محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک

۱۔ مدہوش ظالم 
’’آپ ہم سے دور دور رہتے ہیں کیابات ہے ؟‘‘ مدہوش ناصر نے اپنی محبت کااظہار کیاتو اظہر سمرقندی نے کہا’’جناب ِ من ، آپ ظلم وستم کاسرتاپا چلتاپھرتا مجسمہ ہیں۔ اور آج کل آپ کا ظلم پھیلا ہواہے اور عروج پر ہے لہٰذا ہمارا آپ سے دور رہنا ہی بہتر ہے ‘‘
جناب مدہوش ناصر نے اس کاہاتھ پکڑ لیا اور کہنے لگاکہ ۔۔۔۔ اس کے کچھ کہنے سے قبل ہی اظہرسمرقندی نے چیختے ہوئے دہائی دی ’’خدارا ہمارے قریب نہ آئیں، ہم آپ کے ظلم کے متحمل نہیں ہوسکتے، ہمیں ہمارے حال پر چھوڑدیجئے ‘‘ناصر نے ہنستے ہوئے اس کے ہاتھ چھوڑ دئے ۔ وہ سوچ رہاتھاکہ میرے مظالم کادنیا کوپتہ چل رہاہے اور لوگ مجھ سے دور بھاگ رہے ہیں
۲۔ فیکلٹی 
’’بڑھتے قدم دھمک پید اکرتے ہیں لیکن جو قدم دلوں کو توڑ دیں وہ سیاسی پیش قدم والے ہوتے ہیں ‘‘پالٹیکل سائنس کے فیکلٹی ونود جانسن نے کہاتو ایک طالب علم نے اٹھ کر سوال کیاکہ ’’ہم سب کو پتہ ہے کہ وقت ہر قدم کوتوڑسکتاہے۔ وقت کے قدموں کی آواز سیاسی پیش قدمی والے کیوں نہیں سن پاتے ہیں؟ اورسب سے زیادہ انسانوں پر ظلم سیاسی پیش قدمی کرنے والوں نے کیاہے ، کیا یہ صحیح ہے ؟‘‘ونود جانسن نے تھوڑے سے توقف کے بعد کہا’’سوال اچھاہے لیکن اس کاجواب پیچیدہ ہوگا ۔ اس پیچیدگی میں نہ جاتے ہوئے یہ سمجھ لیں کہ سیاسی نشہ جلد نہیں اُترتا۔ جو نشہ اُترے نہیں آخرکارتباہ کرکے چھوڑتاہے ۔لیکن بابت ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ البتہ ہم خود اتنا ضرورسمجھ لینا چاہیے کہ سیاست دان ہوش کے ناخن لیں اور انسانوں پر ظلم کرنا چھوڑیں ۔ اگر وہ انسان ہیں تو انہیں انسانوں سے پیار ہونا چاہیے۔ ڈیوائیڈ اینڈ رول کاقانون انسانوں پرصریح ظلم ہے ‘‘اور کسی نے سوال نہیں کیا۔ کلاس میں طلبہ کے چہروں پراپنے ساتھی کے سوال کی بناپر جوش ہی جوش تھا لیکن فیکلٹی کاچہراجانے کیوں اُترا ہوالگا۔
۳۔ تصویر کا قہقہہ 
میں نے اس کی تصویر کے سامنے کھڑے ہوکر کہا’’تو سمجھتاہے ، کہ بخشا جائے گا، ہرگز نہیں۔ وقت آئے گا، تیرا ظالم اقتدارغروب ہوگا، صرف میں ہی نہیں ایک دنیا تیرے زوال کی منتظر ہے ‘‘لیکن یہ کیا، یکایک تصویر ہنسنے لگی ۔ مجھے لگایہ تصویر میری باتوں پر ہنس رہی ہے۔ ہنستے ہنستے تصویر کی ہنسی میں وحشت ناک قہقہہ شامل ہوگیا ۔ پھر تو میرے رونگٹھے کھڑے ہوگئے اور میں وہاں سے ہانپتا کانپتا بھاگنے پر مجبور ہوگیا۔
۴۔تم جیسی خواتین  
’’پیسہ ختم ہورہاہے، کچھ سوچئے گا ‘‘ اہلیہ نے کہاتو شوہر نے جواب دیا’’میڈم ، فکر نہ کریں ۔وظیفہ کاپیسہ اگر اِدھرختم ہورہاہے تو دوسری طرف دونوں بیٹے کمابھی تورہے ہیں‘‘ پھر انھوں نے شعر پڑھا   ؎
جہاں میںاہل ایماں صورت ِ خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے اُدھر نکلے ، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
’’رزق کانظام اللہ نے کچھ ایسا ہی کررکھاہے جیساکہ کسی شاعر نے اہل ایمان کے تعلق سے کہاتھا‘‘اہلیہ نے کہا’’اس قدر ایمانی بھروسہ کم مردوں میںہوتاہے ‘‘ شوہر نامدار نے بھی بیگم کی تعریف کرتے ہوئے کہا’’تم جیسی خواتین بھی کہاںمیسر ہیں ، جوکم سے کم میں گزار اکرتے ہوئے شوہروں کوقلبی سکون پہنچاتی ہیں ‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے