ابو احمد مہراج گنج۔
اردوکے سدا بہار شاعر دادا غالب کا ایک شعر ہے
بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
اس شعر کا پس منظر جن کو نہیں معلوم ان سے معذرت خواہ ہوں ۔ امید کرتا ہوں کہ جاننے کی کوشش کریں گے اور جنھیں معلوم ہے ان کا شکر گزار ہوں شاید وہ بھی میری طرح آوارہ مزاجی کا شکار ہیں ۔
"نسمکار میں روش کمار” یہ جملہ کبھی نہ کبھی تو آپ کے گوش گزار ہوا ہی ہوگا، مجھے آج اسی روش کمار کی بات کرنا ہے۔
روش کمار کی پہچان ایک کھلے دل و دماغ اور روشن خیال اینکر کی ہے جو اپنی محنت اور قابلیت کے دم پر بھارت کے کروڑوں دلوں پر حکومت کرتے ہیں ۔
روش کمار نے روایتی صحافت سے انحراف کرتے ہوئے حکومت وقت سے سوالات پوچھنے کی جسارت کی اور شاہ وقت کا مصاحب بننے کے بجائے عوام کا مصاحب بننا پسند کیا ۔ خود کو شاہ وقت کا نہ تو موافق بنایا اور نہ ہی مخالف ۔ مگر شاہ کے مصاحبوں کو یہ بیچ کا راستہ راس نہیں آیا اور انھوں نے روش کمار کو شاہ کا مخالف ثابت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھا، غالب کا یہ شعر میں روش کمار کی طرف سے شاہ وقت کے مصاحب ان اینکرز کو نذر کرتا ہوں جن کو اپنی قابلیت اور اپنی قدرو قیمت اور عوام الناس میں ان کی حیثیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ عوامی مقامات پر رپورٹنگ کرنے جاتے ہیں ۔
آج 14/جولائی کو روش کمار کی صحافت اور بھارت میں میڈیا کی بدحواسی پر مشتمل فلم "While We Watched ” لندن کے سنیما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کی جاۓ گی۔ اس فلم کے موجد ہیں "ونے شکلا” ۔ روش کمار نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس کی خبر دی ہے ۔ اور "مشن امپوسیبل” کے ٹام کروز سے درخواست کی ہے کہ لندن میں آج کے لئے وہ اپنی فلم کی نمائش ملتوی کردیں۔
اس خبر کے بتانے کا لب لباب یہ ہے کہ "سچ بولنے سچ لکھنے اور سچائی پر ڈالے گئے پرت در پرت پردوں کو اٹھانے کی کوشش میں روش کمار کو کس قدر ذہنی اذیت سے گزرنا پڑا ہوگا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماں بہن کی گالیاں دینے کے بعد بھی جب روش کمار کو اس کے مشن سے نہیں روکا جاسکا تو اب روش کو مسلمان اور مدرسہ اسٹوڈنٹ ہونے کا طعنہ دیا جانے لگا ۔
کچھ اندھ بھکت روش کمار کو اب "خانگریسی پتل کار ربیش الدین ” لکھ رہے ہیں تو کچھ لکھ رہے ہیں کہ "مولانا ربیش الدین مدرسے میں پڑھتے پڑھتے اندھ نمازی سے اندھ ورودھی ہوگیا ہے”۔
ان حالات میں اگر کوئی آپ کی بات کرے نہ کرے آپ کے مسائل پر روشنی ڈالے نہ ڈالے ، آپ کے سماجی سیاسی اور معاشرتی تنزل کو اپنی خبروں میں جگہ دے یا نہ دے لیکن اس کے باوجود بھی اگر اس کو آپ کے کنبے قبیلے کا بنا دیا جائے ۔ اس کو روش کمار سے ربیش الدین لکھا جانے لگے ، اس کو مدرسہ اسٹوڈنٹ کہا جانے لگے تو ایسے میں ہمارا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ہم بھی اس کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھانے میں تامل اور تکاسل سے کام نہ لیں اور روش کمار آفیشیل یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں۔ میں فلم دیکھنے کو تو نہیں کہہ سکتا، ویسے اگر دیکھ لیں تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس میں ہیرو ہیروئن اور کسنگ سین نہیں ہوگا۔
نواز دیوبندی صاحب کا یہ شعر روش کمار کے لیے
وہ جو دھوپ تھی وہ سمٹ گئی ، وہ جو چاندنی تھی بکھر گئی
مگر ایک جگنو حقیر سا ابھی تیرگی کے خلاف ہے
