سہارنپور(احمد رضا): کل ضلع ہردوار کے سبزی منڈی علاقہ میں کاوڑیوں نے بلاوجہ ایک کار سوار مسلم جوڑے کو روکا مارا پیٹا ان کو گندی گندی گالیاں دیتے ہوئے کار سے باہر نکال کر پھر گالیاں بکی تھپڑ رسید کئے اور انکی کار کو پلٹ کر بری طرح سے توڑ پھوڑ دیا پولیس نے کہ دیا کہ یہاں مسلم افراد کے ساتھ کوئی مار پیٹ نہی ہوئی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم طبقہ یہ ذلت اور رسوائی اپنے ہی ملک میں آخر کب تک برداشت کر تا رہیگا کیا اس جبر کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمارے قائدین میں ہمت نہیں رہی یا ہمارے بڑوں کا ایمان سرکاری مشینری کے جبر اور ظلم کے سامنے اس قدر کمزور پڑ گیا ہے کہ وہ بولنے کی ہمت ہی نہیں جٹا  پا رہا ہے کل ملاکر سرکار اور ظالموں کی دہشت دلوں میں بھر گئی ہے ایمان کے تقاضے کے مطابق جھوٹ اور سچ پر زبان نہی کھل رہی ہے!

عالم دین مفتی محمد صادق مظاہری سے جب قوم کی رسوائی اور پستی کی بابت گفتگو کی گئی تو حضرت نے بتایا کہ دین اسلام کی تعلیمات سے آج ہم بہت دور ہو چکے ہیں خد غرضی کے تابع ہیں کسی سے کوئی ہمدردی نہیں صرف خد کو اچھا دکھانے کی کوشش کیجا رہی جو قطعی کفر کے متعارف ہے خدا ہماری اور ہمارے ایمان کی حفاظت فر ما ئے اگر آپ غور کریں تو معلوم پڑیگا کہ آج ہمارے نوجوانوں کا بہت بڑا طبقہ ایسا ہے کہ وہ خلفاء راشدین تک کو نہیں جانتا، عبادت کے طور طریقے کو نہیں جانتا مگر یہ جانتا ہے کہ میرا کون سا فرقہ ہے اور میرے فرقے اور مکتب فکر کے کیا اصول و ضوابط ہیں اس پر وہ عمل پیرا ہے،، حالات پر غور فکر کرنے اور اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے اختلافات سے اب تک کتنا نقصان ہوا ہے اور کس کا نقصان ہوا ہے کوئی ضد پر اڑا رہا کہ تین طلاق ایک مجلس میں دینے سے ایک ہی واقع ہوگی تو کوئی کہتا رہا کہ تین طلاق جب بھی دی جائے گی وہ فوری واقع ہوجائے گی دونوں اپنے اپنے دلائل پیش کرتے رہے اور حکومت نے طلاق ثلاثہ بل پاس کردیا۔

عالم دین مفتی محمد صادق مظاہری نے واضع کیا کہ ہم خود مسلمانوں نے مسجد احناف، مسجد اہلحدیث، مسجد اہلسنت والجماعت جیسا بورڈ اور ٹائٹل مساجد کی دیواروں اور دروازوں پر لگاتے رہے اور بابری مسجد مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گئ اور مسلمان بابری مسجد سے محروم ہوگیا، اس کے پیچھے نماز نہیں ہوگی تو اس کے پیچھے نماز نہیں ہوگی تقریر و تحریر اور اسٹیج و اشتہارات سے یہ پیغام دیتے رہے اور اب عوامی مقامات پر نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی گئی ورنہ بس اسٹیشن ہو یا ریلوے اسٹیشن چاہے ایرپورٹ ہی کیوں نہ ہو وقت ہوجانے پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے یہاں تک کہ ملک کے مختلف علاقوں شہروں میں کتنی ایسی مسجدیں تھیں جو پر ہوجایا کرتی تھیں تو باہر بھی صفیں لگا کرتی تھیں مگر اب ایسا نہیں ہے ،،اور موجودہ دور میں یونیفارم سول کوڈ کے نام پر ماحول گرم ہے تو پھر مسلمانوں کی بات کی جانے لگی یونیفارم سول کوڈ کے بارے میں مزید کچھ کہنا نہیں ہے بلکہ یہ کہنا ہے کہ کب ہم اپنے حالات اور کردار پر غور کریں گے کب تک ہم پیدا شدہ مسائل کو لے کر عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہیں گے آخر وہ دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے بیدار اور تیار کیوں نہیں ہوتے جہاں قانون بنتا ہے! قابل حیرت بات ہے کہ سرکار کی خوشنودی کے لئے ہمارے علماء کرام اور مدارس کا کچھہ طبقہ اسلامیہ بھی یوگا کے نام پر متحد و متفق ہوگیا ہے باقائدہ یوگا کرتا ہے اور فوٹو جاری کئے جاتے ہیں۔

مفتی محمد صادق نے صاف طور سے کہا کہ ہم سچے پکے مسلمان ہیں ہم کو اللہ تعالیٰ کی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سب سے مقدم ہے ہم دین اسلام کے خلاف ایک ذرہ بھر بھی ادھر ادھر نہی ہو سکتے یہی مضبوط ایمان ہونے کا تقاضہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم مسلم اقوام کے نام پر کب متحد اور ایک راۓ ہوں گے؟ ملت اسلامیہ کے 30 کروڑ عوام کو کب سیدھا پیغام دیں گے تاکہ عوام ساری باتوں کو آسانی سے سمجھ سکے اور امت مسلمہ میں مزید انتشار پیدا نہ ہو سکے اور سبھی اہل ایمان مسلم افراد اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے اور تفرقہ بازی سے باز آجائے، شیشہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح نظر آئیں پھر قوم اغیار جو قرآن وحدیث کی تعلیمات سے اکثر وبیشتر متاثر ہوجایا کرتی ہیں وہ ہمارے اخلاق و کردار سے بھی متاثر ہونے لگیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے