تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید بھارتی
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے اور ان میں جمعہ کی نماز کو ایک خاص اہمیت عطا فرمائی ہے۔ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے عید کا دن ہے۔ اس دن مسلمان ایک جگہ جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، قرآن و حدیث کی تعلیمات سنتے ہیں اور آپس میں بھائی چارے اور محبت کے جذبات کو فروغ دیتے ہیں۔
آج کے دور میں بعض لوگ دنیاوی مصروفیات، کاروبار، سستی یا غفلت کی وجہ سے نمازِ جمعہ ادا نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں معاشرے میں مختلف قسم کی باتیں کی جاتی ہیں۔ لوگ ان کے کردار، مذہبی وابستگی اور دینی شعور کے بارے میں طرح طرح کے خیالات رکھتے ہیں۔ اس عنوان کے تحت ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ جمعہ کی نماز کی اہمیت کیا ہے اور اگر کوئی شخص جمعہ بھی نہیں پڑھتا تو لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
جمعہ کی نماز کی اہمیت
جمعہ اسلام کے عظیم شعائر میں سے ایک ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کی نماز محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے بھی جمعہ کی نماز کی پابندی کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بلا عذر مسلسل جمعہ ترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
جمعہ کی نماز صرف عبادت نہیں بلکہ مسلمانوں کے اتحاد، اخوت اور اجتماعی شعور کی علامت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی غیر معمولی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
معاشرے کی رائے
ہمارا معاشرہ مذہبی اقدار کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص جمعہ جیسی اہم نماز بھی ادا نہیں کرتا تو وہ اس کے بارے میں مختلف آراء قائم کرتے ہیں۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایسا شخص دین سے دور ہو گیا ہے۔ کچھ لوگ اسے دنیا کی محبت میں گرفتار سمجھتے ہیں جبکہ بعض لوگ اسے سست اور غافل قرار دیتے ہیں۔ معاشرے میں انسان کی شناخت صرف اس کے لباس یا گفتگو سے نہیں بلکہ اس کے اعمال سے بھی ہوتی ہے۔ نماز، خصوصاً جمعہ کی نماز، ایک مسلمان کی دینی شناخت کا اہم حصہ ہے۔
اکثر بزرگ یہ کہتے ہیں کہ جو شخص جمعہ کے دن بھی مسجد نہ جائے، اسے اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ لوگ ایسے افراد کو نصیحت بھی کرتے ہیں اور انہیں نماز کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لوگوں کے تبصرے
جب کوئی شخص جمعہ نہیں پڑھتا تو لوگ مختلف انداز میں تبصرہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
یہ شخص دین سے بے پروا ہو گیا ہے۔
اسے دنیا کے کاموں سے فرصت نہیں۔
شاید اسے نماز کی اہمیت کا اندازہ نہیں۔
یہ اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہے۔
اگر جمعہ بھی نہیں پڑھتا تو باقی نمازوں کا کیا حال ہوگا؟
اگرچہ ہر انسان کو دوسرے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں، لیکن معاشرے میں اس قسم کی باتیں عام طور پر سننے کو ملتی ہیں۔
نوجوان نسل اور غفلت
آج کی نوجوان نسل موبائل فون، سوشل میڈیا، تعلیم اور روزگار کی دوڑ میں اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ بعض اوقات دینی فرائض کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ بہت سے نوجوان جمعہ کے وقت بھی بازاروں، دکانوں اور تفریحی مقامات پر نظر آتے ہیں۔
یہ صورتِ حال تشویشناک ہے، کیونکہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان نسل نماز سے دور ہو جائے تو معاشرے کی دینی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ والدین، اساتذہ اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو نماز اور خصوصاً جمعہ کی اہمیت سے آگاہ کریں۔
کاروبار اور دنیاوی مصروفیات
بعض لوگ کاروبار اور ملازمت کے دباؤ کی وجہ سے جمعہ کی نماز ترک کر دیتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کچھ دیر کے لیے کام چھوڑ دیا تو نقصان ہو جائے گا۔ حالانکہ اسلام نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ جمعہ کے وقت خرید و فروخت ترک کر کے نماز ادا کی جائے۔
رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ جو شخص اللہ کے حکم کو پورا کرتا ہے، اللہ اس کے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دین کو ترجیح دی، اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا کی۔
دوسروں پر تنقید سے بچنا
اگرچہ جمعہ نہ پڑھنے والے شخص کے بارے میں لوگ مختلف باتیں کرتے ہیں، لیکن اسلام ہمیں دوسروں کے بارے میں بدگمانی اور سخت فیصلے کرنے سے بھی روکتا ہے۔ ممکن ہے کہ کسی شخص کے پاس کوئی مجبوری ہو، بیماری ہو یا کوئی ایسا عذر ہو جس کا ہمیں علم نہ ہو۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ کسی پر تنقید کرنے کے بجائے محبت، حکمت اور نرمی کے ساتھ اسے نماز کی طرف بلائیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے ہمیشہ آسانی، شفقت اور حسنِ اخلاق کا درس دیا ہے۔
جمعہ ترک کرنے کے نقصانات
جو شخص بار بار جمعہ کی نماز چھوڑ دیتا ہے، اسے بہت سے روحانی اور سماجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق کمزور ہونے لگتا ہے۔ دل میں سختی پیدا ہو جاتی ہے اور عبادت کی رغبت ختم ہونے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ مسجد کے ماحول، دینی تعلیمات اور مسلمانوں کی اجتماعیت سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔
سماجی طور پر بھی لوگ اس کے بارے میں منفی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ اس کی عزت اور ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ جمعہ کی نماز کی پابندی کرے۔
اصلاح کی ضرورت
اگر کوئی شخص جمعہ کی نماز نہیں پڑھتا تو اس کی اصلاح ضروری ہے۔ یہ اصلاح سختی، نفرت اور طعن و تشنیع سے نہیں بلکہ محبت، نصیحت اور اچھی مثال کے ذریعے ہونی چاہیے۔
والدین اپنے بچوں کو بچپن ہی سے نماز کی عادت ڈالیں۔ اساتذہ اپنے شاگردوں کو نماز کی اہمیت سمجھائیں اور علماء اپنے خطبات میں جمعہ کی فضیلت بیان کریں۔ جب پورا معاشرہ اس مقصد کے لیے کوشش کرے گا تو یقیناً مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
نتیجہ
جمعہ کی نماز اسلام کے اہم ترین شعائر میں سے ایک ہے۔ جو شخص جمعہ کی نماز ادا نہیں کرتا، لوگ اس کے بارے میں مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں اور اسے دین سے دور سمجھتے ہیں۔ تاہم، کسی کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنا ہمارا کام نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی نمازِ جمعہ کی پابندی کریں اور دوسروں کو بھی محبت اور حکمت کے ساتھ اس کی ترغیب دیں۔
ایک مسلمان کی اصل کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا میں ہے، اور اللہ کی رضا اسی میں ہے کہ اس کے احکام کی پیروی کی جائے۔ جمعہ کی نماز نہ صرف ایک فرض عبادت ہے بلکہ مسلمانوں کے اتحاد، بھائی چارے اور دینی شناخت کی علامت بھی ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس عظیم عبادت کی قدر کرے اور اسے اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائے۔
افسوس صد افسوس ہمارا حال کیا ہے جمعہ کے دن عصر سے لے کر پورا ہفتہ یعنی جمعرات کی نماز عشاء تک بلکہ جمعہ کے دن فجر میں بھی غائب،، اور جب جمعہ کی اذان ہوئی تو ہم اچھے اچھے کپڑے پہن کر خوشبو لگا کر بالکل اگلی صف میں جا کر بیٹھ گئے امام صاحب کی بھی نظر پڑی نماز جمعہ کے بعد امام نے ہم سے پوچھا آپ ایک ہفتے تک مسجد میں نہیں ائے ایک وقت کی بھی نمازیں ادا نہیں کی پھر آج اتنا سج دھج کر صف اول میں ا کر کیسے بیٹھ گئے کیا باقی سارے دن کی نمازیں معاف ہیں؟ ہم نے کہا امام صاحب آپ اصل میں بات نہیں سمجھ پا رہے ہیں تو امام صاحب نے کہا کہ وہی تو میں کوشش کر رہا ہوں یہ جاننے کی آخر کیا وجہ ہے کہ اپ ایک ہفتے تک نہیں ائے اور آج ائے تو اپ مجھے سمجھا دیں کہ آخر ایسا کیوں کیا صرف جمعہ پڑھ لینا ہی کافی ہے میں جاننا چاہتا ہوں پھر ہم نے کہا امام صاحب آپ سمجھ نہیں رہے ہیں تو یہ امام صاحب نے پھر کہا کہ اپ سمجھائیں مجھے میں وہی تو جاننا چاہ رہا ہوں کہ ایک ایک ہفتہ تک مسجد سے دور رہنا نمازوں سے دور رہنا اور جمعہ کے لیے ا کر اگلی صف میں بیٹھ جانا آپ کی کیا وجہ ہے تو ہم چاروں طرف سے پھرتے گئے ہمارے پاس امام صاحب کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا تو آخر میں ہم نے یہی کہا کہ امام صاحب اپ یہ نہیں سمجھ رہے ہیں کہ اج جمعہ کا دن ہے اگر اج بھی ہم نہیں اتے مسجد میں اور جمعہ کی نماز نہیں پڑھتے تو گاؤں سماج معاشرہ اور سوسائٹی کے لوگ کیا کہتے ہیں کہ تم نے جمعہ تک نہیں پڑھا تب امام صاحب نے کہا ہاں اب میں سمجھ گیا آج بھی آپ مسجد میں ائے ہیں تو اللہ کے خوف سے نہیں بلکہ سماج معاشرے اور سوسائٹی میں عزت بنانے کے لیے رسوا ہونے سے بچنے کے لیے آپ آئے ہیں افسوس آپ کے سینے میں آپ کے دل و دماغ میں سماج ، معاشرے میں رسوائی کا جتنا ڈر، خوف اور فکر ہے اتنا ہی خوف اللہ کا ہوتا تو آپ صرف جمعہ جمعہ نہیں بلکہ نماز پنجگانہ کے پابند ہوتے،، یاد رکھیں اللہ دلوں کا حال بھی جانتا ہے وہ ایسا سمیع و بصیر ہے کہ کالی رات میں بھی کالے پہاڑ کے کالے پتھر پر کالی چیونٹی کے چلنے کی آواز کو سنتا بھی ہے اور اسے دیکھتا بھی ہے آٹھ دن میں دو رکعت پڑھ بھاگنے والوں آخر کون تمہارا مددگار ہے؟ کون زندگی اور موت کا مالک ہے؟ کون بیماری اور شفا کا مالک ہے؟ سینے پر ہاتھ رکھ کر غور کریں ایک دن آنکھیں بند ہو جائیں گی، سانسیں تھم جائیں گی بس کھوکھلا جسم رہ جائے گا اور روح نکل جائے گی اور لوگ کاندھے پر اٹھائیں گے اور دو گز کے گڈھے میں دفن کرکے واپس آجائیں گے –
++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
