مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی 

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ 
محمد ولی اللہ (ولادت 7/جنوری 1967ء) بن محمد امین اللہ بن علی کریم ساکن حسن پور وسطی مہوا ویشالی، اپنے قلمی نام ولی اللہ ولی سے زیادہ مشہور ہیں، آل انڈیا ریڈیو کی فارسی نشریات سے منسلک ہیں، دہلی کے لچھمی نگر میں قیام پذیر ہیں، خبر ہے کہ جلد ہی ملازمت سے سبکدوش ہونے والے ہیں، بہار یونیورسٹی مظفرپور میں بی اے آنرس فارسی میں ہم دونوں ہم درس رہے ہیں، ایم اے اور پری پی ایچ ڈی میں میرا ان کا ساتھ چھوٹ گیا اور وہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی چلے گئے اور ملازمت کی وجہ سے وہیں کے ہوکر رہ گئے، لیکن انہوں نے ملازمت کی مشقت کے ساتھ مشقِ سخن جاری رکھا اور ”آرزوئے صبح “ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ طباعت کے مرحلہ سے گزرا اور قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے مالی تعاون نے طباعت کے مراحل کو آسان بنایا، براؤن بک پبلیکیشنز نئی دہلی نے جے، کے، آفسیٹ پریس دہلی سے چھپوا کر اسے شائع کیا ہے، ملنے کے پتے میں مکتبہ جامعہ لمیٹڈ جامعہ نگر نئی دہلی- 25، کتابستان، چندواڑہ، مظفرپور، بک ایمپوریم سبزی باغ، پٹنہ- 14 اور تیغیہ کتاب منزل مہوا ویشالی کا نام درج ہے، آپ چاہیں تو نور اردو لائبریری حسن پور بکساما ویشالی سے بھی طلب کرسکتے ہیں، قیمت ایک سو نناوے روپے ہے اور صفحات ایک سو اٹھاسی (188)، کتاب کا انتساب والدین کے نام ہے، جو ولی اللہ ولی کے لیے سعادت کی بات ہے، شاعر کے ”سوانحی اشاریے“ کے بعد ”مقدمہ“ ڈاکٹر واحد نظیر، ”آرزوئے صبح- فکر وفن کے آئینے میں“ ڈاکٹر معراج الحق برق، ”ولی اللہ ولی کی شاعری“ ڈاکٹر احمد محفوظ، ”آرزوئے صبح میں جینے والا شاعر ولی اللہ ولی“ ڈاکٹر مولابخش، ”آرزوئے صبح- منظوم تاثرات“ ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی اور ”اظہارِ تشکر- ولی اللہ ولی“ داخلِ کتاب ہے، ان تحریروں کی حیثیت نیمے دروں نیمے بروں کی ہے، نیمے دروں تو اس لیے کہ ان مضامین و تاثرات سے ہم ولی اللہ ولی کی شاعری کے در وبست سے واقف ہوتے ہیں اور ان کی فکری و فنی حیثیت قاری پر روشن ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ یہ مضامین اس کتاب کا حصہ ہیں، نیمے بروں اس لیے کہ وہ ولی اللہ ولی کی شاعری کا حصہ نہیں ہیں، اس ”نیمے دروں اور نیمے بروں“ پر ایک سو اٹھاسی صفحات میں پچاس صفحات صرف کیے گئے ہیں، اسے صرف بے جا نہیں کہا جاسکتا، البتہ یہ پوری کتاب کا چوتھا حصہ ضرور ہیں، ان صفحات پر اہل شعر وسخن نے جو گل کاریاں کی ہیں، ان میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو ولی اللہ ولی کو ذاتی طور پر نہ جانتا ہو، میں بھی ان میں سے ایک ہوں، ولی اللہ ولی کا اخلاق اتنا بلند اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ اتنا مضبوط ہے کہ جو ان سے ملا ان کا اسیر ہوجاتا ہے، ادب میں ایسے موقعوں پر زلفِ گرہ گیر کا اسیر استعمال ہوتا ہے، لیکن وہ زلف رکھتے ہی کب ہیں کہ میں ان کے بارے میں ایسا کچھ لکھوں، لکھنے والوں نے ولی اللہ ولی کے شعری ابعاد پر روشنی ڈال کر جو بتانے کی کوشش کی ہے، اس کے مطابق ڈاکٹر واحد نظیر کا کہنا ہے کہ ”ایوانِ شاعری کے دروازے پر ولی اللہ ولی کی شعری دستک، سچے جذبات اور بے ریا اظہار کی آمد کا اعلان تصور کیا جائے گا“، ڈاکٹر معراج الحق برق مرحوم کے بقول ”اس پہلے مجموعہ میں دستیاب فکری توانائی اور فن کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم بلا تردد کہہ سکتے ہیں کہ ان کا جہدِ مسلسل بارگاہِ شعر و ادب میں باریابی کے لیے ضامن کی حیثیت رکھتا ہے“، ڈاکٹر احمد محفوظ لکھتے ہیں: ”آرزوئے صبح میں شامل کلام مجموعی حیثیت سے اس قابل ہے کہ اسے شوق سے پڑھا جائے اور اس کا کچھ حصہ تو یقیناً ایسا ہے کہ اسے نئے احساس کا حامل کہا جاسکتا ہے، اس میں فنی پہلوؤں کی کارفرمائی بھی بجا دیکھی جا سکتی ہے، ’ڈاکٹر مولا بخش کی رائے ہے کہ ’ولی کے اندر مستقبل کا ایک اہم شاعر پوشیدہ ہے، جو شاعری کی دنیا میں اپنا پہلا مجموعہ پیش کرتے ہوئے ہمیں یہ احساس دلا رہا ہے کہ اس برق رفتار زمانے میں بھی شعر وشاعری انسان کو زندہ رہنے کا اپنا ایک جواز فراہم کرتی ہے‘، ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی نے اپنے منظوم کلام میں ولی اللہ ولی کی شاعری کو ’سوز وسازِ عشق کا اظہار ہے ان کا کلام‘ سے تعبیر کیا ہے۔
فلیپ پر خواجہ اکرام الدین اور پروفیسر غضنفر کی تحریریں ہیں، خواجہ اکرام الدین کا خیال ہے کہ ”شاعر کی روایت پسندی اسے مذہب کے ان اعلام واوقاف کی جانب مائل کرتی ہے، جس سے ان کی شاعری کا الگ رنگ قائم ہوتا ہے، پروفیسر غضنفر نے لکھا کہ ”ان کی شعری عمارت کے فنی رنگ وروغن بھی خاصے گاڑھے اور تابدار نظر آتے ہیں، زبان وبیان کی پختگی اور فنی رچاؤ پوری توانائی سے دامنِ دل کو اپنی طرف کھینچتی ہے“
آرزوئے صبح میں حمد، مناجات، نعت، غزلیں اور سہرے بھی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ولی اللہ ولی کو مختلف شعری اصناف میں اشعار کہنے کا بھرپور سلیقہ ہے، انہوں نے نعت میں بعض مشہور روایت کو شعری پیکر عطا کیا ہے، مثلاً جب وہ کہتے ہیں کہ محمد کے صدقے میں دنیا بنی ہے تو پڑھ کر ”لو لاک لما خلقت الافلاک“ کی یاد آ جاتی ہے، البتہ نعت کے بعض اشعار میں مختار کل اور نوری ہونے کا عقیدہ در آیا ہے اور نعت کے بعض اشعار مناجات بن گئے ہیں۔
ولی اللہ ولی نے اپنی شاعری میں تلمیحات کا بھی سہارا لیا ہے، جس نے ان کی شاعری کو دلچسپ بنا دیا ہے، مثلاً سر قلم کرنے آیا تھا جو خود قتیلِ وفا ہو گیا، اسی طرح ’ماں نے پتھر کو پکایا دیر تک‘ ”وہ تاریخی واقعات ہیں، جن کی طرف شعر میں اشارہ کیا گیا ہے، مجموعہ میں ایک غزل فارسی زبان میں ہے، اس میں بھی انہوں نے تلمیح سے کام لیا ہے ’من کہ یارِ یوسفِ یعقوب ہستم، بی گناہم ہیچ نگرانی ندارم“ متفرقات کے ذیل میں ایک فارسی اور ایک اردو میں آزاد نظم بھی ہے، جس سے اس ہیئت سے بھی شاعر کا لگاؤ معلوم ہوتا ہے، بعض اشعار میں توارد کی کیفیت بھی پائی جاتی ہے، ولی اللہ ولی کا یہ شعر دیکھیے:
بھوکے بچوں کو سلانے کے لیے
ماں نے پتھر کو پکایا دیر تک
اس موقع سے نواز دیوبندی کا یہ شعر دیکھیے:
بھوکے بچوں کی تسلی کے لیے
ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک
ولی اللہ ولی کی غزلیہ شاعری میں دبستانِ داغ کا رنگ جھلکتا ہے، محبوب سے گلے، شکوے، کاکل و رخسار، ہجر و فراق کی داستان، ہر عمر کے لوگوں کے دلوں میں گدگدی پیدا کرتی ہے، ان اشعار میں عشوہ طرازی، ناز نخرے اور محبوبہ کی چہل بازی پڑھ کر دل میں ایک کیف و سرور پیدا ہوتا ہے، سارے ادوار سے گزرنے کے بعد بھی ولی اللہ ولی کی غزل کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ غزل میں رومانیت آج بھی موجود ہے اور اسے فکر وفن کا حصہ بنایا جا سکتا ہے، ولی اللہ ولی نے جن موضوعات کو اشعار کے لیے منتخب کیے ہیں وہ وہی ہیں جن سے ہمیں سابقہ پڑتا ہے، مجموعہ کی بعض غزلیں سہلِ ممتنع کی بہترین مثال ہیں، قیصر صدیقی کے شاگردوں کی تعداد بڑی ہے، لیکن معراج الحق برق کے شاگرد کی حیثیت سے کوئی نام اگر میرے سامنے ہے تو وہ ابھرتے ہوئے شاعر ولی اللہ ولی کا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے