محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ اعتزاز نواب
ذہن میں ایک آوارگی ہمیشہ رقص کرتی تھی جو حواس پر غالب تو نہ ہوتی لیکن اسی کے سرور میں نواب اعتزاز ڈوبے رہتے۔کبھی ایک مشغلہ شروع کیا ، کبھی دوسرا، پھرتیسرے مشغلہ سے دل لگابیٹھے۔ جب بھی دینی باتوں اور صلاۃ وغیرہ کی بات آتی ،فوری دلچسپی لیتے، نمازیں پڑھنے لگتے ، اورآخرکار ایک دن اپنی پرانی چال پرواپس لوٹ جاتے۔وہ کسی کے بس کی چیز نہیں تھے ، کسی کے ہاتھ لگ نہیں سکتے تھے۔ سبھی سمجھ چکے تھے کہ یہ بیل کسی طرح مونڈھے چڑھے گی نہیں۔
لیکن ایک بات طئے تھی کہ جب بھی ان کے سامنے حضرت امام ِ حسین ؓ کے مناقب بیان کئے جاتے وہ ان مناقب کو پوری طرح سنتے اور کوشش کرتے کہ مناقب ختم ہونے تک کوئی دوسری مصروفیت شروع نہ کی جائے۔ ایک وقت وہ بھی آیاکہ نواب اعتزاز پوری طرح اہل بیت اطہار کی بابرکت زندگیوں کے سائے میںاپنی زندگی گزارنے کی شدومدسے سعی کرنے لگے ۔
ہم نے سوچا ’’کون ، کس راہ سے پوری طرح خدا کاہوکر رہ جائے کہانہیں جاسکتا ، خالق ومالک ِ ہر دوجہاں نے انسان کی ہدایت کاسامان کچھ اس طرح کیاہے کہ عقل چکراکررہ جاتی ہے۔ کہاں رقص ِ آوارہ اور کہاں راہ ِ اہل ِ بیت اطہار ؟ جو ہے اسی کی عطا ہے۔اس عطاکے سوا دوسراکچھ نہیں ہے۔اور ہو بھی کیوں کر؟
۲۔ اسلامی نظریہ
کافی غوروفکر کے بعد حالات کو سمجھتے ہوئے اور نرمی اختیار کرتے ہوئے پھونک پھونک کر نہ صرف قدم رکھا گیابلکہ کئی قدم اٹھائے گئے۔اور پھر سب نے ڈٹ کرجینا ہی نہیں سیکھا بلکہ ایک دن اقتدار پر قابض بھی ہو گئے۔ ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ جس سے پیغام پہنچا دیاگیاکہ مغلوں کے اولاد کی شاندارواپسی عمل میںآ چکی ہے.
مگر….. مگر…..جیتے رہنے اور اقتدار کی کرسی پر بہرحال متمکن ہونے کی خواہش کے درمیان اسلامی نظریہ کہیں پیچھے چھوٹ گیاجس کا خیال شاید ہی کسی کو رہاہو۔تاہم سبھی خوش تھے اور اپنی جیت پر جشن منا رہے تھے۔لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
نوٹ :۔ قارئین’’ لاحول۔۔۔‘‘ کوافسانچے کاحصہ نہ سمجھیں ، افسانچہ نگار ذرا جذباتی ہوگیاہوگا۔
۳۔ منہ پھیرلیا
ایک موقع پر میں نے کہا’’اسلامی نظام حکومت حضرت۔۔۔! ‘‘
حضرت نے خود مجھ سے پوچھا ’’ وہ کیاہوتاہے ؟‘‘ حضرت کی اس درجہ معصومیت پر ماتم کرنے کے بجائے میں ان کی مجبوریوں اور کمزوریوں پردھیان دینے لگا۔شاید وہ کسی اور راستے پر چلناچاہتے تھے۔ اسلام کے ایک جامع مطالبہ کو نظرانداز کرنا ممکن نہ تھالیکن پھر بھی حضرت نظرانداز کرنے جارہے تھے۔ میں نے حضرت کے نام کی مناسبت سے کہا’’اسلامی نظام حکومت وہی ہوتاہے جن کے نام پر آپ کے والدین نے آپ کا نام رکھاتھا ۔مطلب یہ کہ جوہستی اُسی اسلامی نظام حکومت کو قائم کرنے کی جدوجہدکرتے ہوئے شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوگئی اورجسکی سعی ان کے چھوٹے صاحبزادے نے بھی کی اوروہ بھی شہیدکہلائے‘‘
’’وہ کون ؟‘‘اس سوال میں حضرت کی معصومیت نہیں تھی بلکہ وہ تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے تھے۔ میں نے کہا’’حضرت علی ؓ‘‘
انھوں نے میری طرف سے منہ پھیرلیا۔ میں نے بھی جاہلوں کی طرح ان سے جواباًمنہ پھیرنے میں عافیت جانی جب کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھاکہ وہ سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔
۴۔ بے ہمتی
سبھی جی رہے ہیں ۔ اس میں کوئی فلسفہ اگر کہیں ہے تو یہ ہے کہ جیتا وہی ہے جس کو جیتارکھاجائے اور موت اس کی ہوتی ہے جو زمانہ کی آنکھوں سے اوجھل ہوجائے۔
سچ پوچھیں تو میںحیات وموت کے حقیقی فلسفے کی تلاش میں تھا۔اچانک ہی ایک برگزیدہ شخصیت سے ملاقات ہوگئی ۔ کئی شب وروزکے گزرنے کے بعد ایک دِن خود انھوں نے بتایاکہ حیات اسے حاصل ہے جومحبوب کی نظر میں ہے۔اور جو محبوب کی آنکھوں سے اوجھل ہے اس کیلئے خسارہ ہی خسارہ سمجھو۔
میں اُن سے نہیں پوچھ سکاکہ محبوب کی نظر میںہوں کہ نہیں ؟ ہمت ہی نہیں ہوتی کہ اپنی بابت کچھ دریافت کیاجائے۔
۵۔ ماتم کے دن
وہ پانسات دن تک ماتم کرتے رہے۔ انتہائی جان لیواقسم کاسالانہ ماتم ہواکرتاہے ۔اس موقع پر ان کے بڑوں کی کوشش ہوتی تھی کہ بچے اس ماتم سے دور رہیں۔اوربڑوں کو بھی ماتم کرنے سے کم سے کم جسمانی نقصان پہنچے۔ بہرحال ماتم کے مختص دن جیسے ہی ختم ہوئے زندگی پرانی روش پرلوٹ آئی۔
ضبط اپنا شعار تھا نہ رہا
دل پہ کچھ اختیار تھا نہ رہا
