گڈی بنڈہ-18 جون (محمد یوسف رحیم بیدری): موجودہ حالات میں اردو اسکولوں میں داخلے کم ہو رہیے ہے۔ جس کی وجہ سے اردو اسکولوں کو بند ہونے کی صورتحال کا سامنا ہے۔ اردو اسکولوں کو بچانے کے لئے والدین اور ملت کے ذمہ داران و مسلم لیڈران کا تعاون ضروری ہے…
یہ کرناٹک اردو ساہتیہ پریشد کے ریاستی صدر محمد ناصر نے
یہاں کی سرکاری اردو اسکول میں بچوں کو  نوٹ بکس تقسیم کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کہا….
انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اردو اسکولوں میں داخل کرائیں..
  ہم اپنی طرف سے اردو اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کریں گے، میں اردو اسکولوں کے بچوں کی خدمت کے لئے ہمہ وقت تیار ہوں، اگر والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کرائیں تو وہ بہت سے فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہم بند ہوی اردو اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔  ریاست بھر میں 4526 اردو اسکول ہیں۔ہر سال ریاستِ میں 100 سے زیادہ اسکول بند ہوتے جارہے ہیں اردو اسکولوں کی بقا کے لئے تمام والدین کا تعاون ضروری ہے اگر ہم اردو زبان سے اردو اسکولوں سے دور رہیں توانے والے دنوں میں اردو زبان میں تعلیم تو کیا بات کرنا بھی مُشکِل ہوجائےگا
 انہوں نے کہا کہ یہ ایک تکلیف دہ بات ہے کہ والدین نجی اسکولوں میں  اپنے بچوں کو داخلہ دلا رہے ہیں۔ کرناٹکااردو ساہتیہ پریشد نے طلباء میں  نوٹ بک اور مختلف تعلیمی مواد تقسیم کیا۔
بی آر پی۔انیتا نے کہا کہ اردو اسکول گاؤں میں ایک ہی ہے اسے بچانے کی کوشش ہم افسران نہیں آپ والدین کرنا چاہئے ہمارا ساتھ بھی رہےگا اج اس پروگرام میں نوٹ بوکس تقسیم کیے ہیں اسی طرح ہر تنظیم ایک ایک اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو خدمتِ کرینگے تو قومِ کے بچوں کا بڑا فائدہ ہوگا اردو ساہتیہ پریشد تنظیم نے اردو اسکول جہاں جہاں بھی ہیں وہاں پہنچ کر بچوں کو بوکس شناختی کارڈز حجاب ٹوپی ہر ایک سہولیات کرتے آرہے ہیں
اس موقع پر کنڑا ساہتیہ پریشد اراکین  اردو اسکول کے. اساتذہ   کوثر سلطانہ کوثر۔ ریشما بانو ۔ نور الٰہی ۔ایس ڈی ایم سی ممبران اور دیگر نے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے