)ماہ ربیع الاول کی مناسبت سے اہم مضمون(

ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ڈائریکٹر مرکز تعلیم القرآن

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ یہ جہاں پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے، وہیں اس میں اس عظیم ہستی کا بھی بار بار ذکر ہے جس کے ذریعے یہ کتاب دنیا تک پہنچی۔ قرآن نے کہیں آپ کو نبی کہا، کہیں رسول، کہیں خاتم النبیین، کہیں رحمۃً للعالمین کی صفت سے یاد کیا، کہیں آپ کے اخلاق کی بلندی بیان کی، کہیں آپ کی شفقت و نرمی کا تذکرہ کیا اور کہیں آپ کی اس بے قراری کا ذکر کیا کہ آپ چاہتے تھے کہ پوری انسانیت ہدایت کی راہ اختیار کرلے۔ قرآن کے پارے پارے میں سیرتِ محمدی ؐ کے ایسے روشن نقوش بکھرے ہوئے ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے دل عقیدت سے جھک جاتا ہے اور زبان بے اختیار درود بھیجنے لگتی ہے۔ قرآن مجید سیرت رسول ؐ کا آئینہ ہے ۔قرآن کے ہر ورق پر عکس رسول کی جھلک ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ سے جب رسول اکرم ؐ کے اخلاق کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپؓ نے جواب دیا ’’کان خلقہٗ القرآن ‘‘(آپ ؐ کے اخلاق قرآن تھے )آئیے اس پہلو سے قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدؐ کو اپنی طرف سے نبی اور رسول بنا کر بھیجا۔ قرآن مجید کی آیت کا مفہوم ہے: اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوش خبری سنانے والا، ڈرانے والا، اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔ (الأحزاب: 45-46) یہ صرف ایک منصب کا بیان نہیں بلکہ آپ ؐ کی پوری دعوت کا خلاصہ ہے۔ آپؐ اللہ کے بندے بھی ہیں، اس کے رسول بھی، انسانیت کے رہبر بھی اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ہدایت کا چراغ بھی۔
قرآن مجید نے آپ ؐ پر ایمان کو محض ایک تاریخی شخصیت کو مان لینے کے معنی میں نہیں لیا بلکہ اسے ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے: پس اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول، نبیِ امی پر ایمان لاؤ (الأعراف: 158) قرآن نے صاف بتا دیا کہ ہدایت کا راستہ آپ ﷺ کی پیروی سے وابستہ ہے۔ آپ پر ایمان کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا اور آپ کی اتباع کے بغیر ہدایت کی منزل حاصل نہیں ہوسکتی۔
پہلے انبیائے کرام علیہم السلام مخصوص قوموں کی طرف تشریف لائے، مگر محمد رسول اللہ کی بعثت پوری انسانیت کے لیے ہوئی۔ قرآن اعلان کرتا ہے: کہہ دیجیے: اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ (الأعراف: 158) ایک دوسرے مقام پر فرمایا: اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (سبأ: 28) آپ ؐ کی دعوت کسی ایک خطے، نسل، زبان یا زمانے تک محدود نہیں۔ آپ عرب کے لیے بھی رسول ہیں اور عجم کے لیے بھی، مشرق کے لیے بھی اور مغرب کے لیے بھی، اپنے زمانے کے لیے بھی اور قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے بھی۔
قرآن مجید نے آپ ؐ کے مقام کی ایک عظیم خصوصیت یہ بیان فرمائی کہ آپ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ ارشاد ہے: محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔ (الأحزاب: 40) آپ ؐ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ اب قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کسی نئی وحی کی ضرورت باقی ہے۔ آپ ؐ پر دین مکمل ہوا اور آپ ہی کی شریعت آخری شریعت قرار پائی۔
قرآن مجید نے آپ ؐکے بشری وجود کو بیان کیا، لیکن ساتھ ہی آپؐ کے غیر معمولی مقام کی طرف بھی متوجہ کیا۔ ارشاد ہے: کہہ دیجیے: میں تو تم ہی جیسا ایک بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ (الکہف: 110) بلاشبہ آپ ؐ بشر ہیں، لیکن کون سا بشر؟ وہ بشر جس کے قلبِ مبارک پر وحی اترتی تھی، جس کے ذریعے اللہ نے آخری کتاب نازل فرمائی، جسے معراج کی سعادت عطا ہوئی، جسے تمام انسانوں کی رہنمائی کے لیے منتخب فرمایا گیا۔ جسمانی اعتبار سے انسانوں میں ہونے کے باوجود منصب، کردار، اخلاق، علم، مقام اور قربِ الٰہی میں آپ ؐ کا کوئی ثانی نہیں۔
سیرتِ محمدی ؐکا سب سے روشن باب آپ کا اخلاق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود آپ کے اخلاق کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا: اور بے شک آپ عظیم اخلاق کے مرتبے پر فائز ہیں۔ (القلم: 4) یہ گواہی کسی انسان کی نہیں، رب العالمین کی ہے۔ جس ہستی کے اخلاق کو خود اللہ تعالیٰ عظیم قرار دے، اس کی اخلاقی بلندی کا اندازہ کون کرسکتا ہے؟ آپ ؐ نے دشمنوں کے ساتھ عفو و درگزر، کمزوروں کے ساتھ شفقت، محتاجوں کے ساتھ ہمدردی، بچوں کے ساتھ محبت، عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک، یتیموں کے ساتھ محبت اور عام انسانوں کے ساتھ خیر خواہی کا ایسا نمونہ پیش کیا جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کی بعثت کا سب سے جامع تعارف ان الفاظ میں کرایا: اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔ (الأنبیاء: 107) آپ ؐ کی رحمت کسی خاص قوم یا طبقے تک محدود نہیں تھی۔ آپ کی تعلیمات نے انسانوں کو انسانوں سے محبت کرنا سکھایا، کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کی، ظلم و زیادتی کے دروازے بند کیے اور انسان کو عزت و احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا۔ آپ ؐ کی رحمت انسانوں کے لیے تھی، یتیموں اور مسکینوں کے لیے تھی، کمزوروں کے لیے تھی، بلکہ جانوروں اور ماحول تک کے لیے آپ کی تعلیمات رحمت کا پیغام لیے ہوئے تھیں۔
قرآن مجید نے آپؐ کی نرم دلی اور امت کے ساتھ بے مثال شفقت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: پس اللہ کی رحمت ہی کے سبب آپ ان کے لیے نرم دل ہیں، اور اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہوجاتے۔ (آل عمران: 159) یہ آیت آپؐکے اخلاق کی ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جسے دیکھ کر دل محبت سے بھر جاتا ہے۔ آپ ؐ نے دلوں کو سختی سے نہیں بلکہ محبت سے جیتا۔ آپ کی نرمی، شفقت اور حسنِ سلوک نے ان دلوں کو بھی بدل دیا جو آپ کی مخالفت پر آمادہ تھے۔
آپؐ کو اپنی امت کی ہدایت کی اتنی فکر تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس کیفیت کو قرآن میں بیان فرمایا: یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول تشریف لائے ہیں، تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے بہت خواہش مند ہیں، اور اہلِ ایمان کے لیے نہایت شفیق، بہت مہربان ہیں۔ (التوبہ: 128) ذرا تصور کیجیے! اللہ تعالیٰ اپنے محبوبؐ کی امت کے بارے میں یہ فرما رہا ہے کہ تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے اور وہ تمہاری بھلائی کے حریص ہیں۔ یہ کیسی محبت تھی! یہ کیسی خیر خواہی تھی! آپ ؐ کو اپنی امت کی دنیا کی بھی فکر تھی اور آخرت کی بھی، ان کے ایمان کی بھی فکر تھی اور ان کے کردار کی بھی۔
آپؐ کی زندگی صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ مکمل انسانی کردار کا نمونہ ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔ (الأحزاب: 21)۔
قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں کے لیے رسول اللہ کی اتباع کو معیار قرار دیا ہے۔ فرمایا: کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ (آل عمران: 31) قرآن نے آپ ؐ کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا ہے: جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ (النساء: 80) اسی لیے رسول اللہ ؐ کے حکم کے سامنے مؤمن اپنی رائے، خواہش اور پسند کو کوئی حیثیت نہیں دیتا۔ قرآن فرماتا ہے: پس آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر آپ کے فیصلے سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور پوری طرح تسلیم کرلیں۔ (النساء: 65)
قرآن مجید نے رسول اللہ ﷺ کے ادب کو بھی ایمان کا تقاضا قرار دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کرکے فرمایا: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔ (الحجرات: 2) یہ صرف مجلس کا ایک ادب نہیں بلکہ محبتِ رسول ؐ کا سبق ہے۔ جس ہستی کا ادب اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں سکھایا ہو، اس ہستی کے ساتھ امت کا ادب اور محبت کس قدر بلند ہونی چاہیے!
آپ ؐکے ذریعے انسانیت کو ہدایت کی وہ روشنی ملی جس نے زندگی کے ہر شعبے کو منور کردیا۔ قرآن مجید فرماتا ہے: یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئیں۔ (إبراہیم: 1) آپ ؐ نے انسان کو شرک کے اندھیرے سے توحید کی روشنی میں، ظلم کے اندھیرے سے عدل کی روشنی میں، جہالت کے اندھیرے سے علم کی روشنی میں اور بدکرداری کے اندھیرے سے پاکیزہ کردار کی روشنی میں پہنچایا۔
رسول اللہ ؐ کی تعلیمات نے انسان کو صرف آخرت کی کامیابی کا راستہ نہیں دکھایا بلکہ دنیا میں بھی باعزت، پاکیزہ اور متوازن زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا۔ آپؐ نے بتایا کہ طاقتور کمزور پر ظلم نہ کرے، مال دار محتاج کو نہ بھولے، حاکم رعایا کے حقوق ادا کرے، پڑوسی کو تکلیف نہ دی جائے، والدین کی خدمت کی جائے، یتیم کا مال نہ کھایا جائے، عورت کو عزت دی جائے اور انسان کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کی جائے۔ یہ سب اسی رحمتِ محمدی ؐکا فیض ہے جسے قرآن نے رحمۃً للعالمین کہہ کر ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔
قرآن کے پاروں میں بکھرا ہوا محمدؐ کا ذکر دراصل پوری انسانیت کے لیے دعوتِ محبت ہے۔ کہیں آپ نبی ہیں، کہیں رسول، کہیں خاتم النبیین، کہیں شاہد و مبشر و نذیر، کہیں روشن چراغ، کہیں اسوہ حسنہ، کہیں رؤوف و رحیم اور کہیں رحمۃً للعالمین۔ قرآن آپؐ کے مقام کو بیان کرتا ہے تو دل عقیدت سے جھک جاتا ہے اور زبان بے اختیار کہتی ہے کہ اے اللہ! تو نے ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی امت میں پیدا کرکے ہم پر کتنا بڑا احسان فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے، ان کی سنت کی پیروی کی توفیق دے، ان کے اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی سعادت بخشے اور قیامت کے دن ہمیں ان کی شفاعت اور قرب نصیب فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے