امام حسن رضی اللہ عنہ پر کفر کا فتویٰ! 

احمد حسین مظاہریؔ پرولیا 

آج کے اِس پر فتن و پُر آشوب اور تلاطم خیز دور میں ہر کس و ناکس ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ عائد کررہا ہے؛ دینی تنظیم ہو یا سیاسی یا جماعت جہاں یا کہیں بھی منافقین.. کو ناقابلِ تسلیم نیز مزاج کے خلاف بات درپیش ہوگی فی الفور تکفیر بازی شروع کردیں گے! اور لوگوں کے اَثنا تنازع برپا کریں گے۔

یہ ام الامراض کفار میں بیشتر پایاجاتا تھا حیف درحیف کے اب مسلمانوں کے مابین نظرنواز ہو رہا ہے۔

قارئین! درج ذیل میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے واقعہ کو سپردِ قرطاس کیا جارہا ہے بالاستیعاب ملاحظہ فرمائیں! فی زماننا ہمارے معاشرے میں یہ ہی حال ہے کہ جب صلح کی بات آتی ہے تو اپنے ہی دشمن بن جاتے ہیں……!

قارئین! امام حسن ؓ نے لوگوں کو مجتمع کرکے یہ خطبہ دیا:لوگو! تم نے میرے ہاتھ پر اس شرط کے ساتھ بیعت کی ہے کہ صلح وجنگ میں میری متابعت کرو گے‘میں خدائے برتر و توانا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھ کو کسی سے بغض و عداوت نہیں‘مشرق سے مغرب تک ایک شخص بھی مجھ کو ایسا نظر نہیں آتا کہ میرے دل میں اس کی طرف سے رنج و ملال اور نفرت و کراہت ہو‘اتفاق و اتحاد‘محبت و سلامتی اور صلح و اصلاح کو میں نااتفاقی اور دشمنی سے بہر حال بہتر سمجھتا ہوں۔۔

اس تقریر کو سن کر خوارج اور منافقین نے فوراً لشکر میں یہ بات مشہور کر دی کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرنا چاہتے ہیں پھر ساتھ ہی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پر کفر کا فتویٰ لگا دیا۔

معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ لگانے کی رسم منافقوں اور سبائیوں کی ایجاد کردہ رسم ہے‘انہیں لوگوں نے سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا تھا‘ کس قدر حیرت کا مقام ہے کہ آج ہمارے زمانے کے بڑے بڑے اعلم العلماء اور افضل الفضلاء کہلانے والے جبہ پوش مفتی منافقوں اور مسلم نما یہودیوں کی اس پلید سنت کے زندہ رکھنے اور امت محمدیہ کے شیرازہ کو اپنی تکفیر بازی و فتویٰ گری کے خنجر سے پارہ پارہ اور پریشان کرنے میں پوری مستعدی و سرگرمی کو کام میں لا رہے ہیں‘{انا للہ و انا الیہ راجعون}

غرض اس کفر یہ فتوٰے کا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لشکر پر یہ اثر ہوا کہ تمام لشکر میں ہلچل مچ گئی‘ کوئی کہتا تھا کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کافر ہو گئے‘ کوئی کہتا تھا کہ کافر نہیں ہوئے‘ آخرکار کافر کہنے والوں کا زور ہو گیا اور انہوں نے اپنے مخالف خیال لوگوں پر زیادتی اور مار دھاڑ شروع کر دی‘پھر بہت سے لوگ کافر کافر کہتے ہوئے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے خیمے میں گھس آئے اور ہر طرف سے آپ کا لباس پکڑ پکڑ کر کھینچنا شروع کیا‘ یہاں تک کہ آپ کے جسم پر تمام لباس پارہ پارہ ہو گیا‘آپ کے کاندھے پر سے چادر کھینچ کر لے گئے‘ اور ہر چیز خیمے کی لوٹ لی‘ یہ حال دیکھ کر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فوراً اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور قوم ربیعہ و ہمدان کو آواز دی‘یہ دونوں قبیلے آپ کی حمایت و حفاظت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور بدمعاشوں کو آپ کے پاس سے دفع کرنے میں کامیاب ہوئے‘ کچھ دیر کے بعد وہ شور و شر جو لشکر میں برپا تھا، فرو ہوا وہاں سے آپ شہر مدائن کی طرف روانہ ہوئے‘ راستے میں ایک خارجی نے جس کو جراح بن قبیصہ کہتے تھے موقع پا کر آپ کے ایک نیزہ مارا جس سے آپ کی ران زخمی ہوئی‘ آپ کو ایک چار پائی یا سر پر اٹھا کر مدائن کے قصر ابیض میں لائے اور وہیں آپ مقیم ہوئے‘ عبداللہ بن حنظل اور عبداللہ بن ظبیان نے جراح بن قبیصہ خارجی کو قتل کیا‘ قصرابیض میں آپ کے زخم کا علاج جراحوں نے کیا اور جلد یہ زخم اچھا ہو گیا۔

قیس بن سعد جو بارہ ہزار کا لشکر لے کر بطور مقدمۃ الجیش آگے روانہ ہوئے تھے مقاممیں مقیم تھے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے آ کر ان کا محاصرہ کر لیا‘ اور عبداللہ بن عامر کو تحریک صلح کے لیے مدائن کی طرف بطور مقدمۃ الجیش روانہ کیا‘ ادھر مدائن میں پہنچ کر اور اپنے لشکر والوں کی یہ بدتمیزیاں دیکھ کر سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ پہلے ہی صلح کا ارادہ کر کے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک قاصد یعنی عبداللہ بن حارث بن نوفل کو جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بھانجے تھے مع درخواست صلح روانہ کر چکے تھے۔

عبداللہ بن عامر کو مدائن کے قریب پہنچا ہوا سن کر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مقابلہ کے لیے معہ لشکر مدائن سے نکلے‘ عبداللہ بن عامر نے اپنے مقابلہ پر لشکر کو آتا ہوا دیکھ کر اور قریب پہنچ کر اہل عراق کو مخاطب کر کے کہا کہ میں لڑنے کے لیے نہیں آیاہوں‘ میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا مقدمۃ الجیش ہوں اور امیر معاویہ انبار میں بڑے لشکر کے ساتھ مقیم ہیں‘ تم لوگ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خدمت میں میرا سلام پہنچائو اور عرض کرو کہ عبداللہ آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا ہے کہ لڑائی سے ہاتھ روکو تاکہ ہلاکت سے بچ جائیں‘ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو مدائن میں واپس چلے آئے اور عبداللہ کے پاس پیغام بھیجا کہ میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے اور خلافت سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہوں بشرطیکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میری چند شرطیں منظور کر لیں جن میں سب سے مقدم یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کتاب و سنت پر عامل رہنے اور سابقہ مخالفتوں کو فراموش کر کے کسی کے جان و مال سے تعرض نہ کرنے اور ہمارے طرف داروں کو جان کی امان دینے کا وعدہ کر لیں‘ والصلح خیر۔

عبداللہ بن عامر یہ سن کر فوراً سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئے اور کہا کہ چند شرطوں کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ تفویض خلافت پر آمادہ ہیں‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا‘ وہ شرطیں کیا ہیں؟ عبداللہ بن عامر نے کہا کہ پہلی شرط یہ ہے کہ جب تم فوت ہو جائو تو تمہارے بعد خلافت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو ملے‘ دوسری شرط یہ ہے کہ جب تک تم زندہ رہو ہر سال پانچ لاکھ درہم سالانہ بیت المال سے امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجتے رہو‘ تیسری شرط یہ ہے کہ علاقہ اہواز و فارس کا خراج امام حسن رضی اللہ عنہ کو ملا کرے۔

یہ تینوں شرطیں عبداللہ بن عامر نے بطور خود سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے پیش کر کے پھر وہ شرطیں سنائیں جو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عامر سے کہلا کر بھجوائی تھیں۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھ کو یہ تمام شرطیں منظور ہیں‘اور سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ ان کے علاوہ بھی کوئی اور شرط پیش کریں گے تو وہ بھی مجھ کو منظور ہے کیونکہ ان کی نیت نیک معلوم ہوتی ہے‘ اور وہ مسلمانوں میں صلح و آشتی کے خواہاں نظر آتے ہیں‘یہ کہہ کر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک سفید کاغذ پر اپنی مہر و دستخط ثبت کر کے عبداللہ بن عامر کو دیا اور کہا کہ یہ کاغذ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس لے جائو اور ان سے کہو کہ جو جو شرطیں آپ چاہیں اس کاغذ پر لکھ لیں میں سب کو پورا کرنے کے لیے تیار ہوں۔سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ صلح پر آمادہ ہیں تو وہ ان کے پاس آئے اور اس ارادے سےباصرار باز رکھنا چاہا‘ لیکن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان کی رائے کو پسند نہ فرمایا‘ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زمانے سے اہل کوفہ اور اہل عراق کو دیکھ رہے تھے‘ دوسری طرف امیر معاویہ رضی اللہ عنہ انتظام ملکی اور نظام حکومت کی مضبوطی بھی ان کے پیش نظر تھی‘لہذا صلح کے ارادے پر قائم رہے۔………….(جاری)

(اقتباس: تاریخِ اسلام جلد/1)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے