مولانا سعید الرحمٰن اعظمی(فائنل فوٹو)

از: شمیم احمد خاں ندوی

مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن ندوی اعظمی ایک طویل علالت کے بعد تقریباً ٩٢سال کی عمرمیں اس دنیائے فانی سے رخت سفر باندھ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔

إنا لله وإنا إليه راجعون

ان کی وفات برصغیر کی پوری علمی دنیا کے لیے ایک زبردست خسارہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔

وہ ہمارے اساتذہ کے استاذ اور خود ناچیز کے بھی استاد تھے۔

وہ ہمارے کئی اساتذہ مولانا نور عظیم ندوی، مولانا نذر الحفیظ ندوی، مولانا شمس الحق ندوی اور کئی دیگر اساتذہ کے استاذ گرامی تھے، انھوں نے راقم سطور کو عربی ادب و انشاء کی تعلیم دی بلکہ عربی میں قلم پکڑنا سکھایا۔

وہ عربی زبان کے ایک صاحب طرز ادیب اور انشاء پرداز تھے، پندرہ روزہ "البعث الاسلامی” میں لکھے ہوئے ان کے اداریے ان کے ادب لطیف اور وسعت معلومات کے شاہد ہیں۔

ان کے اداریے بلاد عرب میں بہت شوق سے پڑھے جاتے تھے اور اہل علم و فضل ان سے استفادہ کرتے تھے۔

انھوں نے تقریباً نصف صدی تک اس اہم مجلہ کی ادارت کا فریضہ انجام دیا اور عرب وعجم میں” البعث الاسلامی” کے باذوق قارئین کا ایک وسیع حلقہ پیدا کردیا۔

ندوۃ العلماء سے ان کی فراغت کے بعد مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے ان کو مسند درس پر فائز کیا اور تادم وفات تقریباً ساٹھ سال سے زائد عرصہ تک وہ اس منصب پر فائز رہے اور برصغیر بنگلہ دیش، ملیشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، اور تبت و کشمیر اور عرب ممالک میں اپنے مایہ ناز شاگردوں کا ایک بڑا حلقہ پیدا کردیا۔

ندوۃ العلماء میں عربی زبان و ادب کو فروغ دینے میں ان کا گراں قدر حصہ ہے، "النادی العربی” کے ذریعہ طلبہ میں عربی کا ذوق پیدا کرنے کے لیے مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی اور مولانا واضح رشید ندوی کا جہاں اہم کردار ہے وہیں استاذ گرامی مولانا سعید الاعظمی ندوی کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

وہ تقریباً نصف صدی سے زائد عرصہ تک ندوۃ العلماء کی وسیع وعریض اور عظیم تاریخی جامع مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

ان کے خطبات جمعہ جو عربی زبان میں عموماً فی البدیہہ ہوتے تھے، وہ وسعت معلومات اور دینی پیغامات کے ساتھ ساتھ عربی زبان و ادب کا شاہکار ہوتے تھے، ان خطبات جمعہ سے طلبہ و اساتذہ اور عوام و خواص یکساں فائدہ اٹھاتے تھے، وہ مسلم پرسنل بورڈ کے ممبر اور "تحریک پیام انسانیت” کے آرگنائزر بھی رہ چکے تھے۔

مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمۃ کی وفات سے قبل ہی سے مولانا محب اللہ لاری ندوی کی وفات کے بعد سے ندوۃ العلماء کے مہتمم تھے اور تمام تر داخلی معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے با اختیار تھے اور پیش آمدہ سارے مسائل کا حل خوش اسلوبی اور جرآت کے ساتھ نکالنے میں ید طولی رکھتے تھے، وہ کبھی کسی سے مرعوب ہوکر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتے تھے، ان کے دور اہتمام میں مادر علمی ندوۃ العلماء نے تعلیمی معیار، کتب خانوں کی بہتات، عربی زبان و ادب کے فروغ اور پرشکوہ اور عالی شان تعمیرات کے معاملہ میں بہت بہت ترقی کی۔

اس ترقی میں مولانا علی میاں ندوی کی مقبولیت و محبوبیت اور استاذ گرامی مولانا سید محمد رابعَ ندوی اور استاذ محترم مولانا سید محمد واضح ندوی کے بعد اگر کسی کا نام لیا جاسکتا ہے تو وہ مولانا سعید الرحمن الاعظمی ندوی کی ذات بابرکات تھی۔

وہ بہت پنکچویل اور وقت کے انتہائی پابند تھے، مجھے یاد نہیں کہ ندوہ میں یا اپنے گھر واقع مکارم نگر میں رہتے ہوئے وہ کبھی نمازوں کی امامت سے قاصر رہ گئے ہوں اور وقت پر مسجد میں نہ پہنچ سکے ہوں۔

مجھے زمانہ طالب علمی کا اپنا ایک ذاتی واقعہ یاد آتا ہے کہ ایک بار میں اپنی انشاء وترجمہ کی کاپیاں دکھانے کے لیے ان کے گھر حاضر ہوا واپسی میں کچھ تاخیر ہوگئی، ان کی رہائش گاہ کی جانب ندوہ کی اونچی فصیل میں ایک ذیلی دروازہ صرف ان کے لیے بنایا گیا تھا جس کی ایک چابی چوکیدار کے پاس اور ایک ان کے پاس رہتی تھی، وہ دروازہ نماز عشاء کے کچھ دیر بعد لاک کردیا جاتا تھا۔

واپسی میں مولانا مرحوم نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیسے جاؤگے دروازہ تو لاک ہوچکا ہوگا میں نے کہا کہ چکرکاٹ کر مین گیٹ سے چلا جاؤں گا، انھوں نے کہا کہ کافی چکر پڑے گا میں اس وقت شبلی ہاسٹل میں رہتا تھا جو ذیلی گیٹ سے قریب اور مین گیٹ سے کافی دور تھا انھوں نے ازراہ عنایت اپنی چابی نکال کردی اور کہا کہ اسی ذیلی گیٹ سے چلے جاؤ اندر سے لاک کردینا لیکن یاد رہے صبح فجر کی اذان کے ساتھ آکر کھول دینا مجھے فجر کی امامت کرنی ہوتی ہے، میں نے آسانی کے لیے چابی لے تو لی لیکن رات بھر اس ڈر سے نیند نہیں آئی کہ اگر وقت پر آنکھ نہیں کھلی اور میں گیٹ نہیں کھول سکا تو میری خیریت نہیں۔

بہرحال اللہ نے عزت رکھ لی اور میں ان کے غیض و غضب کا شکار ہونے سے بچ گیا۔

ان کے تعلقات ہمارے عم گرامی خطیب الاسلام علامہ عبد الرؤوف رحمانی جھنڈانگری رحمہ اللہ سے بہت گہرے تھے، اس وقت مدرسہ میں کوئی ایسے قابل استاد نہیں تھے جو عربی میں ترجمہ یا خط و کتابت کرسکیں، اس لیے ہمارے چچا علامہ جھنڈانگری بنارس میں مولانا ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ اور لکھنؤ میں مولانا سعید الرحمن الاعظمی ندوی کو عربی خطوط نویسی اور ترجمہ کے لیے زحمت دیتے تھے، اسی سلسلے میں میرا ان کے گھر آنا جانا رہتا تھا اور وہ مجھ سے مولانا جھنڈانگری کے بھتیجہ کی حیثیت سے بہت مانوس اسی وقت سے ہوگئے تھے جب میں ثانویہ میں پڑھتا تھا اور باقاعدہ ان کا شاگرد نہیں ہوا تھا، بعد میں جب میں ان کی شاگردی میں آیا تو وہ ذاتی طور پر مجھ سے نہ صرف واقف ہوچکے تھے بلکہ مجھ پر کافی مہربان تھے اور میں ان چند گنے چنے طلبہ میں شامل تھا جنھیں کبھی بھی ان کے گھر آنے کی اجازت تھی۔

ان کو اللہ نے طویل عمر اور دینی خدمات سے بھری پری زندگی عطا فرمائی ورنہ ان کے شاگردوں کے بعض شاگرد بھی اس دنیائے فانی سے بہت پہلے کوچ کرچکے ہیں مثلاً ان کے شاگرد مولانا نور عظیم ندوی تھے اور ان کے شاگرد میرے رفیق درس مولانا محمد رضوان ندوی اور مولانا سعید مرتضیٰ ندوی کی وفات ربع صدی پہلے ہوچکی ہے، یہ دونوں خود ان کے بھی مایہ ناز شاگرد اور بہت ذہین و فطین تھے۔

ان کی وفات سے برصغیر کی علمی دنیا ویران ہوگئی ہے اور عربی زبان و ادب کی حد تک ندوہ کا یہ آخری قلعہ بھی منہدم تو نہیں لیکن کمزور ہوگیا ہے۔

اللہ تعالیٰ مادر علمی کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے اور استاذ گرامی رحمہ اللہ کو اپنی رحمت و عافیت اور خصوصی کرم کے سایہ میں رکھے، ان کی خطاؤں و لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ان کی حسنات کو شرف قبولیت سے نوازے آمین۔

ایک غم زدہ شاگرد 

شمیم احمد ندوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے