از: اعجاز احمد سنابلی

استاد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ وہ اپنے شاگرد کی علمی و فکری صلاحیتوں کو نکھارتا، اس کی خامیوں کی اصلاح کرتا، اس کے اخلاق و کردار کو سنوارتا اور اسے علم و عمل سے آراستہ کرکے معاشرے کا ایک مفید فرد بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ استاد اپنے شاگرد کو کامیابی کی ان بلندیوں پر دیکھنا چاہتا ہے جہاں شاید وہ خود بھی نہ پہنچ سکا ہو۔

باپ انسان کی جسمانی پرورش اور نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جب کہ استاد اس کی علمی، فکری اور اخلاقی تربیت میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے شاگرد کو چاہیے کہ وہ اپنے اساتذہ کا ہمیشہ احترام کرے، ان کے احسانات کو یاد رکھے، ان کے لیے دعائے خیر کرے اور جائز امور میں ان کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتا رہے۔

البتہ استاد کا ادب و احترام اپنی جگہ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہر چیز پر مقدم ہے۔ اگر کوئی استاد کسی ایسے کام کا حکم دے جو شریعت کے خلاف ہو تو اس معاملے میں اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی، البتہ اختلاف کے باوجود ادب و شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ»

’’اللہ کی نافرمانی والے کام میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت صرف نیکی کے کام میں ہے۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

استاد کی عظمت و تکریم سے متعلق ان بنیادی اسلامی اصولوں کے پیشِ نظر اب ایک ایسے رواج پر غور کرنا ضروری ہے جو ہمارے معاشرے اور تعلیمی اداروں میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے، یعنی ٹیچرز ڈے۔

ہر سال 5 ستمبر کو مختلف تعلیمی اداروں، مونٹیسری اسکولوں اور بعض مدارس میں ٹیچرز ڈے منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر طلبہ اپنے اساتذہ کو تحائف پیش کرتے، خصوصی تقریبات منعقد کرتے اور بعض جگہ کیک کاٹنے جیسی رسوم بھی ادا کرتے ہیں۔ بعض دینی و تعلیمی ادارے بھی اس رواج کا حصہ بنتے جا رہے ہیں، جو یقیناً غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: استاد کی عزت کرنا، اس کے احسانات کا اعتراف کرنا اور اسے تحفہ دینا اپنی ذات میں جائز اور پسندیدہ امور ہیں؛ لیکن کسی خاص دن کو ہر سال اسی مقصد کے لیے مقرر کرکے اسے باقاعدہ تقریب یا سالانہ شعار بنانا ایک الگ مسئلہ ہے۔ اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا 5 ستمبر کو ٹیچرز ڈے کے طور پر مخصوص کرنے اور ہر سال اس کا اہتمام کرنے کی شریعت میں کوئی دلیل موجود ہے؟

محض نیت اچھی ہونے سے ہر طریقہ شرعی نہیں ہوجاتا۔ دین کے معاملات میں کسی مخصوص وقت، دن یا طریقے کو عبادت، شعار یا دینی عمل کی حیثیت دینے کے لیے شرعی دلیل ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»

’’جس شخص نے ہمارے اس دین میں ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»

’’جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے۔‘‘ (سنن أبي داود)

لہٰذا ایسے مخصوص دن کو اختیار کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے، اس کا پس منظر کیا ہے اور آیا یہ کسی غیر مسلم معاشرے کے مخصوص تہذیبی شعار یا رسم سے تعلق رکھتا ہے یا نہیں۔

رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ کے دو دن تھے جن میں وہ کھیل کود اور خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى»

’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دونوں دنوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی۔‘‘ (سنن أبي داود، سنن النسائي)

یہ حدیث مسلمانوں کے مستقل شعائر اور خوشی کے مخصوص ایام کے بارے میں ایک اہم اصول واضح کرتی ہے۔ اسی لیے کسی دوسرے معاشرے سے رائج کسی مخصوص دن کو ہر سال باقاعدہ تقریب، جشن یا شعار کی صورت دینا اہلِ اسلام کے لیے احتیاط اور غور و فکر کا معاملہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾

’’یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘ (الأحزاب: 21)

مسلمان کی زندگی میں اصل رہنمائی قرآن و سنت اور رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے ہونی چاہیے۔ محض کسی رسم کا معاشرے میں عام ہوجانا اسے شرعی نہیں بنا دیتا۔

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر استاد کی عزت مقصود ہے تو اس کے لیے صرف 5 ستمبر ہی کیوں؟ استاد کی عزت اور اس کے احسانات کا اعتراف کسی ایک دن تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی استاد نے ہمیں قرآن پڑھایا، حدیث سمجھائی، علم سکھایا، اخلاق و کردار سنوارا اور زندگی گزارنے کا سلیقہ دیا تو اس کا حق یہ ہے کہ ہم اس کے لیے دعا کریں، اس کا احترام کریں، اس کی جائز نصیحتوں سے فائدہ اٹھائیں اور اس کے سکھائے ہوئے علم کو اپنی زندگی میں نافذ کریں۔

اسی طرح استاد کو تحفہ دینا ہو تو کسی مخصوص دن کا انتظار ضروری نہیں۔ مناسب موقع پر محبت و اخلاص کے ساتھ تحفہ پیش کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو۔ اس طرح استاد کی عزت بھی برقرار رہے گی اور کسی غیر ثابت سالانہ رسم کی پابندی بھی لازم نہیں آئے گی۔

اہلِ حدیث منہج کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ہر رسم و رواج کو کتاب و سنت کے ترازو میں تولیں۔ جو چیز شریعت سے ثابت ہو اسے اختیار کریں اور جسے شریعت نے ثابت نہیں کیا، خصوصاً جسے ہر سال ایک مخصوص دن کے ساتھ جوڑ کر باقاعدہ شعار یا تقریب بنا دیا گیا ہو، اس کے بارے میں احتیاط سے کام لیں۔

ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر ہر جائز مقصد کے لیے ایک مخصوص دن مقرر کرکے سالانہ تقریب کا رواج عام کردیا جائے تو رفتہ رفتہ بے شمار عالمی دن ہمارے دینی اور تعلیمی ماحول کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم معاشرتی رواج کے بجائے دلیل، سنت اور اسلامی تشخص کو معیار بنائیں۔

استاد کی عزت ایک خوب صورت اسلامی قدر ہے؛ اسے کسی ایک دن کی تقریب تک محدود کرنا اس عظیم رشتے کی حقیقی قدر نہیں۔ استاد کا احترام 5 ستمبر کا محتاج نہیں، بلکہ اس کا حق یہ ہے کہ اسے پورے سال، بلکہ پوری زندگی یاد رکھا جائے۔

استاد کا احترام ایک دن کا نہیں، پوری زندگی کا تقاضا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے