اٹوا (سدھارتھ نگر) نمائندہ خصوصی:

ضلعی جمعیت اہل حدیث سدھارتھ نگر کی زیرِ سرپرستی، جمعیت اہل حدیث حلقہ اٹوا کے زیرِ اہتمام اور دارالتوحید دعوہ سینٹر مینا عیدگاہ کے تعاون سے جامعہ دارالتوحید کے وسیع و عریض صحن میں بعد نمازِ عشاء ایک عظیم الشان نصف شب دعوتی و اصلاحی پروگرام منعقد ہوا، جس میں ضلع و بیرونِ ضلع سے آئے علماء کرام، ائمہ، طلبہ اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پروگرام کی صدارت ضلعی جمعیت اہل حدیث سدھارتھ نگر کے امیر فضیلۃ الشیخ محمد ابراہیم مدنی نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض حافظ سرور احمد (استاد مدرسہ دار ارقم) نے انجام دیے۔ محفل کا آغاز جامعہ دارالتوحید کے استاذ حافظ بیت اللہ رحمانی کی دلنشین تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔ بعد ازاں مولانا عبدالمنان مفتاحی نے حمدِ باری تعالیٰ پیش کی، جبکہ توفیق گلزار توحیدی نے نعتِ رسولِ اکرم ﷺ پیش کرکے سامعین کے دلوں کو گرما دیا۔

پروگرام کے پہلے مقرر محمد نفیس محمد اسماعیل صفاوی تھے، جنہوں نے "فلسفۂ قربانی” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قربانی محض گوشت حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ اخلاص، اطاعتِ الٰہی اور تقویٰ کا عملی مظاہرہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قربانی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اور حلال مال سے کی جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے۔

اس کے بعد معروف داعی و مبلغ فضیلۃ الشیخ شاہد جنید مدنی نے "ایمان و عمل” کے موضوع پر قرآن و حدیث کی روشنی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ دل کی تصدیق اور اعمالِ صالحہ کے ذریعے اس کا اظہار بھی ضروری ہے۔ انہوں نے توحیدِ خالص کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ توحید کے بغیر کوئی عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں ہوتا۔ انہوں نے نماز کو ایمان کی نمایاں علامت قرار دیتے ہوئے اس کے اہتمام کی تلقین کی۔

بعد ازاں فضیلۃ الشیخ محمد شمیم مدنی (مدرس جامعہ سراج العلوم کنڈو بونڈیہار، بلرام پور) نے "عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت” پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سال کے سب سے افضل ایام یہی دس دن ہیں، جن میں عبادت، ذکر و اذکار، تکبیرات، روزے اور دیگر نیک اعمال کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر یومِ عرفہ کے روزے اور حج کی فضیلت پر روشنی ڈالی۔

پروگرام کے اہم مقرر فضیلۃ الشیخ عبد الستار سراجی نے "اتحاد و اتفاق: ضرورت و اہمیت” کے موضوع پر ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف و انتشار امت کی کمزوری اور زوال کا سبب ہے، جبکہ اتحاد و اتفاق ترقی اور کامیابی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج معمولی باتوں پر خاندان اور معاشرہ تقسیم ہو رہا ہے، حالانکہ اسلام اخوت، محبت اور باہمی تعاون کا درس دیتا ہے۔

صدرِ اجلاس فضیلۃ الشیخ محمد ابراہیم مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے ایمان افروز واقعات بیان کرتے ہوئے توحید، اطاعتِ الٰہی اور جذبۂ قربانی کو اپنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنی زندگی کو دینِ اسلام کے مطابق ڈھالے اور معاشرے کی اصلاح کی فکر کرے۔

جامعہ دارالتوحید مینا عیدگاہ کے ناظمِ اعلیٰ جناب انیق احمد خان نے اپنے خطاب میں تمام علماء کرام، معزز مہمانان اور شرکائے پروگرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جامعہ کے تعلیمی و دعوتی مشن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ شرک و بدعت کے خاتمے اور توحید و سنت کے فروغ کے لیے مسلسل سرگرمِ عمل ہے، جبکہ دارالتوحید دعوہ سینٹر اسی مقصد کے تحت دعوت و اصلاح کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے پروگراموں کا مقصد معاشرے میں دینی شعور بیدار کرنا اور لوگوں کو قرآن و سنت سے جوڑنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے