مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
محمد غضنفر علی ابواللیث قاضی اسد ثنائی (ولادت 11؍ مئی 1971ء) بن قاضی محمد انصار علی قریشی جاوید نقشبندی قادری (م 3؍ ربیع الاول 1417ھ) ساکن حیدرآباد جامعہ نظامیہ حیدرآباد کے سند یافتہ ہیں، سید شاہ عبد اللطیف قادری لاابالی سے بیعت ہیں، خلافت سلسلہ عالیہ قادریہ میں علامہ سید شاہ عبد الجبار قادری باقوی (م 2003ء) سے پائی ہے، علمی ذوق، روحانی شغف کے ساتھ ادب و شاعری سے بھی تعلق ہے اور اس فن میں وہ جناب سردار سلیم کے تلمیذ رشید ہیں، آزاد اور پابند شاعری دونوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں، شہر جاں کی سرحدیں، مشکِ آسماں، عیدِ منتظر، ملوک الکلام اور قُم باذنی ان کے شعری مجموعے ہیں، نثر کی بات کریں تو ان کی کتاب تذکرہ سراج المجذوبین مشہور ہے، اس کے علاوہ مقالات نعت، خطبات شہادت، خطبات انصار وغیرہ ان کی مرتبہ کتابیں ہیں، مختلف تنظیموں، اداروں اور اکیڈمیوں کی طرف سے نصف درجن ایوارڈ پا چکے ہیں، یہ سلسلہ آگے بھی دراز ہوتا نظر آتا ہے۔
قاضی اسد ثنائی کا شعری مجموعہ ”قُم باذنی“ اس وقت میرے مطالعہ میں ہے، یہ 2025 میں پانچ سو کی تعداد میں چھپی ہے، عام ایڈیشن کی قیمت سات سو روپے اور لائبریریز کے لیے نو سو روپے ہے، یعنی کم از کم ایک صفحہ کی قیمت ساڑھے تین روپے کتابت، طباعت، کاغذ اور جلد بندی اتنی شاندار ہے کہ اس سے کم قیمت کیا رکھی جاتی خصوصاً اس شکل میں جب بک سیلروں کو نصف قیمت کمیشن کے طور پر دینا پڑتا ہو، اس قیمت میں اردو قارئین کی جیب کا خیال نہیں رکھا گیا ہے، قاضی اسد ثنائی خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ڈاکٹر اور پروفیسر کتاب خرید کر نہیں پڑھتے، خریدار اوسط درجے کا قاری ہوتا ہے، جس کی جیب ہر دور میں ہلکی ہوتی ہے، کتاب کی خطاطی محمد مختار علی، کمپیوٹر کتابت محمد واجد، صفحہ سازی محمد وقار الدین، تزئین کتاب سید عبد السلام شکیل، سرورق حافظ محمد رضوان حسناتی نے تیار کیا ہے، عائش آفسیٹ پریس سے طباعت محمد مستنصر علی قریشی سعید اور محمد انصار علی قریشی منیر کے زیر اہتمام ہوئی ہے، ناصر الانصار پبلیکیشن ہے اور کتاب حاصل کرنے کے لیے مکتب الانصار 8-8-253/36/A اجمال کالونی ریاست نگر حیدرآباد-59 اور ہدیٰ بک ڈسٹری بیوٹرز پرانی حویلی، حیدرآباد سے رجوع کیا جا سکتا ہے، ”قُم باذنی“ اس شعری مجموعہ کا تاریخی نام ہے، میں نے جوڑ کر تو نہیں دیکھا، لیکن ”باذنی“ کی یا کے پیٹ میں 2025 لکھا ہوا ہے، جس سے ایسا معلوم ہوتا ہے، نام میں ندرت ہے، شعری مجموعہ کا ایسا نام جس سے معجزات کی طرف ذہن ملتفت ہو جائے، پہلی بار میری نظر سے گزرا ہے، کتاب کے پہلے صفحہ پر اس حوالہ سے ایک شعر بھی درج ہے:
ابھرے گا اسد ورق پہ کچھ تو
لکھ لکھ کے منائیں قُم باذنی
کتاب کا انتساب اپنے شعری سفر کے رہنما عزیز ترین دوست سردار سلیم کے نام ہے، ”قُم باذنی“ کے بارے میں خود قاضی اسد ثنائی کا خیال ہے کہ:
”میری جتنی بھی کتابیں اب تک شائع ہوئی ہیں، ان میں کسی نہ کسی جہت سے آپ کو انفرادیت نظر آئے گی، یہ ساری کتابیں میرے خواب ہیں اور ”قُم باذنی“ ان سارے خوابوں کی تعبیر ہے“ (صفحہ 254)
اس کتاب میں ایک اور ندرت دیکھنے کو ملی کہ قاضی اسد ثنائی کے فکر و فن پر جو نثری تحریریں ہیں انہیں شناوری کے عنوان سے اخیر میں رکھا گیا ہے جو 219 سے 257 تک پھیلی ہوئی ہیں، یہ تحریریں سردار سلیم کی قاضی اسد ثنائی۔ اندر کی باتیں، تخلیقی خود اعتمادی کا استعارہ علامہ ڈاکٹر راہی فدائی، پروفیسر احمد محفوظ، قاضی اسد ثنائی کا تازہ مجموعہ کلام ”قُم باذنی“ ڈاکٹر سید یحییٰ نشیط کی قاضی اسد ثنائی کے شعری ابعاد، بقدرِ شوق قاضی اسد ثنائی اور اکابرینِ ادب کی آراء کے عنوان سے ہیں، آخر میں سوانحی کوائف شناش نامہ کے عنوان سے درج ہے۔
ان نثری تحریروں کا بعد میں لانا شاعر کی خود اعتمادی کو بتاتا ہے کہ خود پڑھو، سمجھو اور رائے قائم کرو، کسی کے کہنے سے میری شاعری کی قدر و قیمت کی تعیین مت کرو، انور خلج آبادی کا ایک شعر برجستہ ذہن میں آگیا:
ہو سکے تو ”دل“ کی حالت خود ہی آکر دیکھیے
غیر کی سننے، نہ کہنے پر ہمارے جائیے
کتاب کا آغاز ”جوئے فکر“ کے عنوان سے آزاد نظموں سے کیا گیا ہے، اس معاملہ میں میں بڑا بد ذوق واقع ہوا ہوں، مجھے ہمیشہ آزاد نظم اور غزل بے جوڑ کا پہاڑہ نظر آتا ہے، اس معاملہ میں، میں نہ تو مظہر امام سے متاثر ہو سکا اور نہ ہی ثوبان فاروقی سے جو آزاد غزل سے ہر مصرعے کو محسوس تصویر کی شکل میں لکھا کرتے تھے، اسد ثنائی کی نظموں میں فکر کی تابانی اور تخیل کی جلوہ سامانی تو ہے، مگر آزاد ہیئت ہی میرے لیے قابلِ قبول نہیں ہوتا، یہ میرا ذاتی خیال ہے، لیکن اس خیال میں دوسرے بہت سارے لوگ بھی شریک ہیں، اس باب میں چودہ آزاد نظمیں ہیں، دوسرا عنوان زندہ رود ہے، جو پابند غزلوں پر مشتمل ہے، اس میں پہلی غزل وہ ہے جس کے ایک جزو پر کتاب کا نام رکھا گیا ہے، تیسرا عنوان ”شہرِ جاں کی سرحدیں“ ہیں جو 2003 میں شائع مجموعہ کلام سے ماخوذ ہے، ایک عنوان آئینہ خانہ بھی ہے، جو اپنے خاندان کے افراد پر مختلف موقعوں سے لکھی گئی ہیں، یہ اس کتاب کے مندرجات کا اجمالی ذکر ہے، تاکہ قاری اس تحریر کو پڑھ کر کتاب سے قریب ہو جائے اور قاضی اسد ثنائی کے شعری ابعاد کو سمجھنے میں انہیں آسانی ہو جائے۔
قاضی اسد ثنائی اصلاً نعت کے شاعر ہیں، ان کے کئی نعتیہ مجموعے مشہور و معروف ہیں، ان کی شاعری کا وہ حصہ جو اپنوں کے لیے ہے ان میں ان کے فکر کی ندرت ذرا دب سی گئی ہے، شاعری پر تعلقات غالب آگئے ہیں، ان کی غزلوں میں غمِ حیات اور کائنات دونوں پایا جاتا ہے، وہ کبھی جگ بیتی کو آپ بیتی کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور کبھی آپ بیتی کو جگ بیتی بنا دیتے ہیں، وہ مولانا بھی ہیں، اسی لیے انہیں فکر اور تخیل کی طہارت کا بھی بڑا خیال رہتا ہے، ان کی نظر زمانہ کے نشیب و فراز پر رہتی ہے، اس لیے ان کی شاعری میں عصری حسیت اور مذہبیت کا بھرپور امتزاج ملتا ہے، وہ ہر بحر میں اشعار کہنے پر قادر ہیں اور عام طور پر قافیہ ردیف کے تاروں پر بل نہیں آنے دیتے، ضرورتِ شعری کا سہارا لے کر وہ الفاظ کی ہیئت کو مسخ کرنے اور بے جوڑ ساختیات اور تشکیلیات کے بھی قائل نہیں ہیں، ان کے الفاظ میں معنی کی بھرپور ترسیل پائی جاتی ہے اور اسے سمجھنے کے لیے ذہنی جمنا اسٹک اور لغات کے صفحات الٹنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، وہ خوب کہتے ہیں اور اچھا کہتے ہیں، ان کا شعری سفر جاری ہے اور فلک تک رسائی اب دشوار نہیں ہے۔

