زین العابدین

ہمارے معاشرے میں کئی ایسے اعمال , کئی ایسے کام انجام دیئے جاتے ہیں جسے بالکل معمولی سمجھا جاتا ہے اسی کا آج رد عمل پیش کررہا ہوں۔

اول۔ مرد ہوں یا عورت عموماً دیکھا و سنا گیا کہ لوگ مٹھائی کی دوکان پر اس نیت سے جاتے ہیں کہ مٹھائی لینا نہیں ہے بس ٹیسٹ کرنا ہے اور اسی ٹیسٹ کرنے کے بہانے تھوڑا تھوڑا کرکے پچاس گرام, سو گرام مٹھائی کھا لیتے ہیں ۔ اگر مٹھائی لینا ہو تو یہ عمل درست ہے کہ آپ ٹیسٹ کرکے مٹھائی لیں مگر فقط نیت ٹیسٹ کے بہانے مٹھائی کھانے کی ہو تو یہ بالکل عمل جائز نہیں ہے۔

دوم۔ بعض دفعہ بازار میں ,یا مختلف فیلڈ کی مخلتف مارکیٹ میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو نہایت مہنگی ہوتی ہے مگر اس سامان کے مالک کو پتہ نہیں ہوتا ہے ۔ مثلاً کوئی چیز کی قیمت دو ہزار ہے اب مالک کو اس کا علم نہیں ہے اور لینے والا اس کی قیمت سو دو سو روپیہ دے کر لے لیتا ہے اسے یہ علم ہے کہ یہ چیز بہت مہنگا ہے تو اس کو اس کی قیمت ادا کرنا چاہیئے اگر آپ نہیں ادا کرتے ہیں تو یہ بالکل جائز نہیں ہے ۔

سوم۔ اسی طرح عطر کی دوکان ہے ۔اگر آپ کی نیت ہے خوشبو لینے کی تو آپ دوکان کے مالک سے خوشبو لگا کر ٹیسٹ کریں اور خریدیں اور فقط نیت یہ ہے کہ عطر کی دوکان میں جاکر تین چار قسم کی یا ایک دو قسم کی خوشبو لگاوں گا اور یہ بول کر نکل جاوں گا کہ خوشبو سمجھ میں نہیں آیا یا بہت مہنگا ہے تو ایسی صورت میں بھی یہ بالکل جائز نہیں ہے ۔

چہارم۔ بعض دفعہ ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ انسان کے پاس وقت پر پیسہ جمع نہیں ہوپاتا ہے اور وہ بلکل پریشان ہوجاتا ہے مثلا اسپتال کا معاملہ ہے اسکے اہل و عیال میں کسی کی طبیعت کافی ناساز ہے آپریشن کا معاملہ یا سرجری کا معاملہ یا کچھ اور معاملہ ہے جس کے علاج میں کافی پیسہ لگ رہا ہو اب اسکے پاس اپنی قیمتی سامان بیچنے کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا ہو تو ایسی صورت حال میں اگر اس کا کوئی رشتہ دار یا دوست احباب اس کی مہنگی چیز کو مثلا , موبائیل, بائک, کار, سونا, گھر, کھیت کو اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہایت کم قیمت پر خرید لیتا ہے تو یہ عمل بھی بالکل ناجائز ہے ۔۔

اللہ ہمیں اپنے اعمال کی اصلاح کرنے کی توفیق دے آمین ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے