دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم ڈاکٹر مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کے انتقال پر عالم اسلام سوگوار
محمد رضوان ندوی
ڈائرکٹر کے این پبلک اسکول ،محلہ قلعہ نان پارہ ، بہرائچ ، یوپی
وقت کی بڑی قدر و قیمت ہے اور بلا شبہ وقت ہیرے جواہرات اور سونے چاندی سے زیادہ قیمتی ہے ، قدر کرنے والے بہت کچھ بن جاتے ہیں اور ناقدری کرنے والے بن کر بھی بے قیمت ہو جاتے ہیں، اس کی سب سے نمایاں مثال دور حاضر کی ممتاز علمی اور ادبی شخصیت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں بڑی آسانی کے ساتھ مل جاتی ہے ، جن کی محبوب ترین شخصیت نے آج داغ مفارقت دے کر پورے عالم اسلام کو سووگوار اور غم زدہ کردیا ہے ،ان کی علمی ، دینی ، ادبی خدمات اپنی جگہ مسلم ہیں ، لیکن اگران کی صرف ایک چیزسے ہی فائدہ اٹھالیا جائے تو انسان اپنی قیمت میں چار چاند لگا سکتا ہے ، وہ ہے وقت کی پابندی ، یقینا وہ وقت کے امام تھے ، ہر کام وقت مقررہ پر کرنے والے تو بہت دیکھے جاسکتے ہیں لیکن وقت سے پہلے ہر کام کی تیاری کرنے والے اور وقت کو ہمیشہ پابندی کے ساتھ پیچھے چھوڑنے والے بہت کمیاب بلکہ نایاب ہیں، عالمی شہرت یافتہ ادارہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم، انٹگلرل یونی ورسٹی کے چانسلر، معہد الفردوس الرحمانی کے بانی ، الرائد اورالبعث الاسلامی کے کامیاب ترین مدیر،اہتمامت کے فرائض کے ساتھ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی عالی شان مسجد کے مقبول ترین امام و خطیب ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت بھی نایاب اور عنقا شخصیت تھی ۔
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم درجنوں عربی و اردو کتابوں کے مصنف و مولف، مخلص ترین مہتمم ، مایہ ناز ادیب ، آدم گر و انسانیت ساز استاذ ، بے لوث مربی ، سادگی اور انکساری کا پیکر مجسم، بے شمار مدارس و مکاتب اور اسکولوں کے ناظم و مشیر ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی نے اپنی بے غرض دینی خدمات سے پوری صدی کو متاثر کیا ، ان کی کامیابی و کامرانی اور بلندی درجات کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے جن چیزوں کو قبول کیا وہ زندگی کے آخری دن تک باقی رہیں ، انھیں نہ تو کسی عہدہ سے معزول کیا گیا نہ کبھی کسی مرحلہ میں اختلاف کی نوبت آئی ۔
ان کی پیدائش ۱۴؍ مئی ۱۹۳۴ء کو مئو اعظم گڑھ میں ہوئی تھی ،عالمیت اور فضیلت جامعہ مفتاح العلوم مئو سے کیا ، تخصص و تکمیل دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے ہوئی ، اعلی تعلیم بغداد یونی ورسٹی عراق سے کی ، 1955 سے وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے ، پچیس سال سے زائد عرصہ گزر گیا جب سے وہ اہتمامت کی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دے رہے تھے ، عربی ادب کی خدمات پر 1994 میں صدر جمہوریہ ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
ان کی تربیت کا انداز بڑا نرالا تھا ، تحریر اور خوش خطی پر بہت زور دیتے تھے ، غلط املا ناقابل برداشت تھا ، ہر چیز سلیقہ اور ہنر مندی کے ساتھ ہو ، ہر آدمی کا پاس و لحاظ ہو ، ذمہ داریوں کا احساس ہو ، ہر کام وقت پر ہو اور ایک مومن میں وقت کی پابندی ہو اس کا خاص خیال رکھتے تھے ، جب تک امامت کی ذمہ داری وابستہ تھی کیا مجال ہے کہ کبھی کسی نماز میں ذرہ برابر تاخیر ہوئی ہو ، مثال مشہور تھی کہ گھڑی آگے پیچھے ہوسکتی ہے لیکن مولانا اعظمی نور اللہ مرقدہ کی آمد اپنے وقت پر ہی ہوگی ، لوگ ان کو دیکھ کر گھڑی ملا سکتے تھے ، جماعت کے وقت سے پہلے پابندی کے ساتھ مسجد پہنچ جانا اور اس میں کبھی ناغہ یا تاخیر نہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے ، تلاوت ہمیشہ پاپندی کے ساتھ کرتے تھے ، جمعہ کا خطاب وقت کی ضرورت اور ضروری مسائل کے حل پر مشتمل ہوتا تھا ، رسمی خطاب سے حد درجہ گریز کرتے تھے ، جو بھی کہتے تھے دل سے کہتے تھے اور دلوں کو براہ راست اپیل کرتے تھے ، اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے ،پسماندگان کو صبر جمیل دے، جنت الفردوس میں اعلی مقام پر فائز فرمائے ، انبیاء ، صلحاء اور شہداء کے ساتھ معاملہ فرمائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے