زین العابدین ندوی
سنت کبیر نگر یوپی
الیکشن کے دن قریب آتے ہی نامناسب سیاسی پینترے دکھائی دینے لگے جو کوئی نئی بات نہیں، الیکشن سے پہلے یہ ہوتا ہی رہتا ہے لیکن اس بار آپ نے دیکھا ہوگا حزب مخالف پارٹیوں نے برسر اقتدار جماعت کے خلاف ایک اتحادی پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جو در حقیقت عوام کو دھوکے میں ڈالے رکھنے کا ایک بہانہ ہے ورنہ سچائی یہ ہے کہ ملک سے بہی خواہی کے جذبے سے ہر ایک عاری ہیں، اندرون خانہ یہ سب ایک ہی دسترخوان کے خوشہ چین ہیں ،اس موقع پر ایک بات پر آپ نے غور کیا ہوگا کہ ان اتحادی پارٹیوں میں اگر کسی کو شامل نہیں کیا گیا تو مجلس اتحاد المسلمین اور بدر الدین اجمل آسام کی پارٹی AIUDF ہے ، ان کو شامل نہ کرنا کہیں نہ کہیں کانگریس کے اندرون خانہ منصوبوں کو واضح کرتا ہے، جہاں تک معاملہ کانگریس کا ہے تو یہ بات علی الاعلان کہی جا سکتی ہے کہ آج جن کڑوے پھلوں کا ذائقہ ہندوستانیوں کو بالخصوص مسلمانوں کو چکھنا پڑ رہا ہے وہ کانگریس کے ہاتھوں لگایا گیا تھا اور ایک زمانہ تک جس کو سیراب کیا جاتا رہا آخرکار نتائج کے دن آہی گئے تو اس میں بلبلانے کی کیا ضرورت ہے ،لیکن افسوس یہ ہے مگرمچھ کے ان آنسوؤں کو نہ جانے کیوں سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی اور اگر سمجھا گیا تو اب تک قومی یک جہتی کے نام پر اس کی حمایت کے لئے کروڑوں کے خرچ سے اسٹیج کیوں سجائے جاتے رہے ، اس دوران ایک نئی بات یہ بھی سامنے آئی کہ آسام کی کانگریس نے بدر الدین اجمل پر کاروائی کا مطالبہ کیا، آسام سے ان کو مٹانے کے در پہ تلے ہوئے ہیں ۔۔۔لیکن کانگریس حمایتیوں کو نہ جانے یہ بات کب سمجھ آئے گی۔۔۔۔مطلع صاف ہوچکا ہے اور ایک زمانہ سے اس کی سپیدی ظاہر ہے مگر نہ جانے ہماری کیا کمزوری ہے کہ ہم بہر حال ان کے کفگیر بنے گھوم رہے ہیں ۔۔۔۔مجھے امید ہے کہ کانگریس حامیوں نے جتنی آواز ان کے لئے بلند کی اگر اس کا عشر عشیر بھی اپنی طاقت کو ابھارنے کے لئے کر دیتے تو منظر نامہ کچھ اور ہی ہوتا ۔۔۔۔۔
