(حافظ)افتخاراحمدقادری 

بنگال میں ممتا بنرجی کی انتخابی شکست کو ایک سادہ بیانیے یعنی ہندو ووٹروں کی ناراضی سے جوڑ دینا نہ صرف ادھورا تجزیہ ہے بلکہ زمینی حقیقتوں سے بھی پوری طرح ہم آہنگ نہیں۔ اعداد و شمار کی باریک بینی سے جانچ یہ بتاتی ہے کہ مجموعی ووٹ شیئر میں کوئی ڈرامائی تبدیلی واقع نہیں ہوئی بلکہ سیاسی وفاداریوں کی سمتوں میں خاموش مگر معنیٰ خیز رد و بدل ہوا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے اونندو چکرورتی جیسے مبصرین نے واضح کیا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی اور ترنمول کانگریس کے مشترکہ ووٹ فیصد کو دیکھا جائے تو وہ تقریباً جوں کا توں برقرار ہے۔ اس سے یہ تاثر کمزور پڑ جاتا ہے کہ کوئی ایک بڑی مذہبی یا سماجی لہر فیصلہ کن ثابت ہوئی ہو۔
  اصل تبدیلی ووٹوں کے اندرونی بہاؤ میں ہوئی ہے جہاں ایک طرف بی جے پی نے اپنے روایتی دائرے سے باہر نکل کر ایسے ہندو ووٹرز کو اپنی طرف مائل کیا جو پہلے کانگریس پارٹی یا بائیں محاذ کے ساتھ وابستہ تھے وہیں دوسری جانب مسلم ووٹ بینک جو ایک طویل عرصے تک ممتا بنرجی کی سیاسی قوت کا بنیادی ستون سمجھا جاتا تھا اس میں دراڑیں نمودار ہوئیں۔ خاص طور پر وہ حلقے جہاں مسلم آبادی کا تناسب زیادہ ہے وہاں ووٹنگ کے رجحانات نے یہ اشارہ دیا کہ ایک قابل ذکر حصہ متبادل سیاسی قوتوں کی طرف مائل ہوا۔ یہ صرف ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا انتخاب بھی محسوس ہوتا ہے جس میں مقامی سطح کے مسائل، نمائندگی کے سوالات اور سیاسی اعتماد کی کمی جیسے عوامل کار فرما رہے۔
   یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ ہندو ووٹر مکمل طور پر ممتا بنرجی سے دور ہو گئے بلکہ زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ ہندو ووٹ ایک حد تک منتشر ہوئے اور ان کا ایک حصہ بی جے پی کے ساتھ چلا گیا مگر یہ اضافہ زیادہ تر دیگر جماعتوں کے کھاتے سے آیا نہ کہ مکمل طور پر ٹی ایم سی کے نقصان سے۔ اس کے برعکس مسلم ووٹوں کی تقسیم نے ٹی ایم سی کو وہ دھچکا دیا جو بظاہر چھوٹا لگتا ہے مگر انتخابی نتائج پر اس کے اثرات گہرے ثابت ہوئے۔ جب کسی جماعت کا مضبوط ترین ووٹ بینک ہی جزوی طور پر اس سے دور ہونے لگے تو معمولی فیصدی تبدیلی بھی نشستوں کی صورت میں بڑے خسارے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر سیاسی حکمت عملی کے زاویے سے دیکھا جائے تو ممتا بنرجی کی مہم میں بعض ایسے خلا بھی نمایاں ہوئے جنہیں اپوزیشن نے بھرپور انداز میں استعمال کیا۔ مقامی قیادت کی کمزوری، امیدواروں کے انتخاب پر اعتراضات اور کچھ علاقوں میں تنظیمی ڈھانچے کی سستی نے ووٹر کے اعتماد کو متاثر کیا۔ اس کے برعکس بی جے پی نے نہ صرف اپنی تنظیمی طاقت کو مضبوط کیا بلکہ ایک واضح بیانیہ بھی پیش کیا جس میں شناخت، حکمرانی اور ترقی کے نکات کو مسلسل دہرایا گیا۔ یہ بیانیہ ان ووٹرز کے لیے کشش کا باعث بنا جو تبدیلی کے خواہاں تھے یا جو خود کو سیاسی طور پر نظر انداز محسوس کر رہے تھے۔ مزید برآں کانگریس اور بائیں محاذ کی حکمت عملی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ وہ مجموعی طور پر اقتدار کی دوڑ میں پیچھے دکھائی دیتے ہیں لیکن انہوں نے مخصوص حلقوں میں مؤثر مداخلت کر کے ووٹوں کی تقسیم کو ایک نئی شکل دی۔ خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں ان کی موجودگی نے ٹی ایم سی کے یکطرفہ غلبے کو چیلنج کیا جس کے نتیجے میں ووٹوں کا بکھراؤ ہوا اور فائدہ بالواسطہ طور پر بی جے پی کو پہنچا۔ یہ ایک کلاسیکی مثال ہے کہ کس طرح براہ راست مقابلہ نہ جیتنے والی جماعتیں بھی انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیں۔
   یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انتخابی سیاست اب سیدھے سادے فارمولوں سے نہیں چلتی بلکہ اب ووٹر زیادہ باشعور، زیادہ مطالبہ کرنے والا اور زیادہ متحرک ہو چکا ہے۔ وہ صرف مذہبی یا جذباتی نعروں پر فیصلہ نہیں کرتا بلکہ مقامی کارکردگی، قیادت کی ساکھ اور متبادل امکانات کو بھی پرکھتا ہے۔ ممتا بنرجی کی شکست اسی پیچیدہ سیاسی حرکیات کا نتیجہ ہے جہاں ووٹوں کا معمولی سا ادھر اُدھر ہونا بھی اقتدار کے توازن کو بدل دیتا ہے۔ ہوں یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ یہ شکست کسی ایک طبقے کی ناراضی کا نتیجہ نہیں بلکہ مختلف سماجی و سیاسی عوامل کے مجموعی اثر کا حاصل ہے۔ ہندو ووٹروں کی جزوی منتقلی، مسلم ووٹ بینک میں دراڑ، اپوزیشن کی حکمت عملی اور تنظیمی کمزوریاں یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جس میں بظاہر مستحکم نظر آنے والی سیاسی قوت بھی اچانک کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہی جمہوریت کی وہ غیر متوقع فطرت ہے جو ہر انتخاب کو ایک نیا سبق اور ہر نتیجے کو ایک نئی کہانی بنا دیتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش 
  (مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے