ہیومن سوشل کیئر فاؤنڈیشن کے بانی و صدر ڈاکٹر فیضان احمد عزیزی نے غزہ کے بچوں اور عام شہریوں کے تحفظ، اقلیتوں کے حقوق کے یکساں تحفظ، ویٹو کے استعمال میں اصلاحات، عدلیہ کی آزادی اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل پر زور دیا۔

ممبئی: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس میں شرکت کے بعدیہاں آمدپر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ہیومن سوشل کیئر فاؤنڈیشن (HSCF) کے بانی و صدر ڈاکٹر فیضان احمد عزیزی نے غزہ کے بچوں اور عام شہریوں کے تحفظ، اقلیتوں کے حقوق کے یکساں تحفظ، ویٹو کے استعمال میں اصلاحات، عدلیہ کی آزادی اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل پر زور دیا۔ انہوں نے تعلیم کو سیاسی اثرات سے محفوظ رکھنے اور انسانی حقوق کے عالمی نظام میں دوہرے معیار کے بجائے مساوی اصول اپنانے کا مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر عزیزی نے بتایا کہ انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران انہوں نے فلسطین، اقلیتوں، نوجوانوں، عدلیہ، تعلیم، صحت، سماجی مساوات، نسل پرستی اور منشیات کے خلاف پالیسی سمیت مختلف اہم امور پر زبانی اور تحریری طور پر اپنی تجاویز پیش کیں۔
ڈاکٹر فیضان عزیزی نے مزید کہاکہ انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران انہوں نے مختلف اجلاسوں اور مباحث میں فلسطین، اقلیتوں کے حقوق، نوجوانوں کے مسائل، عدلیہ کی آزادی، تعلیم، صحت، سماجی مساوات، نسل پرستی اور منشیات کے خلاف مؤثر پالیسی سمیت متعدد اہم امور پر زبانی اور تحریری طور پر اپنی تجاویز پیش کیں۔
غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ کے سب سے سنگین اثرات بچوں پر مرتب ہوتے ہیں، جو اپنی جانوں کے ساتھ تعلیم، صحت، ذہنی سکون اور بہتر مستقبل کے مواقع بھی کھو دیتے ہیں۔ عالمی برادری کو فلسطینی بچوں اور عام شہریوں کے تحفظ کو انسانی حقوق کے عالمی ایجنڈے میں ترجیح دینی چاہیے اور بچوں کو تشدد، استحصال، جنسی زیادتی اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ “انسانی حقوق کا کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا۔ اگر ایک بچے کے بنیادی حقوق کی پامالی دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوتی ہے تو یہ پوری انسانیت کے لیے تشویش کا معاملہ ہے۔”
اقوام متحدہ کے نظام میں ویٹو کے استعمال کے حوالے سے ڈاکٹر عزیزی نے کہا کہ عالمی امن اور انسانی حقوق سے متعلق انتہائی حساس معاملات میں فیصلہ سازی کو زیادہ مؤثر، جواب دہ اور نمائندہ بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے روس، فرانس اور دیگر بااثر ممالک سے اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات کی حمایت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عالمی طاقتوں کی ذمہ داری صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ نہیں بلکہ عالمی امن، انسانی وقار اور بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنانا بھی ہے۔
عدلیہ کی آزادی کو انسانی حقوق کے تحفظ کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر عزیزی نے کہا کہ اگر عدالتی ادارے سیاسی دباؤ یا غیر ضروری مداخلت سے آزاد نہ ہوں تو قانون کی حکمرانی متاثر ہوتی ہے اور بالآخر اس کے اثرات عام شہری کے بنیادی حقوق پر پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق آزاد عدلیہ، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بنیادی ستون ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک میں نوجوانوں کی جانب سے سامنے آنے والی بے چینی اور احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو نوجوانوں کو مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کے شراکت دار کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ روزگار، معیاری تعلیم، مساوی مواقع، آزادیٔ اظہار اور محفوظ مستقبل نوجوانوں کے بنیادی مسائل ہیں، جن کا حل طاقت، گرفتاری یا خاموشی نہیں بلکہ مکالمے، مشاورت اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
تعلیم کو سیاسی اثرات سے محفوظ رکھنے پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر عزیزی نے کہا کہ تعلیمی ادارے اور نصاب معاشرے کو تقسیم کرنے کے بجائے لوگوں کو قریب لانے کا ذریعہ بننے چاہئیں۔ بچوں کو امن، برداشت، انسانی وقار، تنوع اور اختلافِ رائے کے احترام کی تعلیم دینا موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر تعلیم کو سیاسی مفادات یا نفرت انگیز بیانیے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے اثرات ایک نسل تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں کی سوچ اور معاشرتی رویوں پر بھی پڑتے ہیں۔
اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی مذہبی یا نسلی برادری کو اجتماعی طور پر مجرم تصور کرنا انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ حکومتوں کو چاہیے کہ قانون کا نفاذ مذہب، نسل، قومیت اور سماجی شناخت سے بالاتر ہو اور تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مؤثر قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر عزیزی نے کہا کہ منشیات کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی ضروری ہے، تاہم اس مقصد کے لیے کسی مخصوص کمیونٹی کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانا مسئلے کا حل نہیں۔ توجہ منشیات کے اسمگلروں، منظم جرائم پیشہ گروہوں اور غیر قانونی سپلائی کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی پر مرکوز ہونی چاہیے۔
انہوں نے انسانی حقوق کے دائرۂ کار کو وسیع قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحت، تعلیم، خوراک، صاف پانی، سماجی تحفظ اور باوقار زندگی کے مواقع بھی بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہیں۔ حکومتوں اور عالمی اداروں کو خواتین، بچوں، نوجوانوں اور دیگر کمزور طبقات کے لیے ایسی پالیسیوں کو ترجیح دینی چاہیے جن کے ذریعے انہیں عملی طور پر مساوی مواقع حاصل ہوسکیں۔
ڈاکٹر عزیزی نے سول سوسائٹی کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر سرکاری تنظیمیں زمینی حقائق اور متاثرہ طبقات کی آواز عالمی فورمز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سول سوسائٹی کو صرف مسائل کی نشاندہی تک محدود رکھنے کے بجائے پالیسی سازی، مشاورت اور حل تلاش کرنے کے عمل میں بامعنی شرکت کا موقع دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی انسانی حقوق کا نظام اسی وقت مؤثر ہوسکتا ہے جب حکومتیں، بین الاقوامی ادارے اور سول سوسائٹی باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے دوہرے معیار کے بجائے یکساں اصول، خاموشی کے بجائے عملی اقدام اور سیاسی مفادات کے بجائے انسانی وقار کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
ڈاکٹر فیضان عزیزی نے بتایا کہ انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران مختلف بین الاقوامی اداروں اور تحقیق سے وابستہ افراد سے بھی ان کی ملاقاتیں ہوئیں، جن میں انسانی حقوق، عالمی پالیسی اور سول سوسائٹی کے کردار سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے فورمز میں سول سوسائٹی کی موجودگی کا مقصد محض اظہارِ خیال نہیں بلکہ زمینی مسائل کی نشاندہی، قابلِ عمل تجاویز پیش کرنا اور عالمی پالیسی کو انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے