محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
۱۔کچھ تو ہے
شور کی کئی قسمیں ہوتی ہیں جن میں اپنی اچھائی کا شورسب سے زیادہ ہواکرتاہے اور سبھی انسانوں کو اچھالگتاہے۔ اس پر کسی بھی ملک کی عدالت عظمیٰ پابندی نہیں لگاسکتی لیکن آسمانی عدالت کہتی ہے کہ ’’شور تو اس کیلئے ہونا چاہیے جس نے تمہیں پیدا کیاہے ‘‘
اوریہاں ہم سب کسی نہ کسی وجہ سے خاموش ہوجاتے ہیں۔
۲۔ بے غرض سفر
بے غرض سفر کوئی نہیں کرتالیکن کچھ بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو مخلص ترین اور سیدھے سادے شاعر کے لئے سفر کرآتے ہیں۔اور خوشی سے نہال ہوجاتے ہیں۔
۳۔ ناقص منصوبے
دنیا کومیرے منصوبے پر نہیں چلناچاہیے۔ اگر میری اولاد میرے منصوبے پر چلے تو یہ میرے لئے کافی ہے۔ کسی نے بھی ایسا نہیں سوچا ۔ کروڑوں میں ایک آدھ ایسے لوگ بھی ہوں گے لیکن ان سے ہماری ملاقات نہیں ہوسکی۔ آپ کی کیاکیفیت ہے ؟
۴۔ بیربہوٹیاں
بیربہوٹیوں نکل آئی تھیں ۔ جیسے ہی شیخ نواز کو اطلاع ملی وہ جنگل کی طرف دوڑ پڑا۔ لیکن راستے میں بارش شروع ہوگئی۔ بے تحاشہ بارش نے جنگل کے سفر میں رکاوٹ پیدا کردی ۔ اور جب بارش رکی تو وہ جنگل کی جانب جانے کی بجائے بے نیل ومرام گھرلوٹ آیاکہ بارش کے سبب بیربہوٹیاں اپنے اپنے گھروں(سوراخوں میں) واپس ہوجاتی ہیں۔ اس کے بعد سے دس دن تک بے تحاشہ بارش ہوتی رہی اور پھرامسال وہ بیربہوٹیوں کادیدار نہیں کرسکا۔
۵۔ بے فیض سزا
سزا سبق نہیں بن سکی بلکہ سزا نے اس کو ضدی بنادِیا۔آج وہ ایک علاقے کا بڑا نامی گرامی غنڈہ ہے اور لوگوں کو پورایقین ہے کہ کسی دن اس کی نعش کسی نہ کسی چوراہے پر ملے گی۔
