لکھنؤ:۔بڑے افسوس اور رنج وغم کی بات ہے کہ علمی ،ادبی، انتظامی اور عملی وروحانی دنیا میں مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کی وفات سے ایک بڑا خلا ہو گیا ،آپ کی وفات سے واقع ہونے والا خسارہ کی تلافی آسان نہیں ہے ۔
ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کا۶؍ اکتوبر۲۰۲۶ بروز منگل تین بجے دن میں انتقال ہو گیا۔
دوسرے دن اٹھ بجے صبح احاطہ دارالعلوم ندوۃالعلماء میں واقع میدان میں نماز جنازہ ہوئی اور اس کے بعد ڈالی گنج قبرستان میں تدفین ہوئی، جنازہ میں بڑا ازدحام تھا،تدفین سے فارغ ہو کر’’فارغین ندوہ ‘‘ (عالمیت : 1997 فضیلت : 1999) نے مولانا کی وفات پر ایک تعزیتی نشست منعقد کی، جس کی صدارت مولانا منیر احمد ندوی بہرائچی (مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن ، سمریاواں،ضلع سنت کبیرنگر) نے کی، جب کہ نظامت کا فریضہ مولانا نجیب الرحمٰن ململی نے ادا کیا،اور اپنا ثاثر پیش کرتے ہوئے کہا کہ:استاد محترم کا سانحہ ارتحال سب کے لیے تکلیف دہ ہے اور ہم سب غم سے نڈھال ہیں،وہ ایک مثالی استاد اور مشفق مربی تھے،بظاہر سخت گیر لیکن نرم مزاج تھے،ندوہ کے سچے عاشق،اور ترجمان تھے، کئی نسلوں کو اپنے علم و معرفت اور عربی زبان وادب سے فائدہ پہونچایا ۔
مفتی رحمت اللہ ندوی نے مولانا مرحوم کے کمالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا:استاد محترم عربی زبان پر کامل عبور، بھرپور دسترس اور استادانہ مہارت رکھتے تھے،ہندوستان میں عربی زبان وصحافت کے علمبردار تھے، حق اور سچ کہنے اور لکھنے میں بہت جری اور بےباک تھے ۔
مفتی صاحب نے مولانا مرحوم کی حیات و خدمات پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
کہ آپ وقت کے بہت پابند تھے،نصف صدی سے زائد امام وخطیب رہے، تہجد کا بڑا اہتمام تھا، سفر و حضر کی حالت میں بھی تہجد فوت نہیں ہوتی تھی،دعا وابتہال،تضرع وگریہ زاری خوب تھا،تعلق مع اللہ کی وجہ سے روحانیت بہت طاقتور تھی، وہ اپنے وقت کو بہت ہی منظم اور مرتب گزارتے تھے، اور اسی کے ساتھ ساتھ ان کا تمام کام بہت ہی ترتیب اور سلیقے سے ہوتا تھا ۔
ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آدمی دنیا میں عام طور پر تین چیزوں کو ترجیح دیتا ہے اوران کے لئے کوشش کرتاہے: شہرت اور ناموری، عمدہ لباس، اور اچھا مکان۔ لیکن انسان کی آنکھ بند ہوتےہی یہ سب چھوٹ جاتی ہیں ۔
لیکن مولانا کے نزدیک ان چیزوں کو کوئی اہمیت اور ترجیح حاصل نہ تھی ۔ مولانا کے فضائل اور خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کئی واقعات بیان کیے اور اپنے خصوصی ربط و تعلق کا اظہار کیا۔
مولانا عمر بن عبدالعزیز نے مولانا مرحوم کے سے اپنے ذاتی تعلق کا ذکر اظہار کرتے ہوئے کئی ایسے واقعات بیان کیے جس سے مرحوم کی بلند اخلاق، اور حسن کردار اور بہترین سیرت کا پتہ چلتا ہے،نیز شاگردوں اور چھوٹوں پر شفقت کا اظہار ہوتا ہے۔
مولانا عاصم اقبال ندوی نے کہا:مولانا کے انتقال سے ایک اہم علمی ستون گر گیا ۔
مولانا نثار احمد بستوی نے کہا:اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑا جاہ و جلال عطا فرمایا تھا،سب پر آپ کا رعب رہتا تھا ۔
مولانا عبد الماجد ندوی نے کہا:وہ قلم و زبان کے سلطان تھے،اور سب کو اس کا اعتراف تھا ۔
مولانا منیر احمد ندوی نے کہا:آپ تدریسی فرائض بہت امانت داری سے انجام دیتے اور تعلیمی وقت میں تدریس کے لیے یکسو ہوجاتے۔
مولانا شکیل احمد ندوی نے کہا:مولانا کا مقام ومرتبہ بہت بلند تھا،اور فکر آخرت اور جواب دہی کا بڑا احساس تھا ۔دیگ رفقاء نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کئے ڈاکٹر اعظمی کو خراج عقیدت پیش کئے ۔
صدر مجلس کی رقت آمیز دعا پر نشست کا اختتام ہوا ۔مذکورہ حضرات کے علاوہ اہم شرکا ء میں مصباح احسن ندوی،ابوالحیات پورنوی،شہروز سنبھلی، مقبول احمد بلیاوی، عبید الرحمن بہر ائچی، رضوان احمد بہرائچی، عقیل احمد خاں ندوی، شاھد علی ندوی،محمد عمران قطب ندوی، اور غفران احمد ندوی،وغیرہ تھے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے