جامع مسجد اہلِ حدیث اٹوا بازار میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی سیرت و فضائل پر ایمان افروز خطبۂ جمعہ

حافظ صفی الرحمن فرقانوی

اٹوا بازار سدھارتھ نگر

جامعہ اتحادِ ملت جامع مسجد اہلِ حدیث اٹوا بازار سدھارتھ نگر یوپی میں آج بروز جمعہ فضيلة الشیخ فخرالدین ریاضی حفظہ اللہ نے خطبۂ جمعہ کے دوران خلیفۂ راشد دامادِ رسول ﷺ اور جلیل القدر صحابی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی سیرت فضائل و مناقب اور ان کی زندگی کے نمایاں واقعات پر تفصیلی اور ایمان افروز خطاب فرمایا

خطیبِ جمعہ فضيلة الشیخ فخرالدین ریاضی حفظہ اللہ نے اپنے خطاب کا آغاز اللہ رب العزت کی حمد و ثنا اور نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام سے کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صحت و تندرستی اور اپنی عبادت کی توفیق عطا فرمائی ہے اس لیے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ پوری امت کے لیے بہترین نمونہ ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

 لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ (الأحزاب21)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ

فضيلة الشیخ فخرالدین ریاضی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے چوتھے خلیفۂ راشد رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے والد تھے۔

آپ ان جلیل القدر صحابۂ کرام میں سے ہیں جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی گئی رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان عظیم صحابہ میں شمار فرمایا جن کے لیے جنت کی بشارت آئی ہے۔

خطیب صاحب نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی کو مختصر وقت میں بیان کرنا ممکن نہیں تاہم ان کی زندگی کے چند نمایاں واقعات ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ان کے ایمان شجاعت عدل قربانی اتباعِ رسول ﷺ اور دین سے محبت جیسے اوصاف کو اپنی عملی زندگی میں پیدا کریں۔

غزوۂ بدر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت

فضيلة الشیخ فخرالدین ریاضی حفظہ اللہ نے جنگِ بدر کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی جبکہ کفار و مشرکین تعداد اور ساز و سامان کے اعتبار سے زیادہ تھے اس نازک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے انتہائی عاجزی کے ساتھ دعا فرمائی۔

جنگ کے آغاز میں مشرکین کے چند بڑے جنگجو میدان میں مقابلے کے لیے نکلے تو مسلمانوں کی طرف سے حضرت حمزہ حضرت علی اور حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم میدان میں اترے اور دشمن کا مقابلہ کیا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا

 هَٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ۔

 یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا. (الحج 19)

غزوۂ خیبر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ

خطبے کے دوران فضيلة الشیخ فخرالدین ریاضی حفظہ اللہ نے غزوۂ خیبر کا واقعہ تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ۔

کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ (صحیح البخاری 3009)

صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی نبی کریم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ مبارک لگایا اور دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں شفا عطا فرمائی پھر رسول اللہ ﷺ نے جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی۔

خطیب صاحب نے فرمایا کہ اس واقعے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کی دعوتی حکمت بھی ہمارے سامنے آتی ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہلے اسلام کی دعوت دینے کی ہدایت فرمائی۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ۔

 اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ (صحیح البخاری 3009)

محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا

فضيلة الشیخ فخرالدین ریاضی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت اور آپ ﷺ کی اطاعت کا درس دیتی ہے

آج بہت سے لوگ محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن محبت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرے نمازوں کی پابندی کرے اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق بنائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ کہہ دیجیے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔ (آل عمران 31)

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عدل و انصاف

خطیبِ صاحب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی میں عدل و انصاف کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور فرمایا کہ اسلام میں انصاف کا معیار رشتہ داری طاقت عہدہ یا مال نہیں بلکہ حق ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ۔ انصاف کرو یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ (المائدہ 8)

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے معاشرے میں انصاف کو فروغ دینا چاہیے اگر اپنا آدمی غلطی پر ہو تو اس کی غلطی کو غلط کہنا چاہیے اور اگر غیر حق پر ہو تو حق کا ساتھ دینا چاہیے

سیرتِ صحابہ بیان کرنے کا مقصد

فضيلة الشیخ نے فرمایا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات صرف سنانے کے لیے نہیں بلکہ ان سے سبق حاصل کرنے کے لیے بیان کیے جاتے ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں ایمان شجاعت قربانی عدل دعوتِ دین محبتِ رسول ﷺ اور حق پر ثابت قدمی کا درس دیتی ہے۔

انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کا مطالعہ کریں اپنے بچوں کو ان کے واقعات سنائیں اور ان کے پاکیزہ کردار سے اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی کوشش کریں۔

آخر میں خطیبِ صاحب نے امتِ مسلمہ کے لیے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کے دلوں میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت پیدا فرمائے ان کی سیرت سے سبق حاصل کرنے اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے