لاکھوں روپے ٹیکس وصولی کے بعد بھی نالیاں صاف کرنے سے گریز بارش کے باعث وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ

منااکھیلی- 8/جون (عبدالقدیر لشکری): چٹگوپہ تعلقہ کی منااکھیلی گرام پنچایت انتظامیہ کی شدید لاپرواہی اور عدم توجہی کے باعث منااکھیلی کا بلاک نمبر 7۔ اس وقت سنگین مسائل کا شکار ہے جس کی وجہ سے مقامی عوام کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہے
عوام کے مطابق کے  بلاک نمبر 7 میں واقع نالی کے ڈیک سلیب (Dx-Slab) میں بڑے پیمانے پر کچرا اور ملبہ جمع ہو جانے کی وجہ سے گندے پانی کی نکاسی کا نظام مکمل طور پر ٹھپ ہو چکا ہے۔ نالی کا بدبودار اور گندہ پانی آگے نہ بڑھنے کے سبب سڑکوں پر بہہ رہا ہے اور آس پاس کے گھروں کے سامنے جمع ہو رہا ہے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کے اس ڈیک سلیب کی حالت انتہائی خستہ ہو چکی ہے اور اسے فوری طور پر دوبارہ تعمیر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
مقامی سماجی کارکن محمد سراج کی جانب سے پچھلے مہینے اس سنگین مسئلے کے خلاف گرام پنچایت میں ایک تحریری شکایت بھی پیش کی گئی تھی، لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ منااکھیلی کے پنچایت ڈیولپمنٹ آفیسر (PDO) اور ایڈمنسٹریٹر نے اب تک اس پر کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی موقع واردات کا معائنہ کرنے کی زحمت کی افسران کی اس خاموشی اور لاپرواہی کے خلاف مقامی عوام میں شدید غصہ  ہے
گھروں کے سامنے چوبیس گھنٹے گندہ پانی جمع رہنے اور کچرے کے بڑے بڑے ڈھیر لگے ہونے کی وجہ سے علاقے میں مچھر ہوے ہیں جس سے معصوم بچوں اور بزرگوں کے شدید بیمار ہونے (ملیریا، ڈینگو اور ٹائیفائیڈ وغیرہ) کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو منااکھیلی گرام پنچایت کی جانب سے عوام سے ہر سال لاکھوں روپے ٹیکس کی وصولی سختی سے کی جاتی ہے، لیکن جب بات بنیادی صفائی ستھرائی اور نالیوں کی مرمت کی آتی ہے تو پنچایت فنڈز کی کمی کا رونا روتی ہے۔ مختلف بلاکس میں کچرے کے ڈھیر گرام پنچایت کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں
 بارش کا سلسلہ شروع ہونے کے باعث گندگی اور وبائی امراض پھیلنے کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں منااکھیلی کی  عوام نے ضلع پنچایت بیدر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) اور چٹگوپہ تعلقہ پنچایت کے ایگزیکٹو آفیسر (EO) سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں لاپرواہ پی ڈی او اور ایڈمنسٹریٹر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے اور بلاک نمبر 7 کی نالی کی صفائی سمیت ڈیک سلیب کو ترجیحی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے