نانپارہ، بہرائچ (رپورٹ محمد رضوان گوہر)ہر سال ربیع الاول کا مہینہ جیسے قریب آتا ہے دو طرح کے کردار سامنے آنے لگتے ہیں، ایک کردار وہ ہے جہاں صرف نعرے بازی ہے، شور اور ہنگامہ آرائی ہے، زبانی دعوے ہیں، مال اور وقت کی بربادی ہے، سنت و شریعت کے نام پر رسوم و رواج کی تبلیغ و تشہیر ہے اور اب تو حد پار کرلی گئی، گانے بجانے کے ساتھ جوان بے نقاب بچیاں اور خواتین بھی تال ٹھونک کر میدان عشق محمدی میں کود پڑی ہیں، نہ جانے کیسی کیسی فتنہ سامانیاں اور بربادی کے مظاہر ہیں جو المیہ بن چکے ہیں اور از سر نو اپنے ان کاموں پر دعوت فکر دے رہے ہیں، دوسری طرف کچھ اصلاحی کوششیں بھی ہیں جو قابل تحسین ہیں، بہت اچھا ہے کہ یہ کوششیں بڑے بڑے بینر، رنگین کشادہ اسٹیج، بے ترتیب بھیڑ اور بے جا اہتمام کے بجائے مساجد، مدارس، مکاتب اور گھروں میں حسب سہولت و ضرورت با ترتیب چھوٹے چھوٹے سادے جلسوں کی شکل میں کی جاتی ہیں، جرول، بہرائچ اور نان پارہ سمیت ضلع کی متعدد تحصیلوں میں بہت منظم اصلاحی شروعات ہوئی ہے، جس میں سنجیدہ لوگوں کی دلچسپی بھی دیکھی گئی ہے اور لوگوں نے اس کی افادیت بھی بیان کی ہے،اسی سلسلے میں ائمۂ مساجد نانپارہ کی جانب سے منعقدہ جلسۂ سیرت النبی ﷺ یکم ربیع الاول سے۱۳؍ ربیع الاول تک شہر نانپارہ اور اطراف کی مختلف مساجد میں بعد نماز مغرب و عشاء منعقد ہوتا رہا، جو بحمد اللہ نہایت کامیابی کے ساتھ نبیا شاہ محمد پور کے اصلاحی جلسے پر پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
جلسہ کی سرپرستی علاقے کے معروف و بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد سلیم قاسمی، مہتمم مدرسہ بدر العلوم بابا گنج نے فرمائی۔ حضرت نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ سے محبت ایمان کی دلیل ہے، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ سے محبت و وفاداری اور جاں نثاری کی جو مثالیں قائم کیں، وہ امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
مدرسہ عربیہ بحر العلوم انجمن اسلامیہ نانپارہ بہرائچ کے مہتمم مولانا محمد افضل ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو زندہ کرنا اور آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کو اپنے گھروں اور معاشرے میں نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مولانا محمد احمد انصار قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد اعلاءِ کلمۃ اللہ تھا اور آپ ﷺ اپنی پوری زندگی امت کو اسی مقصد کی طرف بلاتے رہے۔
اسی طرح مولانا نفیس احمد مظاہری نے اپنے خطاب میں نبی کریم ﷺ کی آخری نصیحتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ نے اپنے زیرِ دست لوگوں کے ساتھ بہترین سلوک کرنے کی تاکید فرمائی۔
۱۳؍روزہ جلسوں کو مولانا زین العابدین قاسمی، مولانا رضوان جامعی، مولانا سمیع الدین قاسمی، مولانا شفیق الرحمن ندوی، مولانا محمد ساجد ثاقبی، مولانا محمد یوسف ثاقبی سمیت علاقے کے دیگر علماءٔ کرام نے خطاب کیا۔۱۳؍ربیع الاول کو نبیا شاہ محمد پور میں منعقد ہونے والے آخری جلسہ میں سرپرستِ جلسہ حضرت مولانا محمد سلیم قاسمی کی دعا کے ساتھ اس سلسلے کا اختتام ہوا۔ ساتھ ہی یہ طے کیا گیا کہ سیرت نبوی کے تمام روشن پہلوؤں سے ہم اپنی عوام کو حسب ضرورت روشناس کراتے رہیں گے، جلسہ میں عوام و خواص نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور علماءٔ کرام کے بیانات کو موجودہ حالات میں مفید ترین بتایا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے