ظہیرآباد18/ جون (نمائندہ): ظہیرآباد کی مردم خیز اور علم و ادب نواز سرزمین ہمیشہ سے شعر و سخن کی آبیاری کرتی رہی ہے۔ یہاں منعقد ہونے والے مشاعرے نہ صرف مقامی بلکہ قومی و بین الاقوامی سطح کے ممتاز شعراء کی شرکت سے رونق پاتے رہے ہیں۔ ظہیرآباد کے سامعین کا اعلیٰ ادبی ذوق اور شعری فہم ان مشاعروں کو ایک منفرد وقار عطا کرتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار ممتاز و کہنہ مشق شاعر جناب سیف الدین غوریؔ سیف نے حیات ہاسپٹل، ظہیرآباد میں منعقدہ کامیاب غیر طرحی مشاعرے کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
مشاعرے کا آغاز الحاج سید شاہ افسر پاشاہ قادری کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ بعد ازاں کنوینرِ مشاعرہ جناب شفیع الدین شفیع ایڈوکیٹ نے اپنے موضوعاتی کلام سے سامعین کو محظوظ کیا اور خوب داد و تحسین حاصل کی۔
مشاعرے کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر نوید عبدالجلیل نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ انہوں نے اپنے دلکش اور مرصع کلام کے ذریعے سامعین کے دل جیت لیے اور حاضرین نے ان کے اشعار کو بھرپور پذیرائی بخشی۔
بارش کے باوجود شعر و ادب کے شائقین بڑی تعداد میں موجود رہے اور رات گئے تک نہایت انہماک اور دلجمعی کے ساتھ مشاعرے سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ صدرِ مشاعرہ جناب سیف الدین غوریؔ سیف نے اپنے صدارتی کلام سے محفل کو چار چاند لگا دیے۔ ان کے تحت اور ترنم میں پیش کیے گئے اشعار مشاعرے کا خاص حاصل ثابت ہوئے۔
اختتام پر جناب عبدالعلیم نے تمام شعراء، سامعین اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ اس نوعیت کے ادبی مشاعرے ہر ماہ کے دوسرے ہفتے میں حیات ہاسپٹل کے بالائی ہال میں باقاعدگی کے ساتھ منعقد کیے جائیں گے، تاکہ ظہیرآباد کی ادبی روایت کو مزید فروغ حاصل ہو اور شعر و ادب کے شائقین کو ایک مستقل ادبی پلیٹ فارم میسر آسکے۔۔۔۔
