مدرسہ اصلاح البنات، قاضی پورہ خورد، گورکھپور میں افتتاحِ بخاری شریف
گورکھپور:۲۳ /اپریل ۲۰۲۶ء بروز جمعرات تین بجے سہ پہر کو مدرسہ اصلاح البنات (مدرسہ سعیدیہ) قاضی پورہ خورد، گورکھپور میں بخاری شریف کا افتتاح ہوا۔ بخاری شریف کی پہلی حدیث کا درس دیتے ہوئے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے موقر استاد حدیث وفقہ جناب مولانا مفتی رحمت اللہ صاحب ندوی نے فرمایا:امام بخاری اور ان کی صحیح بخاری شریف کو اللہ تعالیٰ نے قبولیت، شہرت، اور دوام و استحکام اخلاص کی وجہ سے عطا فرمایا۔ اخلاص میں بڑی تاثیر اور کشش ہے، یہی وجہ ہے کہ امام بخاری "امیر المؤمنین فی الحدیث” کہلائے اور ان کی کتاب "اصح الکتب بعد کتاب اللہ” قرار پائی۔ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے بڑا اعلیٰ مقام اور بلند رتبہ عطا فرمایا۔ آج بھی عزت، شہرت، مقبولیت، محبوبیت، تاثیر و جاذبیت اور مقام و مرتبہ ہمیں اخلاص سے ملے گا۔ مخلص کبھی ضائع نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا کام رائیگاں جاتا ہے۔
مہمانِ خصوصی نے امام بخاری کے حالاتِ زندگی اور ان کی صحیح بخاری کی خصوصیات و امتیازات پر بھی روشنی ڈالی، اور سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے طالبات، معلمات اور خواتینِ اسلام کو قیمتی نصیحتوں سے نوازا، اور امام بخاری کی والدہ محترمہ کی قربانیوں اور محنتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امام بخاری بچپن میں یتیم ہو گئے تھے،ان کی والدہ محترمہ نے پرورش میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور ان کی تعلیم و تربیت سے ہمت نہ ہاری، ان کی کوشش کا نتیجہ امام بخاری کی شکل میں سامنے آیا ،اوراس کا رنگ دنیا نے دیکھا، آج ہماری مائیں ان سے سبق لے کر اپنے جگر گوشوں کو کامیاب انسان بنا سکتی ہیں۔اور اسی طرح کی مثالی تربیت کا نمونہ پیش کر سکتی ہیں ۔
یہ افتتاحی نشست ایک گھنٹہ جاری رہی، جس کے محرک اور داعی مفتی محمد طارق رفیع ندوی اور ان کی اہلیہ محترمہ مبشرہ صاحبہ تھیں۔ الحمدللہ! پروگرام بہت کامیاب رہا، خواتین بڑی تعداد میں شریک رہیں، درس سے خوب فائدہ اٹھایا۔ اورمدرسہ کے تعلیمی و تربیتی نظام پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا، مدرسہ کی مدیرہ محترمہ مبشرہ خاتون صاحبہ کی کارکردگی کو سب نے سراہا ،اور مبارک باد دی۔
اس پر مسرت موقع اور مبارک تقریب میں مفتی محمد طارق رفیع ندوی لہرپوری کے علاوہ محترم جناب مطیع اللہ صاحب ، مفتی محمد افضل قاسمی، مولانا عتیق الرحمٰن ندوی، ثناء اللہ، ولی اللہ،یوشع طارق اور دیگر حضرات نے شرکت کی۔ آخر میں مفتی طارق ندوی نے کلماتِ تشکر پیش کیے اور مہمانِ خصوصی کی رقت آمیز اور مؤثر دعا پر تقریب کا اختتام ہوا۔
