پٹنہ ٥/ مئی (نمائندہ): ڈاکٹر سید محمد گوہر کے انتقال سے اردو صحافت کا بڑا نقصان ہوا ہے۔ خبر کے مطابق وہ رانچی میں تاثیر کے عملہ کے ساتھ میٹنگ کر رہے تھے کہ دل کا دورہ پڑا۔ہوسپٹل لے جاۓ گیے۔لیکن وقت موعود آگیا تھا اس لیے عین جوانی میں دنیا کو الوداع کہہ دیا۔اردو میڈیا فورم کے صدر مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے ان کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوۓ فرمایا کہ وہ دھن کے پکے ،محنتی اور مستعد صحافی تھے۔انہوں نے جناب امتیاز کریم منیجنگ ایڈیٹر تاثیر کے مشورے اور تعاون سے صحافت کی دنیا میں قدم رکھا اور دیکھتے دیکھتے ملک کے مختلف شہروں سے روزنامہ تاثیر کے ایڈیشن نکلنے لگے ۔بڑی بات یہ ہے کہ تاثیر فائل اخبار نہیں ہے۔وہ بازار میں نظر آتا ہے اور قارئین تک پہونچتا ہے۔امارت شرعیہ کے مطالعہ کی میز پر پابندی سے رہتا ہے۔مفتی صاحب نے فرمایا کہ میری ان سے کئ ملاقاتیں تھیں۔اردو میڈیا فورم کی بعض میٹنگوں میں بھی ان کی تشریف آوری ہوئی تھی۔انہوں نے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا تھا۔وہ انتہائی سنجیدہ مرنجامرنج شخصیت کے مالک تھے ۔سنجیدگی سے کام کرنے کے عادی تھے۔
نور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی بکساما مہوا ویشالی کے جنرل سکریٹری مولانا محمد نظر الہدیٰ قاسمی نے بھی ان کے انتقال پر گہرے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہینہ دو مہینہ پر کسی نہ کسی موضوع پر ان سے بذریعہ موبائل گفتگو ہوتی تھی ، جس بات کی درخواست کی جاتی نرمی اور خوش اخلاقی اور سنجیدگی سے سنتے اور محبت سے جواب دیتے، ان کی خوش اخلاقی، خندہ پیشانی اور سنجیدہ گفتگو دل کو خوب بھاتی تھی ۔ ان کے انتقال پر مفتی صاحب اور اراکین نور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی نے مغفرت اور پس ماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔
