منیر احمد ندوی
مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن،سمریاواں سنت کبیر نگر۔یوپی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ساری انسانیت کے لئے کامل اسوہ اور نمونہ ہے، اس سے بہتر آئیڈیل اور سمپل ہے دنیا کے کسی گوشے اور خطے میں نہیں مل سکتا، یہ انسانوں کی تمام بیماریوں کا سب سے اچوک اور زود اثر علاج ہے لیکن افسوس ہے کہ ہم نسخہ کیمیا اور اکسیر دوا کے ہوتے ہوئے بھی صحت سے محروم ہیں، حالات کی تبدیلی کے لئے ہدایات پر عمل کی ضرورت ہے، پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں چین و سکون لانے اور نظام عدل قائم کرنے کے لئے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہم انسانیت تک سیرت نبوی کا پیغام عام کریں۔ آدمی انسانیت کی صفات سے متصف ہوجائے سب سے پہلے اس کی دعوت دیں۔ سیرت نبوی کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے انسانوں کو انسانیت کی ہی دعوت دی تھی ۔سچائی اور امانت داری یہ انسانیت کے دو سب سے قیمتی اوصاف ہیں جن سے رسول اکرم کی ابتدائی چالیس سالہ زندگی منور اور روشن تھی،کسی یہودی سے آپ نے وعدہ فرمایا، آپ کھڑے رہے۔ آپ نے اس سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کیا۔ ایسے پاکیزہ کردار کا اثر دل پر پڑتا ہے۔ انسان دل سے مجبور ہوتا ہے اس چیز کو قبول کرنے کے لیے اور اس فرد سے قریب ہونے کے لیے، اس کے اخلاق کو اپنانے کے لیے، اس کے طرز زندگی کو اپنانے کے لیے، اور پھر آہستہ آہستہ وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے۔
آپ اسلام کی پوری تاریخ پڑھ لیجیے۔ صحابہ کرام نے ایسے اخلاق پیش کئے ، ایسے عملی نمونے پیش کئے، ایسی انسانیت پیش کی کہ سارے لوگ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ آفتاب نبوت نے ان میں کیسی روشنی، انرجی اور طاقت بھر دی ہے کہ یہ لوگ اپنے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کے باوجود، زیادتی اور ظلم ہنس کر برداشت کر لیتے ہیں، جو ان پر ظلم کے پہاڑ توڑتا ہے، جو ان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے، جو ان کا محاصرہ کرتا ہے، ان کو ان کے وطن سے نکال دیتا ہے، ان پر کھانے پانی کو بند کر دیتا ہے، ان کے مال و اسباب کو غصب کر لیتا ہے، یہ انھیں کو اپنے سینے سے لگاتے ہیں، ان کے اخلاق دین کی سچی تعلیمات، قرآن کے آفاقی پیغامات اور شریعت کی پاکیزہ ہدایات سے منور ہیں.
اسلام اپنے لئے جینے کو کمال نہیں گردانتا، دوسروں کے کام آنا، ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنا، اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا زیادہ اہم ہے، اگر آپ کے پاس وسائل ہیں، مال کی کثرت ہے، ضرورت کے بعد آپ کے پاس کچھ بچ رہا ہے تو وقت پر کسی ضرورت مند کو سہارا دے دیجئے، کچھ لے کر ہسپتالوں چلے جائیں، بیماروں سے مل مزاج پرسی کیجئے، علاج کے لیے پیسے نہ ہوں تو مدد کیجئے۔ افسوس ہے کہ زیادہ کمانے کے چکر میں ڈاکٹر بھی لٹیرے ہو چکے ہیں۔ ہم ایسے حالات میں، جبکہ مریض پریشان ہوں، ایک انجیکشن لگوانے کے لیے ان کے پاس رقم نہ ہو، جان بچانے کے لالے پڑے ہوئے ہوں ہم ممکن بھر ان کی تسلی کا سامان فراہم کریں ۔
جہاں غربت عام ہو، لوگ بھوک سے پریشان ہوں ہم تھیلے میں غلہ اور ضرورت کا سامان بھریں اور ضرورت مندوں تک پہنچاکر انسان ہونے کا فریضہ پورا کریں، مریض کی عیادت کرنا سنت ہے، ان کو دعا دیں کہ بھائی اللہ آپ کو شفاو صحت دے، آپ کو پہلے سے زیادہ تندرستی کردے ، وہ تعریف کریں گے کہ ایسے لوگ بھی اس دنیا میں ابھی رہتے اور بستے ہیں۔
اس وقت ہندوستان میں کچھ برادران وطن مسلمانوں کو ہندوستان کا اور اپنا دشمن سمجھتے ہیں، ان کو بیکار، باغی، حریف سمجھتے ہیں، اسی لئے ان پر ظلم کرتے ہیں، ان کے اسلام کو برا بھلا کہتے ہیں، ان کی مسجدوں کو ڈھانے کی باتیں کرتے ہیں، ان کے اداروں کو ڈھانے کی باتیں کرتے ہیں، ان کی بستیوں کو جلانے کی باتیں کرتے ہیں۔اگر ہم سچی تعلیمات کے ساتھ اعلی کردار کا مظاہرہ کریں تو یقیناً ان کے شکوے دور ہو سکتے ہیں، وہ یہ کہنے پر مجبور ہو سکتے ہیں کہ یہ کیسے دیوانے اور تابع دار ہیں کہ ہم ان کی مخالفت پر آمادہ ہیں اور یہ ہمارے ساتھ محبت، اپنایت، قربانی، چاہت، پیار، الفت اور محبت کا برتاؤ کرتے ہیں، یہ ہمارا دکھ سکھ میں خیال رکھتے ہیں۔
اسکولوں میں جا سکتے ہیں۔ بہت سے غریب بچے پڑھتے ہیں۔ جن کے پاس بستے نہیں ہیں، کتابیں نہیں ہیں، انتظامات نہیں ہیں۔ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں،ایک جماعت کیوں نہیں تیار ہوتی ہے؟ پورے علاقے کے نوجوانوں کی، عالموں کی، حفاظ کی، اہل ثروت کی جو اداروں میں جا کر ، ہسپتالوں میں جا کر ، چوراہوں پر اور غریب محلوں میں جا کر رفاہی کام کریں ، جن کی بیٹیاں شادی کے بغیر رو رہی ہیں، جن کے پاس علاج کرنے کا پیسہ نہیں ہے، جن کے پاس برسات میں پانی سے بچنے کے لئے چھت اور چھپر نہیں ہے کیا ہم تھوڑی تھوڑی مدد کے ذریعے ایک ٹین کا گھر ان کے لیے بنوا نہیں سکتے؟ ہم شادیوں میں، اپنی عمارتوں کے بنوانے میں، کھانے پینے میں، ہوٹل بازی میں، دکھاوے میں، نام و نمود میں، شہرت میں، اپنی رقموں کو ضائع کرتے رہتے ہیں۔ اگر ہم اعتدال کی راہ اپنالیں تو سب کا بھلا ہو جائے گا.
اپنی بستی، ضلع، صوبہ اور ملک کے حالات بدلنا بہت آسان ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کے آفاقی پیغام کو عام کریں ہے، عملی زندگی کو سنت و شریعت سے جوڑیں پھر حالات ضرور اچھے ہوں گے۔ جو ہمیں برا کہتے ہیں، وہ ہمیں اچھا سمجھیں گے۔
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
