ڈاکٹر سراج الدین ندویؔ
ہم نے الحمد للہ ایک بار پھر عید الاضحی کا تیوہار پوری شان و شوکت سے منایا ۔ہر جگہ قربانیاں کی گئیں لیکن قربانی کے مقاصد اور روح کو کم یاد کیا گیا ۔قربانی کا مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ کی محبت میں ہر چیز کو قربان کردیں ،اسی سے اللہ کا تقرب حاصل ہوتا ہے۔حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو اللہ کے حکم سے اللہ کی راہ میں قربان کرنا چاہا ۔ان کو یہ ثبوت دینا تھا کہ کہیں اللہ کی محبت پر بیٹے کی محبت تو غالب نہیں ہوگئی ہے ۔جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے بیٹے اور بیوی کو وادی غیر ذی ذرع میں چھوڑ کر آئے تھے اس وقت حضرت اسماعیل ؑ بہت چھوٹے تھے،اور ان ہی کے ایڑیاں رگڑنے سے اللہ نے زمزم جاری کیا تھا ،اب وہ نوعمر ہوچکے تھے۔ظاہر ہے ایک باپ نے جس بیٹے کو بڑی دعائوں کے ساتھ مانگا تھا ،اب ایک عرصہ کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے جب اسے گود میں لیا ہوگا ،اس کی بلائیں لی ہوں گی ،اس کو سینے سے لگایا ہوگاکس قدر پیار آیا ہوگا ؟لیکن اللہ نے پھر امتحان لیا کہ کہیں بیٹے کی محبت ہماری محبت پر غالب تو نہیں آگئی ہے۔ اس لیے حکم دیا کہ اپنے بیٹے کو ہمارے حکم پر قربان کردو۔بیٹا بھی ایک نبی کا تربیت یافتہ تھا اس لیے فورا تیار ہوگیا اور بولا:’’قَالَ یَآ اَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیٓ اِنْ شَآئَ اللّہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ ( صافات۔ 102 )‘‘ اے ابا جان آپ کو جو حکم ملا ہے اسے بجالائیے ،آپ مجھے ان شا ء اللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔نہ باپ نے یہ سوچا کہ محض ایک خواب ہے اور نہ بیٹے نے یہ کہا کہ ابو جان آپ نے خواب ہی تو دیکھا ہے۔نہ بیٹے کی امی نے یہ کہا کہ شوہر نامدار !آپ کہاں بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے جارہے ہیں یہ محض ایک خواب ہی تو ہے ۔تینوں اس بات پر متفق تھے کہ نبی کا خواب حکم کے درجے میں ہوتا ہے ۔یہ وہ خانوادہ تھا جو توحید پر قائم تھا ۔چنانچہ باپ نے بیٹے کو زمین پر لٹادیا اور چھری چلانا چاہی ،اسی وقت اللہ نے حضرت جبریل ؑکو جنت سے ایک مینڈھا لے کر بھیجا،حضرت جبرئیل ؑ نے کہا کہ اللہ نے آپ کی قربانی قبول کرلی ہے اور آپ کی خدمت میں اسماعیل ؑکے بدلے یہ مینڈھا بھیجا ہے اسے قربان کیجیے ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی اس فداکارانہ جذبہ کی یوں تعریف فرمائی۔:
فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّہ لِلْجَبِیْنِ ٭وَنَادَیْنَاہُ اَنْ یَّآ اِبْرَاہِیْمُ ٭قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ٭اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْبَلَآئُ الْمُبِیْنُ ٭وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ (سورہ صافات آیت103 تا107)
’’پس جب دونوں نے تسلیم کر لیا اور اس نے پیشانی کے بل ڈال دیا۔اور ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراھیم!۔تو نے خواب سچا کر دکھایا، بے شک ہم اسی طرح نیکو کاروں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔البتہ یہ صریح آزمائش ہے۔اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض دیا۔‘‘
الغرض اس امتحان میں اس محبت کو قربان کرنا تھا کہ جو اللہ کی محبت پر غالب آسکتی تھی ۔اس قربانی سے ہم نے یہ سیکھا ہے کہ ہر وہ چیز جو اللہ کی محبت پر غالب آسکتی ہو اسے قربان کردینا چاہیے ۔دوسری بات یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے اس قربانی کو حضرت ابراہیم ؑ کی سنت قرار دیا ہے ۔ قال اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یا رسول اللہ، ما ہذہ الاضاحی؟، قال:” سنۃ ابیکم إبراہیم”، قالوا: فما لنا فیہا یا رسول اللہ؟، قال:” بکل شعرۃ حسنۃ”، قالوا: فالصوف یا رسول اللہ؟، قال:” بکل شعرۃ من الصوف حسنۃ”.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے‘‘، لوگوں نے عرض کیا: تو ہم کو اس میں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی‘‘ لوگوں نے عرض کیا: اور بھیڑ میں اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بھیڑ میں (بھی) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے‘‘۔(ابن ماجہ)
قرآن مجید میں حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی کو امت محمدیہ کے لیے اسوہ قرار دیا ہے ۔ارشاد باری ہے :’’قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیٓ اِبْرَاہِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہ (ممتحنہ ۔ ۴)’’ یقینا تمہارے لیے ابراہین اور ان کے اصحاب کی زندگی میں اسوہ حسنہ ہے ‘‘۔
عید الاضحیٰ نے ہمیں یہ تربیت دی کہ ہم حضرت ابراہیم ؑکی زندگی کو اسوہ بنائیں اور آنے والی زندگی میں ان کی سیرت و کردار کی روشنی میں اپنی سیرت و کردار کو سنواریں ۔
حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی میں سب سے ابھرا ہوا پہلو توحید ہے ۔آپ جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کی پیدائش اس گھرانے میں ہوئی جہاں بت بنائے اور بیچے جاتے تھے یعنی آذر کے گھرمیں اور نمرود جو بادشاہ وقت تھا اس شرک کی سربراہی کررہا تھا ۔حضرت ابراہیم جس قوم میں پیدا ہوئے وہ شرک میں ڈوبی ہوئی تھی اور اپنے وقت کا بادشاہ نمرود اس کی قیادت کررہا تھا ،اس ماحول میں حضرت ابراہیم ؑ نے توحید کا پرچم بلند کیا ۔
ایک مرتبہ جب ان کے سالانہ میلہ کا وقت آیا اور قوم نے اپنے معبد میں جاکر اپنے بتوں کی پوجا کرنی چاہی تو انھوں نے دیکھا کہ ان کے سارے بت سوائے بڑے بت کے منہ کے بل اونددھے گرے پڑے ہیں اور ٹوٹے پھوٹے ہیں ،یہ دیکھ کر قوم کو غصہ آیا اور اس نے کہا کہ ہمارے معبودوں کا یہ حال کس نے کیا ہے ۔انھیں بتایا گیا کہ ابراہیم اس طرح کی باتیں ہے کہ ان بتوں کی پوجا نہ کرو ہوسکتا ہے یہ اسی کی کارستانی ہو۔چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ کو طلب کیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ اے ابراہیم یہ سب کیا تم نے کیا ہے؟ پورے واوقعہ کواس طرح بیان کیا گیا ہے ۔
اور اللہ کی قسم! میں تمہارے بتوں کا علاج کروں گا جب تم پیٹھ پھیر کر جا چکو گے۔پھر ان کے بڑے کے سوا سب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تاکہ اس کی طرف رجوع کریں۔انہوں نے کہا ہمارے معبودوں کے ساتھ کس نے یہ کیا ہے، بے شک وہ ظالموں میں سے ہے۔انہوں نے کہا ہم نے سنا ہے کہ ایک جوان بتوں کو کچھ کہا کرتا ہے اسے ابراہیم کہتے ہیں۔کہنے لگے اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ دیکھیں۔کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے۔کہا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کیا ہے سو ان سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں۔پھر وہ اپنے دل میں سوچ کر کہنے لگے بے شک تم ہی بے انصاف ہو۔پھر انہوں نے سر نیچا کر کے کہا تو جانتا ہے کہ یہ بولا نہیں کرتے۔کہا پھر کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی پوجا کرتے ہو جو نہ تمہیں نفع دے سکے اور نہ نقصان پہنچا سکے۔میں تم سے اور جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو بیزار ہوں، پھر کیا تمہیں عقل نہیں ہے۔انہوں نے کہا اگر تمہیں کچھ کرنا ہے تو اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔ہم نے کہا اے آگ! ابراہیم پر سرد اور راحت ہوجا۔(الانبیاء آیت 57 تا 69)
یعنی قوم نے حضرت ابراہیم ؑ کی معقول بات کو درکنار کردیااور بجائے اس کے کہ وہ ان بتوں کی حقیقت سمجھنے کے بعد شرک سے توبہ کرتی انھوں حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں جلانے کا فیصلہ کیا ،لیکن حضرت ابراہیم ؑ نے بھی آگ میں جلنا منظور کیا اور کسی بھی حال میں توحید سے دست برداری قبول نہ کی ۔چنانچہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب جب لوگوں نے شرک کے خلاف توحید کا علم بلند کیا ہے تو آزمائشوںنے ان کا استقبال کیا ہے ،لیکن بالآ خر فتح و کامرانی توحید پرستوں ہی کو حاصل ہوئی ہے ۔آج ہندوستان کے موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں توحید خالص کی دعوت دی جائے ۔آج بھی جب توحید کی دعوت دی جائے گی تو لوگوں کے کان کھڑے ہوں گے ،جب یہ دعوت زور پکڑے گی تو لوگ سوچیں گے کہ یہ دعوت کیا ہے اور اس کو قبول کریں گے اور ہمارے ملک میں توحید پر مبنی اللہ کا نظام نافذ ہوگا۔
بہر حال توحید کی دعوت دینا اور اس راستے میں پیش آنے والی تمام مصیبتوں اور آزمائشوں کو برداشت کرنا اور فتنوں کا مقابلہ کرنا ہی اسوہ ابراہیمی ہے اور عید الاضحیٰ نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ توحید خالص کی طرف پلٹیں ۔آج خود ملت اسلامیہ میں طرح طرح کی شرک و بدعات پائی جاتی ہیں ،سب سے پہلے ہم خود مسلمانوں کو توحید پر لائیں اور موحد بنائیں اور پھر دوسروں کو دعوت دیں ۔ہماری ذمہ داری یہ بنتی کہ ہم ملت اسلامیہ میں مختلف معاملات اور امور میں جو شرک کی ملاوٹ اور آویزشیں ہیں اس کی تطہیر کریں ۔اس کے بعد لوگوں کو توحید خالص کی دعوت دیں ۔بجائے اس کے کہ ہم گھما پھرا کر دعوت دیں ،ہمیں توحید خالص کی طرف انسانوں کو بلانا چاہیے اس کے بہت جلد اچھے نتائج حاصل ہوسکتے ہیں ۔ظاہر ہے نمرود اپنے وقت کا سب سے بڑا بادشاہ تھا۔اور بڑی طاقت و قوت اور اثرات اس کے پاس تھے ،لیکن حضرت ابراہیمؑ نے کوئی مداہنت نہیں برتی بلکہ اس کو بھی توحید خالص کی دعوت دی اور اس پر حق کی شہادت دی ،تو اللہ کی مدد سے وہ کامیاب ہوئے۔حضرت ابراہیم ؑ کے اسوہ کا تقاضا ہے کہ ہم توحید کی دعوت دیں ،ہمارے لیے بھی آج کے نمرود نے آگ کا الائو تیار کررکھا ہے ،لیکن اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لاالٰہ الااللہ
انبیاء علیہم السلام کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ توحید کی امانت اپنے سینوں میں محفوظ رکھتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں تو پھر یہ دعوت اثر پذیر ہوسکتی ہے اور اس دعوت کے مخالفین نشانہ عبرت بن سکتے ہیں ،اس لیے ہمیں توحید کی دعوت دینا چاہئے ۔ہمیں حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی کو اسوہ بنا کر اپنے لیے نشانات منزل طے کرنے چاہئیں۔
اس وقت ہندوستان کے حالات بہت ناگفتہ بہ ہیں۔ملک میں ایک خاص فکر اور تہذیب کو مسلط کرنے کی کوشش بلکہ یوں کہیے کہ سازش بہت دنوں سے جاری ہیں ،جس کی وجہ سے اہل اسلام کی ہمتیں پست ہورہی ہیں اور شرپسندوں کے حوصلوں میں اضافہ ہورہا ہے ،نفرت کا دیو ننگا ناچ رہا ہے جوپیار و محبت کے تمام سرچشموں کونگلنے کی کوشش کررہا ہے۔دوسری طرف ہمارا ملک جو کبھی اپنی رواداری ،آپسی محبت کے
لیے پوری دنیا میں مشہور تھا وہ آج منفی سوچ اور منفی رویوں کے خطرناک مور پر کھڑا ہوا ہے ۔بہت سارے ایسے چیلینجز اور مسائل درپیش ہیں جن کو ہمارے قائدین حل کرنا دور کی بات ہے ،بلکہ ان سازشوں کی تہہ تک بھی نہیں پہنچ پارہے ہیں جو ہمارے تہذیبی ورثہ کو نیست و نابود کے لیے کی جارہی ہیں ۔
سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارا احساس زیاں جاتا رہا ہے ،ملت احساس زیاں کو کھوچکی ہے ۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
اور اس سلسلہ میں مذہبی قیادت بھی بے بس نظر آتی ہے ،اس کے سامنے کوئی منصوبہ ،کوئی دور رس پروگرام نہیں ہے جو ملت کو ان مسائل سے نکال سکے ،بلکہ ہمارے درمیان ہی کچھ ایسے لوگ ہیں اور آستین کے سانپ ہیں جو اس سازش کا حصہ بنے ہوئے ہیں اوراس یلغار میں دشمن کے ساتھ مل کر اسلامی تہذیب کی غارت گری کے لیے کام کام رہے ہیں ۔یہ وہ حالات ہیں جو ہمیں پھر اسوہ ابراہیمی کی طرف پلٹنے کی ضرورت کا احساس دلا رہے ہیں اگر ہم نے اب بھی اسوہ براہیمی کو نہیں اپنایا اور لوگوں کو توحید کی طرف نہیں بلایا ،اور اپنے اندر قربانی کا جذبہ پیدا نہیں کیا تو بقول علامہ اقبال :
نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ہندی مسلمانوں
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
یہ ضروری ہے کہ ہم قرآن پاک کا وہ سبق یاد رکھیں جو ان حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے قرآن پاک سکھاتا ہے اور اسوہ براہیمی کو حرز جاں بنائیں ،جو ان حالات میں اعلائے کلۃ اللہ کے لیے ہماری رہنمائی کرتا ہے اور ہمیں حوصلہ دیتا ہے اور حضرت ابراہیم و اسماعیل کا رول ماڈل اورکردار ہمیشہ سامنے رہنا چاہئے جس کے بارے علامہ اقبال ؒنے کہا تھا :
آج بھی ہو جو براہیم ساایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا
