الحکمہ اسلامک سینٹر پٹھان واڑی ملاڈ ایسٹ ممبئی کے زیر اہتمام دینی و اصلاحی تربیتی اجلاسِ عام کا انعقاد
ممبئی 27 ستمبر 2026ء بروز اتوار بعد نمازِ مغرب الحکمہ اسلامک سینٹر پٹھان واڑی، ملاڈ ایسٹ ممبئی کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان دینی و اصلاحی تربیتی اجلاسِ عام کا انعقاد مسجد دارالسلام واشی ناکہ چیمبور ممبئی میں ہوا جس میں مقامی نمازیوں، دینی احباب نوجوانوں اور مختلف علاقوں سے تشریف لانے والے مسلمانوں نے شرکت کی۔
پروگرام کا بنیادی مقصد مسلمانوں میں فکرِ آخرت پیدا کرنا موت اور بعد از موت کی زندگی کی حقیقت کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھانا اعمال کی اصلاح کی طرف توجہ دلانا اور زندگی کو کتاب و سنت کے مطابق گزارنے کا جذبہ بیدار کرنا تھا۔
اجلاس کے مرکزی مقرر فضیلة الشیخ حافظ عبدالرحمن ریانی نوری حفظہ اللہ نے عالمِ برزخ سے میدانِ محشر تک کے عنوان سے نہایت مؤثر، فکر انگیز اور اصلاحی خطاب فرمایا۔
شیخ موصوف نے قرآن و سنت کی روشنی میں موت قبر عالمِ برزخ دوبارہ اٹھائے جانے میدانِ محشر، حساب و کتاب اور آخرت کی جواب دہی کے مختلف مراحل پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے حاضرین کو متنبہ کیا کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، جبکہ اصل اور ہمیشہ رہنے والی زندگی آخرت کی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تمہیں تمہارے اجر قیامت کے دن ہی پورے پورے دیے جائیں گے۔ (آل عمران 185)
شیخ حافظ عبدالرحمن ریانی نوری حفظہ اللہ نے فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ وہ موت کو یاد رکھے، اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اور آخرت کے لیے تیاری کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ (الحشر 18)
انہوں نے نماز کی پابندی توبہ و استغفار حقوق العباد کی ادائیگی ظلم غیبت اور چغلی سے اجتناب، حلال روزی اختیار کرنے، قرآن مجید سے تعلق مضبوط کرنے اور اپنے اہل و عیال بالخصوص بچوں کی دینی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دلائی۔
نبی کریم ﷺ نے موت کو کثرت سے یاد کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ
لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔ (جامع الترمذی 2307)۔
شیخ محترم نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ قیامت کے دن انسان کے چھوٹے سے چھوٹے عمل کا بھی حساب ہوگا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا
(الزلزال 7-8)
انہوں نے حاضرین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی مصروفیات انسان کو آخرت سے غافل نہ کریں۔ آج ہمارے پاس عمل کا موقع ہے، لیکن ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب عمل کا دروازہ بند ہوجائے گا اور انسان کو اپنے کیے ہوئے اعمال کا سامنا کرنا ہوگا۔
پروگرام میں اس سے قبل فضيلة الشیخ افضل حسین مدنی حفظہ اللہ امام و خطیب مسجد دارالسلام نے فکرِ آخرت” کے عنوان سے خطاب کیا اور قرآن و سنت کی روشنی میں آخرت کی تیاری کی اہمیت بیان کی۔
انہوں نے موت کی یقینی حقیقت دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی جواب دہی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حاضرین کو اپنے اعمال کی اصلاح نماز کی پابندی اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کی ترغیب دی۔
اس دینی و اصلاحی پروگرام کی نظامت مسجد دارالسلام کے مؤذن حافظ امانت اللہ صاحب نے انجام دی۔
پروگرام میں شریک علماء، دینی احباب نوجوانوں اور عام مسلمانوں نے مقررین کے اصلاحی خطابات سے استفادہ کیا اجلاس کے ذریعے اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلمان دنیاوی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کی کامیابی کو بھی اپنی زندگی کا بنیادی مقصد بنائیں
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ مسلمانوں کو غفلت سے بیدار فرمائے، موت سے پہلے سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے نمازوں اور دیگر عبادات کو قبول فرمائے عذابِ قبر اور قیامت کی رسوائی سے محفوظ رکھے میدانِ محشر میں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے آمین۔
