منصور قاسمی کی رپورٹ
ریاض: سعودی عربیہ کے ٩٦واں یوم الوطنی کے موقع پر گلف اردو کونسل کے زیر اہتمام ایک شاندار اور پروقارآن لائن مشاعرہ منعقد کیا گیا ، جس میں سعودی عرب ،قطر ، دبئی ،کویت، یوکے،ہندوستان اور پاکستان کے شعراء کرام نے شرکت کی ۔اس مشاعرےکی صدارت بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر اور کئی کتابوں کے خالق ڈاکٹر سعید روشن(انڈیا)نے کی ؛جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے گلف اردو کونسل کے صدر اورمنفرد لب و لہجہ کے شاعر ڈاکٹر افروز عالم (کویت) شریک رہے ۔ نئی نسل کے نمائندہ شاعر اور نقیب الخلیج کے ایڈیٹرمنصور قاسمی(ریاض)نے اپنے مخصوص انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔یو کے میں مقیم مصطفٰی درویش نے حمد پاک سے باضابطہ مشاعرے کا آغاز کیا۔صدارتی خطبہ میں صدر مشاعرہ ڈاکٹر سعید روشن نے تمام شعراکی غزلوں پر شاندار تبصرہ کرنے کے بعد کہا : خلیج میں بہترین اور لاجواب شاعری ہو رہی ہے ۔ خلیجی ممالک کی شاعری اردو کے مراکز کی شاعری سے بالکل بھی کم نہیں ہے۔ اس مشاعرے میں شریک ہو کر مجھے بے حد مسرت ہوئی۔
واضح رہے کہ گلف اور ہند و پاک کے علاوہ دیگر کئی ممالک کے باذوق اور سخن فہم سامعین کی ایک بڑی تعداد اپنی اپنی قیام گاہوں سے اس مشاعرےسے محظوظ ہو رہی تھی ۔ اختتام پر گلف اردو کونسل ریاض چیپٹر کے رکن اور ناظم مشاعرہ منصور قاسمی نے تمام شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔ قارئین کے لئے منتخب اشعار پیش ہیں ۔
وہ محبتوں کے سفیرتھے ، وہ روایتوں کے امین تھے
جو بہت زمانہ شناس تھے، وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
ڈاکٹر سعید روشن
کسی بے نور ماتھے سے ہے سہما سہما ماضی بھی
نہ شرمائے چراغوں کی ضیا آہستہ آہستہ
ڈاکٹر افروز عالم
مجھ کو معلوم ہے مجھ کو ہی ہدف ہونا ہے
خیر اب تم کو نشانے کی ضرورت کیا ہے
ڈاکٹر حنا کوثر
تاکہ منصور ؔ کو ہو علم مرے ہونے کا
نقش پا چھوڑ کے جانا ہے لگاتار مجھے
منصور قاسمی
سنبھال رکھی تھی اس نے ہی خاندان کی چھت
عجیب حوصلہ اس ناتواں میں ستون میں تھا
سہیل اقبال
جتنا درکار تھا میں، اتنا میسّر سمجھا
کوئی دریا تو مجھے کوئی سمندر سمجھا
سلیم کاوش
میرا محبوب ہے حقیقی وہ
جو رگِ جاں کے پاس رہتا ہے
مظفر نایاب
لہرا رہا ہے آج جو پرچم ہرا بھرا
امن و اماں کا بانٹنے آیا ہے یہ پیام
نور جمشیدپوری
جو بھٹکنے نہ دے ہمیں اور اب
ایسا ایک میرِ کارواں دے دے
آرزو مہک
جو تیری آنکھ میں قطرہ ہے فقط پانی کا
گر مری آنکھ سے بہتا تو سمندر ہوتا
جویریہ کاظم
دنیا کا جو سہارا نہیں ہے تو کیا ہوا
تو بھی اگر میرا نہیں ہے تو کیا ہوا
عماد بخاری
ماں کی شکم سے لے کر قبر تک کا اندھیرا
ان دونوں کے درمیان ایک عمر کا بسیرا
مصطفٰی درویش
ہر چند کہ بساط مری کچھ نہ تھی مگر
خود کو کسی کے رنگ میں ڈھالا نہیں گیا
حکیم اسلم قمر
