مفتی ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
جنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ
قرآن یہ کتاب الہی ہے اورشریعت اسلامیہ میں اس کےپڑھنے اور شروع کرنے کے آداب بھی بتلائے گئے ہیں۔تلاوت کے عمل میں داخل ہونے کے لئے طہارت کےساتھ شیطانی وساوس سےحفاظت کےلئےاللہ کی پناہ مانگنے کا حکم ہے،ارشاد باری تعالٰی ہے:اور جب آپ قران پڑھیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں (سورہ النحل )اس کی وجہ مفسرین نے یہ بتلائی ہے کہ اللہ کے کلام کی تلاوت سے پہلے روح کی پاکیزگی ضروری ہے،شیطانی وساوس یہ روحانی پراگندگی کا نام ہے،ان سے بچنے کے لئے خدا کی پناہ لازمی شئی ہے۔
اسکےبعد بسم اللہ کے ذریعے اللہ کےنام سے برکت اور مدد حاصل کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، یہ بھی قرآن کریم کی ایک آیت شریفہ ہے،اور سورہ نمل کا حصہ ہے،نیز قران کریم کے سورہ توبہ کو چھوڑ کر بقیہ ۱۱۳/سورتوں کے شروع میں لکھا ہوا ہے۔بہر کیف شیطان کے شر سے الله کی پناہ مانگنا، یا اللہ کے نام سے برکت طلب کرنا ،یہ تعوذ وتسمیہ دعا ہی کےنام ہیں، لہذا قرآن کریم کی ابتدا واختتام پر دعا کا اہتمام یہ مسنون عمل ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ قرآن ختم کرتے تو اپنے اہل خانہ کو جمع کرتے اور دعا کا اہتمام کیا کرتے تھے،آج اس حوالہ سے بھی افراط وتفریط دیکھنے میں آتی ہے، کہیں تو اس کا مزاج ہی نہیں ہے، پوچھئے کہ بچوں نے آپ کے مدرسہ میں قرآن مکمل کیا تو دعائیہ پروگرام ہونا چاہیے، اس پر یہ جواب ملتا ہے کہ اجلاس کرنے کے لئے اتنی رقم کہاں سے لائیں، اور کہیں دستار بندی کے نام پر بڑے بڑے جلسے کئے جاتے ہیں، مگران جلسوں سے کوئی مفید پیغام نہیں دے پاتے ہیں، کھان ،پان، کھینچ ٹان میں یہ پورا پروگرام ضائع ہوجاتا ہےاور حاصل کچھ بھی نہیں ہے۔
قرآن کی نسبت پر پروگرام یہ سنجیدگی اور وقار چاہتا ہے، اس کے لئے سہ روزہ جلسہ نہیں بلکہ دعائیہ مجلس کی ضرورت ہے۔ابھی چند روز پہلے تکمیل قرآن کریم کی ایک مثالی دعائیہ مجلس میں ہماری شرکت ہوئی ہے۔یہ کوئی مدرسہ کا پروگرام نہیں ہے بلکہ شہر ارریہ میں چل رہے المنار ایجوکئرسینٹر جسے عصری ادارہ کہا جاتا ہے وہاں کا واقعہ ہے۔ ارریہ کے معروف عالم دین مولانا اکبر صادق صاحب ندوی نے بتایا کہ المنار ایجوکئرارریہ کے شعبہ حفظ میں تکمیل قرآن کا پروگرام ہے،میرابیٹااحمد صادق اپناآخری سبق مکمل کرنے جارہا ہے، میری خواہش ہے کہ کچھ احباب اس کے گواہ بنیں۔اسی مناسبت سے میری حاضری وہاں ہوئی تو وہاں دیکھا کہ عزیزی موصوف کے رشتے دار جمعیت علماء بہار کے نائب صدر، عمائدین شہر ،المنار کے اساتذہ کرام وذمہ داران، طلبہ ودانشوران کی ایک بڑی تعداد ہے،پروگرام بہت ہی سادہ، سنجیدہ اور پر وقار ہے،بعد نماز مغرب شروع ہوکر عشاء پر مکمل ہوجاتا ہے، پہلے سے ہمیں یہ جانکاری تھی کہ عشا تک پروگرام ہے مگر عشائیہ اس میں شامل نہیں ہے۔ چائے ناشتہ پر ہی اس مجلس کو مکمل ہوجانا ہے، صرف اور صرف مقصد دعا ہے اور دعائیہ پروگرام ہے۔
پروگرام شروع ہوا اور عزیزی موصوف نے انتیسویں پارہ کی آخری رکوع شروع کرکے اس کی آخری آیت:فباي حدیث بعدہ يومنون (المرسلات)ترجمہ "اب کس بات پر اس کے بعد یقین لائیں گے”پر پہونچ کراپنا سبق مکمل کرلیا۔ختم قرآن کی مجالس میں عموما یہی معمول ہے کہ سورہ الناس کے بعد سورہ الفاتحہ اور سورہ البقرہ کی ابتدائی پانچ آیات پڑھ کر حفاظ کرام قرآن مکمل کرلیتے ہیں ،مگر یہاں بابو حافظ احمد صادق کے عمل نے ایک بڑا پیغام دیاہے،یہ درحقیقت ان کے استاد گرامی قدرحافظ وقاری مولانا ذوالفقارصاحب ندوی کا کمال ہے کہ انہوں نےاس چھوٹے سے بچے کو محض دس سال کی عمر میں حافظ بنادیا اور آخری سبق کے ذریعے یہ پیغام بھی دیدیا کہ میرا کمال نہیں ہے بلکہ توفیق خداوندی ہے اور قرآن کریم کایہ اعجاز ہے۔یہ بات تو آخری آیت سے کہی گئی ہے بقیہ آخری سبق کی پوری رکوع جو عزیزی موصوف نے مجمع عام کے سامنے تلاوت کی ہے، ایسا محسوس ہوا کہ کلام الہی میں ایک استاد بول رہے ہیں، اپنے شاگرد کی خوبصورت آواز کا سہارا لیکر اس کے ذریعے پوری امت مسلمہ سے حالات حاضرہ پر بھی خطاب کررہےہیں، نیز قرآن کریم کی روشنی سے پورے مجمع ہی کو نہیں بلکہ ملک وملت اور پورے عالم کو مستفید کررہےہیں،پوری رکوع کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:’’البتہ جو ڈرنے والے ہیں وہ سایہ میں ہیں اور نہروں میں اور میوے جس قسم کے وہ چاہیں،کھاؤ اور پیو مزے سے بدلہ ان کاموں کا جو تم نے کئے تھے، ہم یونہی دیتے ہیں بدلہ نیکی کرنے والوں کو، خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی، کھالو اور برت لو تھوڑے دنوں بیشک تم گنہگار ہو، خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی، اور جب کہتے ہیں ان کو جھک جاؤ نہیں جھکتے، خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی، اب کس بات پر اس کے بعد یقین لائیں گے (المرسلات )
پورا مجمع یکسو ہے اور بچہ کی تلاوت ہورہی ہے، سبھی مستفید ہورہے ہیں، پھر تاثرات کے لئے علماء کرام مدعو کئے گئے تو سبھوں نے بیک زبان یہی کہا کہ واقعی یہ قرآن کا آخری سبق ہے۔اس آخری سبق میں لوگوں کی دوقسمیں بتلائی گئی ہیں اور دونوں کی آخری منزل کی نشاندہی کی گئی ہے۔پہلی قسم قرآن پڑھنے اور اس کتاب الہی سے مستفید ہوکر تقوی والی زندگی گزارنے والوں کی یے،قرآن میں دوسری جگہ یہ واضح اعلان بھی ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے مگر متقین کے لئے اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے، اور ان کی آخری منزل جنت ہے۔ اور جو لوگ اس آخری کتاب سے روگردانی کرنے والےہیں، اور قرانی احکامات کے سامنے جھکتے نہیں ،یہ خدا کی نگاہ میں خطرناک جرائم کے مرتکب ہیں، چند روز مزے اڑالیں اور کھاپی لیں، یہ سب کھایا پیا جلد ہی نکلنے والا ہے،اور بالآخر انہیں اپنےانجام کو پہونچنا ہے، اور ان کا آخری ٹھکانہ دوزخ ہے۔ انہیں ہمیشہ کے لئےاس میں قید کردیا جائے گا۔یہ آخری آسمانی کتاب کی آخری بات ہے،اگر یہ لوگ اس پر یقین نہیں لاتے تو اور کس بات پر ایمان لائیں گے؟کیا قرآن کے بعد کسی اور کتاب کے منتظر ہیں جو آسمان سے اتریگی جناب مولانا ذوالفقارصاحب ندوی نے اس تقریب ختم قرآن سے واقعی بہت خوبصورت پیغام دیا ہے اور موجود وغیر حاضر ہر قسم کے لوگوں کو اس میں شامل کرلیا ہے، یہ حسن انتخاب ہے، نیز جس ادارے سے وہ فارغ ہیں اس کی خصوصیات میں سے ہےکہ وقت اور حالات کے تقاضے کو سمجھتا اور اس کے مطابق مداوا کرنا۔
یہ دارالعلوم ندوۃالعلماء کی بنیادی فکر میں شامل ہے ،جس طرح ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کو "شریعت کا فرزند ارجمند” کہتے ہیں اسی طرح "ندوہ ہے زبان ہوشمند”سے ندوہ کی ترجمانی کی گئی ہے۔اس پر مولانا موصوف کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتے ہوئے وسیم بریلوی صاحب کا یہ شعر نذر کرتے ہیں کہ:۔
کونسی بات کیسے کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے
