(حافظ) افتخار احمد قادری
ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے لیکن جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں بلکہ سیاسی اختلاف کو برداشت کرنے، مخالف آوازوں کے احترام اور آئینی اداروں کے وقار کے تحفظ کا نام بھی ہے۔ جب سیاسی میدان میں دلیل کی جگہ طاقت، مکالمے کی جگہ دھمکی اور عوامی نمائندوں کے خلاف تشدد کی سیاست فروغ پانے لگے تو جمہوریت کی روح مجروح ہونے لگتی ہے۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کے ساتھ پیش آنے والا حالیہ واقعہ بھی اسی تشویش کو جنم دیتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کلیان بنرجی چندیتلہ پولیس اسٹیشن میں ایک یادداشت پیش کرنے جا رہے تھے کہ راستے میں مظاہرین نے انہیں گھیر لیا، کالے جھنڈے دکھائے اور ان کے خلاف نعرے بازی کی۔ بعد ازاں ان کے زخمی ہونے اور زمین پر گر جانے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ کلیان بنرجی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی سے وابستہ افراد نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور ان پر حملہ کیا۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف ایک سیاسی رہنما پر حملہ نہیں بلکہ جمہوری اقدار پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
حالیہ دنوں میں مغربی بنگال کی سیاست میں کشیدگی مسلسل بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اس سے قبل بھی ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کو احتجاج اور ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب کلیان بنرجی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ کیا سیاسی اختلاف کو جمہوری انداز میں برداشت کرنے کے بجائے طاقت اور خوف کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟
بی جے پی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور مرکز میں مسلسل اقتدار میں ہے۔ اس حیثیت سے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سیاسی کارکنوں اور حامیوں کو جمہوری اقدار، آئینی حدود اور سیاسی شائستگی کا پابند بنائے۔ اگر کسی مقام پر بی جے پی سے وابستہ افراد پر تشدد، دھمکی یا غنڈہ گردی کے الزامات عائد ہوتے ہیں تو پارٹی قیادت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرے اور قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنائے۔ جمہوریت میں طاقت کا اصل مظاہرہ مخالفین کو خاموش کرانے میں نہیں بلکہ اختلاف رائے کو برداشت کرنے میں ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہندوستانی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سیاسی تلخی اور نفرت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ سیاسی جماعتیں اکثر اپنے مخالفین کو دشمن سمجھنے لگتی ہیں اور کار کن بھی سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جلسوں، ریلیوں اور عوامی اجتماعات میں تصادم کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ مغربی بنگال اس سیاسی کشمکش کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے جہاں ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مقابلہ محض انتخابی نہیں بلکہ جذباتی اور نظریاتی رنگ بھی اختیار کر چکا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ جب کسی ریاست میں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں پر حملوں کی خبریں مسلسل آنے لگیں تو یہ پورے جمہوری نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔ عوامی نمائندے خواہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں ان کی حفاظت اور عزت کا تحفظ ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر ایک منتخب رکن پارلیمنٹ خود کو غیر محفوظ محسوس کرے تو عام شہری کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مغربی بنگال میں سیاسی تشدد کے الزامات صرف ایک جماعت تک محدود نہیں رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں پر ایسے الزامات لگتے رہے ہیں۔ تاہم کسی بھی واقعے کو اس بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ ہر واقعے کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔ کلیان بنرجی کے واقعے نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا ہندوستانی سیاست میں برداشت کا دائرہ سکڑتا جا رہا ہے؟ کیا سیاسی جماعتیں اپنے مخالفین کو سننے اور ان سے اختلاف کے باوجود ان کے جمہوری حق کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو یہ صورت حال جمہوریت کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔
ملک کے عوام سیاسی جماعتوں سے ترقی، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے مسائل کے حل کی توقع رکھتے ہیں لیکن جب سیاسی مباحث تشدد، الزام تراشی اور نفرت انگیزی کے گرد گھومنے لگیں تو اصل عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور عوامی خدمت کو سیاست کا مرکز بنانا چاہیے۔ مغربی بنگال کے حالیہ واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جمہوریت کی بقا صرف آئینی دفعات سے ممکن نہیں بلکہ سیاسی رواداری، باہمی احترام اور قانون کی حکمرانی سے ممکن ہے۔ اگر کسی سیاسی جماعت کے کارکن یا حامی قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو اس کا نقصان صرف مخالف جماعت کو نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کو ہوتا ہے۔ آج تمام سیاسی جماعتیں، خصوصاً بڑی قومی جماعتیں، اپنے کارکنوں کو واضح پیغام دیں کہ سیاسی اختلاف کا جواب تشدد نہیں بلکہ دلیل ہے۔ مخالفین کو کالے جھنڈے دکھانا اور پرامن احتجاج کرنا جمہوری حق ہے، لیکن اگر احتجاج تشدد، حملوں یا دھمکیوں میں تبدیل ہو جائے تو وہ جمہوری عمل نہیں بلکہ غنڈہ گردی کہلائے گا۔ ایسے رویے خواہ کسی بھی جماعت کی جانب سے ہوں، ان کی مذمت ہونی چاہیے۔ کلیان بنرجی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ اگر حملے کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ ہندوستانی جمہوریت کی طاقت اسی میں ہے کہ قانون سب پر یکساں لاگو ہو اور سیاسی وابستگی کسی کے لیے ڈھال نہ بن سکے۔ جمہوریت کی اصل خوبصورتی اختلاف میں ہے۔ اگر اختلاف کرنے والوں کو ڈرایا جائے، ان پر حملے کیے جائیں یا انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جائے تو جمہوری نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں سیاست کا معیار اتنا بلند ہونا چاہیے کہ مخالفین ایک دوسرے کے نظریات سے اختلاف کریں، لیکن ایک دوسرے کے جمہوری حق اور انسانی وقار کا احترام بھی برقرار رکھیں۔ یہی جمہوریت کا تقاضا ہے اور یہی ہندوستان کے روشن سیاسی مستقبل کی ضمانت بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
