جاوید جمال الدین 

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے نیویارک میں ایک بین المذاہب پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جو بات کہی ہے، اسے محض ایک سیاسی بیان سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا یہ کہنا کہ ’’اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے تو وہ ہندو نہیں ہے‘‘ بلاشبہ ایک اہم اور مثبت بات ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ تمام راستے ایک ہی منزل کی طرف جاتے ہیں، ہر انسان عزتِ نفس کا حق دار ہے اور ہندوستان کی شناخت اس کے تنوع میں ہے، ایسے الفاظ ہیں جنہیں ملک کے موجودہ ماحول میں سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔
یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ اسے کسی معمولی سیاسی یا سماجی شخصیت نے نہیں بلکہ اس تنظیم کے سربراہ نے دیا ہے جس کا ہندوستان کی سیاست اور سماجی زندگی پر گزشتہ کئی دہائیوں سے گہرا اثر رہا ہے۔ آر ایس ایس خود کو ہندوستانی تہذیب، ثقافت اور ہندو سماجی فکر کا نمائندہ قرار دیتی ہے اور اس کے نظریات نے ملک کی سیاست کے ایک بڑے حصے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں جب اس کا سربراہ دنیا کے ایک بڑے شہر میں کھڑے ہوکر ہندوستان کے مذہبی تنوع اور مسلمانوں کے حقِ وجود کی بات کرتا ہے تو اس بیان کو سننا، سمجھنا اور اس کے ممکنہ نتائج پر غور کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔
بھاگوت نے اس سے قبل ٹورنٹو میں بھی ہندوستان کے اس تاریخی مزاج کا ذکر کیا جس کے تحت ملک نے مختلف مذاہب اور بیرونِ ملک سے آنے والی برادریوں کو پناہ دی۔ انہوں نے مسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں اور پارسیوں کا ہندوستان کو گھر قرار دیا اور کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ مظلوموں کو پناہ دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مختلف مذہبی گروہ آج ہندوستان میں اپنی شناخت کے ساتھ موجود ہیں اور ملک کی اجتماعی زندگی کا حصہ ہیں۔
یہ بیانات خوش آئند ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسے بیانات ہندوستان میں ایک نئے مکالمے کی بنیاد بن سکتے ہیں؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ مذہبی کشیدگی، باہمی بداعتمادی اور سیاسی تقسیم کے موجودہ ماحول میں محض ایک دوسرے پر الزام لگانے سے کوئی راستہ نہیں نکلے گا۔ اگر ملک کے ایک بڑے نظریاتی و سماجی دھارے کا سربراہ مسلمانوں کے ہندوستان میں مساوی حقِ وجود کو تسلیم کرنے کی بات کرتا ہے تو اس مثبت پہلو کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ سوال بھی جائز ہے کہ بیرونِ ملک کہی گئی بات ہندوستان میں بھی اسی قوت اور وضاحت کے ساتھ کب کہی جائے گی؟
یہاں سے اصل بحث شروع ہوتی ہے۔
کسی بھی نظریاتی تنظیم یا سیاسی جماعت کے بیانات کی اصل کسوٹی اس کے الفاظ نہیں بلکہ اس کے عملی رویے ہوتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کے لیے ہندوستان میں جگہ ہونے کی بات کی جاتی ہے تو پھر مسلمانوں کے خلاف نفرت، امتیازی سلوک، تشدد یا خوف کے ماحول کے خلاف بھی واضح آواز سنائی دینی چاہیے۔ یہی اصول عیسائیوں، یہودیوں، سکھوں، بودھوں، پارسیوں اور ہر دوسری برادری کے لیے بھی ہونا چاہیے۔
ہندوستان ایک آئینی جمہوریت ہے۔ یہاں کسی شہری کے حقوق اس کے مذہب کی بنیاد پر کم یا زیادہ نہیں ہوسکتے۔ اس لیے ’’ہندوستان سب کا ہے‘‘ محض ایک خوب صورت جملہ نہیں بلکہ آئینی تصور بھی ہے۔
موہن بھاگوت کے بیان پر اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہی سوچ ہے تو اسے ہندوستان میں بھی عملی شکل کیوں نہیں دی جاتی۔ کپل سبل نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کچھ دیر کے لیے انہیں محسوس ہوا جیسے وہ آر ایس ایس سربراہ کو نہیں بلکہ راہل گاندھی کو سن رہے ہوں۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، سی پی آئی، سی پی ایم، عام آدمی پارٹی، آر جے ڈی اور ایم آئی ایم کے بعض رہنماؤں نے بھی اسی نوعیت کے سوالات اٹھائے ہیں۔
سنجے راؤت نے بھی سوال کیا کہ اگر بھاگوت ہندو مسلم اتحاد، جمہوریت اور مذہبی رواداری کی بات کرتے ہیں تو انہیں یہ باتیں نیویارک کے بجائے ہندوستان میں کھلے عام کہنی چاہئیں۔ ان کا الزام تھا کہ بیرونِ ملک جاکر آزادیِ اظہار اور مذہبی رواداری کی بات کرنا اور ملک کے اندر مبینہ طور پر جاری نفرت کی سیاست پر خاموش رہنا تضاد ہے۔
اس تنقید کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی ہے: اگر کوئی شخص یا تنظیم ماضی کے مقابلے میں زیادہ مثبت زبان اختیار کرتی ہے تو کیا اسے صرف اس بنیاد پر مسترد کردیا جائے کہ ماضی میں اس کے بعض نظریات یا کارکنوں کے بعض اقدامات متنازع رہے ہیں؟ یا پھر اس موقع کو مکالمے کے لیے استعمال کیا جائے؟
میری رائے میں دوسرا راستہ زیادہ مفید ہے۔
ہندوستان کو اس وقت ایک دوسرے سے بات کرنے کی ضرورت ہے، ایک دوسرے کو سنانے کی نہیں۔ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان، بلکہ تمام مذہبی اور سماجی برادریوں کے درمیان ایسے مکالمے ہونے چاہئیں جن میں ایک دوسرے کے خوف، شکایات، تحفظات اور تاریخی زخموں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیموں کے ساتھ بھی مکالمے کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان اپنی شکایات بھول جائیں، نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی تنظیم کے ہر نظریے یا عمل سے اتفاق کرلیا جائے۔ مکالمے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے سامنے بیٹھا جائے۔
آخر جمہوریت کا حسن یہی ہے۔
اگر موہن بھاگوت یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان مسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں اور پارسیوں سمیت سب کا ہے تو مسلمان سماج کو بھی یہ کہنا چاہیے کہ ہم اس ملک کے برابر کے شہری ہیں اور ہم کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کو اس کے مذہب کی وجہ سے ہندوستان سے بے دخل کرنے کی سیاست کے حامی نہیں۔
یہ دو طرفہ یقین ہی قومی یکجہتی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
یہاں سب سے اہم سوال سنگھ پریوار کے اندرونی رویے کا ہے۔ آر ایس ایس ایک بہت بڑا سماجی نیٹ ورک ہے۔ اس سے وابستہ یا ہمنوا متعدد تنظیمیں مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں۔ ان تنظیموں کے کارکنوں، مقامی رہنماؤں اور حامیوں کے بیانات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے۔
کبھی مذہبی ہم آہنگی کی بات سامنے آتی ہے تو کبھی ایسی زبان سنائی دیتی ہے جو کسی خاص مذہبی برادری میں خوف اور بے اعتمادی پیدا کرتی ہے۔ یہی تضاد مسلمانوں کے ذہن میں سب سے بڑا سوال پیدا کرتا ہے۔
اس لیے بھاگوت کے لیے بھی یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنے حالیہ بیانات کو محض بیرونِ ملک تقریروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں ہندوستانی سماج میں بھی ایک واضح سماجی پیغام بنائیں۔
اگر کوئی کارکن مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتا ہے تو کیا تنظیم اس کی مذمت کرے گی؟ اگر کسی مسجد، چرچ یا کسی مذہبی مقام کے خلاف اشتعال انگیز مہم چلائی جاتی ہے تو کیا سنگھ کی قیادت کھل کر اس کے خلاف بولے گی؟ اگر کسی مسلمان شہری کو محض اس کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے تو کیا اسے بھی اسی شدت سے غلط قرار دیا جائے گا جس شدت سے کسی ہندو کے خلاف مذہبی تعصب کو غلط قرار دیا جاتا ہے؟
ان سوالات کے جواب صرف بیانات سے نہیں، عملی رویے سے ملیں گے۔
لیکن سارا بوجھ صرف سنگھ پریوار پر ڈال دینا بھی درست نہیں ہوگا۔
اگر ہم واقعی ہندو مسلم تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں تو مسلم قیادت اور مسلم سماج کو بھی مکالمے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ ہر اختلاف کو مذہبی جنگ بنا دینا، ہر سیاسی تنازع کو فرقہ وارانہ زاویے سے دیکھنا اور ہر ہندو کو ایک ہی نظر سے دیکھنا بھی مسئلے کا حل نہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کو یہ اعتماد کے ساتھ کہنا چاہیے کہ وہ اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ ان کا ہندوستان سے تعلق کسی رعایت یا مہربانی کا محتاج نہیں۔ اسی طرح انہیں یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ وہ اپنے ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی اور دیگر ہم وطنوں کے مساوی حقوق کے بھی اتنے ہی محافظ ہیں جتنے اپنے حقوق کے۔
یہی جمہوری شہریت کا تقاضا ہے۔
ہمیں ایک بنیادی فرق سمجھنا ہوگا: مذہبی اختلاف اور مذہبی دشمنی ایک چیز نہیں۔
ہندو اور مسلمان اپنے اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کا احترام کرسکتے ہیں۔ کسی مسلمان کا ہندو فلسفے سے اختلاف اس کے ہندو پڑوسی سے دشمنی کا جواز نہیں، اور کسی ہندو کا اسلام سے اختلاف مسلمان شہری کے حقوق ختم نہیں کرتا۔
اصل مسئلہ اختلاف نہیں، اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا ہے۔
ہندوستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مختلف مذہبی، لسانی اور ثقافتی گروہ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ کبھی اختلاف ہوا، کبھی تصادم بھی ہوا، لیکن اس کے باوجود ہندوستانی تہذیب کی تشکیل ایک ہی مذہب یا ایک ہی زبان نے نہیں کی۔
یہ ملک کثرت میں وحدت کی عملی مثال رہا ہے۔
اسی لیے بھاگوت کا یہ کہنا کہ ہندوستان کا تنوع اس کے ڈی این اے میں شامل ہے، ایک ایسا تصور ہے جس پر وسیع تر قومی اتفاق پیدا کیا جاسکتا ہے۔
اب اصل امتحان یہی ہے۔
اگر بھاگوت واقعی سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے جگہ ہے اور جو ہندو اس کے برعکس سوچتا ہے وہ ہندو نہیں، تو یہ پیغام ملک کے اندر بھی پوری وضاحت سے پہنچنا چاہیے۔
اس پیغام کو صرف دہلی، ممبئی، کولکاتا یا لکھنؤ کے بڑے اجتماعات تک محدود رکھنے کے بجائے ان علاقوں تک لے جانا ہوگا جہاں فرقہ وارانہ تناؤ زیادہ ہے۔ مقامی سطح پر ہندو اور مسلمان دانشوروں، مذہبی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، صحافیوں اور نوجوانوں کو ایک میز پر بٹھانا ہوگا۔
کیوں نہ ایسے مکالمے آر ایس ایس اور مسلم تنظیموں کے نمائندوں کے درمیان بھی ہوں؟ کیوں نہ مسجد اور مندر کے ذمہ دار افراد مشترکہ طور پر اپنے علاقوں میں امن اور بھائی چارے کی اپیل کریں؟ کیوں نہ نوجوانوں کے لیے ایسے پروگرام ہوں جہاں وہ ایک دوسرے کے مذہب کے بارے میں براہ راست سوال کرسکیں؟ کیوں نہ نفرت انگیز زبان کے خلاف تمام مذہبی تنظیمیں مشترکہ ضابطۂ اخلاق بنائیں؟
یہ تجاویز شاید سادہ نظر آئیں، مگر معاشرتی تبدیلی ہمیشہ بڑے نعروں سے نہیں بلکہ چھوٹے عملی اقدامات سے آتی ہے۔
مذہبی ہم آہنگی کو انتخابی سیاست سے آزاد کرنا بھی ضروری ہے۔ جب تک ہندو مسلم تعلقات کو ووٹوں کے حساب سے دیکھا جاتا رہے گا، ہر مثبت کوشش پر شک پیدا ہوتا رہے گا۔
اگر بھاگوت کا بیان سیاسی ضرورت کے تحت ہے تو وقت اسے بے نقاب کردے گا۔ اگر یہ ان کے فکری سفر میں حقیقی تبدیلی کی علامت ہے تو اسے بھی وقت ثابت کردے گا۔
لیکن ہمیں دونوں صورتوں میں مکالمے کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے۔
کیونکہ اگر ایک مثبت بات کو صرف اس لیے مسترد کردیا جائے کہ اسے ایک ایسے شخص نے کہا ہے جس سے ہمیں اختلاف ہے، تو ہم خود اپنے لیے مکالمے کی گنجائش ختم کردیتے ہیں۔
آج ہندوستان کو کسی نئی نظریاتی جنگ کی ضرورت نہیں۔ اسے اعتماد کی ضرورت ہے۔
مسلمانوں کو یہ یقین چاہیے کہ ان کے مذہب، لباس، زبان، نام یا عبادت کی وجہ سے ان کی شہریت مشکوک نہیں ہوگی۔ ہندوؤں کو بھی یہ یقین چاہیے کہ ان کے مذہبی جذبات کا احترام ہوگا۔ عیسائیوں، سکھوں، پارسیوں، یہودیوں اور دیگر برادریوں کو بھی یہی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ سب کے حقوق کی حفاظت کرے، سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ نفرت کو انتخابی ہتھیار نہ بنائیں اور سماجی و مذہبی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کارکنوں کو ذمہ دارانہ زبان اور رویے کی تلقین کریں۔
اسی مشترکہ ذمہ داری سے ماحول بدل سکتا ہے۔
موہن بھاگوت کے نیویارک بیان کو نہ تو غیر معمولی انقلاب قرار دینے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسے محض ڈھونگ کہہ کر مسترد کرنے کی۔ اس میں موجود مثبت بات کو قبول کرنا چاہیے اور ساتھ ہی عملی سوالات بھی پوچھنے چاہئیں۔
اگر وہ کہتے ہیں کہ ’’جو ہندو مسلمانوں کے ہندوستان میں رہنے کے خلاف ہے وہ ہندو نہیں‘‘ تو اس اصول کا خیرمقدم ہونا چاہیے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی کہا جانا چاہیے کہ اب اس سوچ کو ہندوستان کی زمین پر اتاریے۔
اگر وہ کہتے ہیں کہ تمام راستے ایک ہی منزل کی طرف جاتے ہیں تو پھر ان راستوں پر چلنے والوں کے درمیان نفرت کی دیواریں گرانے کی کوشش بھی ہونی چاہیے۔
اگر وہ کہتے ہیں کہ ہر انسان عزتِ نفس رکھتا ہے تو پھر ہر ہندوستانی کی عزتِ نفس کی حفاظت ہونی چاہیے۔
اور اگر وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان کا تنوع اس کی طاقت ہے تو اس تنوع کی حفاظت بھی اسی قوت سے ہونی چاہیے جس قوت سے اس کی تعریف کی جاتی ہے۔
ہندوستان کی موجودہ صورتِ حال میں شاید سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے مکمل اتفاق کرلیں۔ یہ شاید ممکن بھی نہ ہو اور ضروری بھی نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو ہندوستانی تسلیم کیا جائے۔
ہمیں ایسا ہندوستان چاہیے جہاں کوئی ہندو مسلمان سے یہ نہ کہے کہ تمہیں یہاں رہنے کا حق نہیں، اور کوئی مسلمان ہندو سے یہ نہ کہے کہ تم اس ملک کے حقیقی مالک نہیں۔ دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہندوستان کسی ایک مذہب کی جاگیر نہیں بلکہ اس کے تمام شہریوں کا مشترکہ وطن ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں موہن بھاگوت کا حالیہ بیان ایک موقع بن سکتا ہے۔
سنگھ پریوار سے سوال ضرور کیا جائے، مگر بات بھی کی جائے۔ مسلم قیادت سے سوال ضرور کیا جائے، مگر اسے بھی مکالمے کی دعوت دی جائے۔ سیاسی جماعتوں کو جواب دہ بنایا جائے، مگر مذہبی نفرت کو کسی بھی سمت سے قبول نہ کیا جائے۔
اور سب سے بڑھ کر عام ہندوستانی کو یہ یقین دلایا جائے کہ اس ملک کی سب سے بڑی شناخت اس کی کثرت، رواداری اور مشترکہ شہریت ہے۔
نفرت کے جواب میں نفرت پیدا کرنا آسان ہے، لیکن اس سے معاشرہ مزید تقسیم ہوتا ہے۔ مکالمہ مشکل ہے، اعتماد پیدا کرنے میں وقت لگتا ہے اور ایک دوسرے کے موقف کو سننا کبھی کبھی تکلیف دہ بھی ہوتا ہے، مگر پائیدار امن کا راستہ اسی سے نکلتا ہے۔
موہن بھاگوت کا نیویارک میں دیا گیا بیان اگر واقعی اس بات کا اظہار ہے کہ ہندوستان کے ہر شہری کو، خواہ اس کا مذہب کچھ بھی ہو، برابر کا مقام اور عزت حاصل ہونی چاہیے، تو اسے ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس موقع کو شک، الزام اور سیاسی محاذ آرائی میں ضائع کرنے کے بجائے مکالمے کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔
مکالمے کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے اختلافات بھلا دیے جائیں، نہ یہ کہ ماضی کے سوالات یا موجودہ شکایات پر خاموشی اختیار کرلی جائے۔ مکالمے کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو سننے، سمجھنے اور جواب دینے کی آمادگی پیدا کی جائے۔ اگر سنگھ پریوار کے پاس مسلمانوں کے بارے میں کوئی مثبت اور جامع پیغام ہے تو مسلم سماج کو اسے سننا چاہیے؛ اور اگر مسلمانوں کے دل میں اپنے حقوق، تحفظ اور مساوی شہریت کے بارے میں سوالات ہیں تو سنگھ پریوار کو بھی انہیں سنجیدگی سے سننا چاہیے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ مکالمہ صرف ٹیلی ویژن کے اسٹوڈیوز، سیاسی جلسوں یا اخباری بیانات تک محدود نہ رہے۔ آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں کے ذمہ دار افراد، مسلم مذہبی و سماجی رہنما، دانشور، صحافی، نوجوان اور سول سوسائٹی ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں اور ان سوالات پر بات کریں جنہوں نے برسوں سے معاشرے میں فاصلے پیدا کر رکھے ہیں۔ نفرت انگیز زبان، مذہبی آزادی، اقلیتوں کے تحفظ، اکثریتی احساسات، شہری مساوات اور آئینی حقوق جیسے مشکل موضوعات پر بھی گفتگو ہونی چاہیے۔
کیونکہ جن مسائل نے مکالمے کے ذریعے جنم نہیں لیا، ان کا حل بھی صرف نعروں سے نہیں نکلے گا۔
اگر بھاگوت کی بات سنجیدہ ہے تو اس کا اگلا قدم مکالمہ ہونا چاہیے۔ اگر مسلم قیادت واقعی ملک میں خوشگوار ماحول چاہتی ہے تو اسے بھی اس مکالمے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ دونوں طرف سے کچھ لوگ شاید اس عمل کو کمزوری سمجھیں، مگر حقیقت میں ایک دوسرے سے بات کرنا کمزوری نہیں، اپنے اختلاف کو تہذیب اور جمہوریت کے دائرے میں رکھنے کی طاقت ہے۔
آخرکار ہندوستان کو ایسی خاموشی کی ضرورت نہیں جس میں اختلاف دب جائے؛ اسے ایسی گفتگو کی ضرورت ہے جس میں اختلاف کے باوجود ساتھ رہنے کا راستہ تلاش کیا جائے۔
نیویارک میں کہے گئے موہن بھاگوت کے الفاظ کی اصل اہمیت بھی اسی میں ہے کہ وہ ایک اختتامی بیان نہیں بلکہ ایک ممکنہ آغاز بنیں۔
آغاز اس مکالمے کا، جس میں ہندو مسلمان سے یہ نہ پوچھے کہ ’’تمہیں یہاں رہنے کا حق کس نے دیا؟‘‘ اور مسلمان ہندو سے یہ نہ پوچھے کہ ’’اس ملک پر تمہارا حق کتنا ہے؟‘‘ بلکہ دونوں ایک دوسرے سے یہ کہیں کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ہم وطن ہیں، اور اس مشترکہ وطن کو بہتر بنانا ہم دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اگر یہ مکالمہ شروع ہوجائے تو شاید برسوں سے قائم بداعتمادی کی دیوار میں پہلی دراڑ پڑے۔ بات چیت کا دروازہ کھلے تو ممکن ہے کہ نیویارک کی ایک تقریر ہندوستان میں ایک نئے سفر کا نقطۂ آغاز بن جائے—ایسا سفر جس میں اختلاف باقی رہے، مگر دشمنی کم ہونے لگے؛ شناختیں برقرار رہیں، مگر فاصلے گھٹیں؛ اور ہندوستان کی کثرت محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت بن جائے۔
آخرکار امن اس وقت نہیں آتا جب سب ایک جیسا سوچنے لگیں؛ امن اس وقت آتا ہے جب مختلف سوچ رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کو سننا سیکھ لیتے ہیں۔ ہندوستان کو آج اسی مکالمے کی ضرورت ہے—ایسے مکالمے کی جس میں کوئی فریق اپنی شناخت یا اصول سے دستبردار ہوئے بغیر دوسرے کے وجود، حقِ شہریت اور عزت کو تسلیم کرے۔ یہی مکالمہ نفرت کی سیاست کا سب سے مؤثر جواب اور ہندوستان کے مشترکہ مستقبل کی سب سے مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے