت کی اہم فلاحی اسکیمیں سمجھی جاتی ہیں۔ جن دھن یوجنا کے تحت 2024 تک 50 کروڑ سے زائد بینک اکاؤنٹس کھولے گئے جن میں 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ رقم جمع ہوئی، اور تقریباً 55 فیصد کھاتے خواتین کے نام پر ہیں، جس سے براہِ راست امداد کی منتقلی ممکن ہوئی اور بدعنوانی میں کمی آئی۔ اسی طرح آیوشمان بھارت یوجنا کے تحت تقریباً 50 کروڑ افراد کو صحت بیمہ کی سہولت دی گئی، اب تک 6 کروڑ سے زائد علاج ہو چکے ہیں اور ہر خاندان کو سالانہ 5 لاکھ روپے تک علاج کی سہولت حاصل ہے، جس سے غریب طبقات کو مہنگے علاج کا بوجھ کم محسوس ہوا۔ مزید برآں ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کے ذریعے سرکاری خدمات کو آن لائن کیا گیا اور ملک میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 80 کروڑ سے تجاوز کر گئی، جب کہ متحدہ ادائیگی انٹرفیس کے تحت ماہانہ 1000 کروڑ سے زائد ڈیجیٹل لین دین ریکارڈ ہونے لگے، جو مالی شفافیت اور سہولت میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔

اسی طرح سوامی بھارت مشن کے تحت 11 کروڑ سے زائد بیت الخلا تعمیر کیے گئے اور دیہی علاقوں کو بڑی حد تک کھلے میں رفع حاجت سے پاک قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں صفائی اور صحت کے معیار میں بہتری آئی اور بیماریوں میں کمی دیکھی گئی۔ دوسری جانب پردھان منتری اُجولا یوجنا کے ذریعے 9.6 کروڑ سے زائد ایل پی جی کنکشن فراہم کیے گئے، جس سے خواتین کو دھوئیں سے نجات ملی، صحت بہتر ہوئی اور وقت کی بچت ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی بھارت نیٹ پروجیکٹ کے تحت دیہی علاقوں میں براڈبینڈ انٹرنیٹ پہنچایا گیا اور لاکھوں گاؤں کو آپٹیکل فائبر سے جوڑا گیا، جب کہ آدھار نظام کے ذریعے 130 کروڑ سے زائد افراد کو ڈیجیٹل شناخت فراہم کرکے سبسڈی اور سرکاری سہولیات کی براہِ راست ترسیل ممکن بنائی گئی۔ مجموعی طور پر ان اقدامات نے مالی شمولیت، صحت، صفائی، ڈیجیٹل ترقی اور خواتین کی سہولت کے میدان میں نمایاں اثرات ڈالے ہیں۔

دوسری طرف اس مدت میں بعض ایسی سرگرمیاں بھی سامنے آئی ہیں جن سے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچا ہے اور مذہبی آزادی متاثر ہوئی ہے، میڈیا پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے، سرکاری ایجنسیوں کا استعمال اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں میں زیادہ نظر آیا ہے۔ بعض ناقدین کے مطابق شہریت ترمیمی قانون ایک ایسا قانون ہے جس نے ملک کی سیکولر شناخت پر سوال کھڑے کیے، کیونکہ اس میں شہریت دینے کے معیار میں مذہب کو شامل کیا گیا، جبکہ دفعہ 370 کی منسوخی پر یہ اعتراض سامنے آیا کہ اس سے وفاقی ڈھانچے اور ریاستی خودمختاری متاثر ہوئی ہے۔ اسی طرح قومی رجسٹر برائے شہریاں کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس سے غریب اور کمزور طبقات، خصوصاً مسلمانوں میں بے یقینی اور خوف کی فضا پیدا ہوئی، کیونکہ شہریت ثابت کرنا عملی طور پر بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ مزید برآں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون کے سخت استعمال کو بعض مبصرین شہری آزادیوں کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں اور صحافیوں یا سماجی کارکنوں کی گرفتاریوں کو اس کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس سے ریاست اور شہری حقوق کے درمیان توازن پر سوال اٹھتے ہیں۔ اسی تناظر میں ناقدین نفرت انگیز تقاریر کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہیں، اور یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ بعض سیاسی یا سماجی عناصر کی جانب سے مذہبی یا نسلی بنیادوں پر دیے جانے والے بیانات پر مؤثر کارروائی نہ ہونا معاشرتی تقسیم کو گہرا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ”لو جہاد“ یا گائے کے نام پر پیش آنے والے واقعات اور ہجومی تشدد کو ملک کی سماجی ہم آہنگی اور سیکولر امیج کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ میڈیا کی آزادی، تعلیمی اداروں پر دباؤ اور نصاب میں نظریاتی تبدیلیوں کے الزامات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں سمجھے جاتے ہیں۔

ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیاں بعض اوقات سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال ہوتی نظر آتی ہیں، خاص طور پر اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں، جس سے منتخب کارروائی کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ اسی بحث میں میڈیا کی آزادی کا معاملہ بھی شامل کیا جاتا ہے؛ مثال کے طور پر رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی عالمی پریس آزادی درجہ بندی میں بھارت کی پوزیشن گزشتہ برسوں میں نسبتاً نیچے آئی، جسے ناقدین میڈیا پر دباؤ یا خود سنسرشپ کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ بعض سیاسی مثالیں، جن میں عام آدمی پارٹی کے بعض رہنماؤں کے معاملات کا حوالہ دیا جاتا ہے، اس تاثر کو مزید تقویت دیتی ہیں، اگرچہ ہر کیس کی اپنی قانونی تفصیلات ہوتی ہیں۔

دوسری طرف ان ریاستوں میں فتوحات کی ایک اہم وجہ اپوزیشن جماعتوں کا باہمی انتشار بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ترنمول کانگریس اور انڈین نیشنل کانگریس نے مغربی بنگال میں تقریباً ہر نشست پر الگ الگ انتخاب لڑا، حالانکہ کانگریس کو اپنی کمزور پوزیشن کا اندازہ تھا، جس کے باعث ووٹوں کی تقسیم ہوئی۔ اسی طرح آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اگرچہ محدود نشستوں پر انتخاب لڑا، لیکن ناقدین کے مطابق ان کی تقاریر نے بعض حلقوں میں ووٹروں کے رجحانات کو متاثر کرنے میں بالواسطہ کردار ادا کیا، جس سے مجموعی انتخابی نتائج متاثر ہوئے۔ مزید برآں ہمایوں کبیر کے بعض بیانات اور سرگرمیوں کو بھی ناقدین نے متنازع قرار دیا ہے، اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بھی سیاسی ماحول کو مزید گرم کرنے اور ووٹروں کی صف بندی پر اثر انداز ہونے میں ایک کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواران اور آزاد امیدواران نے بھی ووٹوں کی تقسیم میں اہم رول ادا کیا۔

بعض ناقدین کے مطابق الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے کیے گئے بعض اقدامات، جیسے ایس آئی آر کی مشق، اور حساس علاقوں میں مرکزی مسلح پولیس فورسز کی تعیناتی، انتخابی عمل پر اثر انداز ہوئے۔ اسی طرح بیرونی افراد کی مبینہ مداخلت اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں گڑبڑیوں کے الزامات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں، جنہیں ناقدین بعض نتائج کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن اور متعلقہ ادارے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ انتخابی عمل شفاف اور ضابطوں کے مطابق انجام پاتا ہے، اور ای وی ایم کے استعمال کو عدالتی و تکنیکی سطح پر محفوظ قرار دیا جا چکا ہے، اسی لیے اس مسئلے پر بھی آرا منقسم ہیں۔

میں یہ نہیں کہتا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی اس فتح سے ملک میں کوئی قیامت آ جائے گی، لیکن جس طرح اس کی زیرِ اقتدار بعض ریاستوں کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مختلف طبقات کے درمیان دوریاں بڑھی ہیں، اور بعض واقعات میں مخصوص طبقوں کے افراد کے ساتھ ناروا سلوک، تشدد یا ان کے اداروں کو نشانہ بنانے کی خبریں سامنے آئی ہیں، اسی تناظر میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا رجحان مغربی بنگال میں بھی نہ دہرایا جائے۔ اسی طرح یکساں سول کوڈ جیسے معاملات پر بھی بحث جاری ہے کہ اس کے نفاذ میں بنیادی حقوق اور تنوع کا کس حد تک لحاظ رکھا جائے گا۔ تاہم یہ تمام نکات مختلف آرا اور دعوؤں پر مبنی ہیں اور ان پر رائے یکساں نہیں۔

بہرحال اقتدار میں آنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلا امتیاز تمام شہریوں کے ساتھ انصاف کریں، آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے عدل و مساوات کو یقینی بنائیں اور کسی بھی طرح کے امتیاز سے گریز کریں۔ ہم سب ایک ہی ملک کے باشندے ہیں اور باہمی بھائی چارہ، رواداری اور احترام ہی ہماری اصل طاقت ہے۔ ملک کا مفاد سب سے مقدم ہونا چاہیے، اور کوئی بھی مذہب نفرت یا عداوت کی تعلیم نہیں دیتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر شہری کو آئینِ ہند میں دیے گئے حقوق پوری طرح حاصل ہوں اور ایک پُرامن، منصفانہ اور ہم آہنگ معاشرے کی تشکیل کو یقینی بنایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے