~ عبدالمقیت

   عبید اللّہ فیضی 

 

ہمارا پیارا ہندوستان دنیا کے تمام ممالک سے خوبصورت، دلکش و حسین ملک، جہاں مختلف مذہب، ذات پات، کلچر و ڈھیروں زبانوں کے بولنے والے لوگ بلا کسی تفریق مذہب و ملت اپنی خوشی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں- گویا یہ کہ ایک جمہوری و سیکولر ملک، جہاں ہر کسی کو یہ آزادی ہے کہ وہ اپنے من موافق بغیر کسی کے زندگی میں خلل ڈالے آزاد فضاء میں سانس لے سکتا ہے- شاید ہی یہ خوش نصیبی دنیا کے کسی اور ممالک کو حاصل ہو- ہمیں ہمارے ملک پر فخر ہے کہ ہم اس خوبصورت دیار کا حصہ ہیں، اور ہو بھی کیوں نہ کیونکہ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کی مثالیں دی جاتی ہیں، جب اس ملک کا نام لیا جاتا ہے تو لوگوں کے ذہن میں پریم چند و رگھوپتی سہائے، رحیم و کبیر داس، مندر کی آرتی و مسجد کے اذان کی آوازوں کا تصویر بنتا ہے-

لیکن افسوس پچھلے کچھ دنوں سے ہمارے ملک ہندوستان میں مسلسل ایک خاص طبقے کو نشانہ بنایا جارہا، انھیں حاشئے پر لایا جارہا، ان کے ساتھ زیادتی کیا جارہا، ان کے نوجوانوں کا لنچنگ کیا جارہا، ان کے مذہب کو نشانہ بنایا جارہا، ان کے مذہبی عمارتوں کو مسمار کیا جارہا، ان کے رہنماؤں کو سلاخوں کے پیچھے گھسیٹا جارہا، ان کے دکان و مکان کو نظر آتش کیا جارہا اور لوگ تماش بین بنے ہوئے ہیں- یہ سب چیزیں اس ملک میں ہو رہی ہیں جسے کبھی سونے کی چڑیا تسلیم کیا جاتا تھا- پر اب یہ نئے ہندوستان کی کہانی ہے…

گزشتہ روز گروگرام کے سیکٹر 57 میں انجمن مسجد کے نائب امام، جن کی شناخت 19 سالہ سعد کے طور پر ہوئی ہے، ہندوتوا کے حملے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، سعد بہار کے سیتامڑھی کے مانیاڈیہ گاؤں کے رہنے والے تھے۔

جیسے ہی پیر کو ہریانہ کے نوح ضلع میں دائیں بازو کے گروپ وشو ہندو پریشد (VHP) کی طرف سے نکالے گئے جلوس کے دوران تشدد پھوٹ پڑا، یہ تیزی سے ریاست کے دیگر حصوں بشمول گروگرام تک بڑھ گیا، جہاں ہندوتوا کے ہجوم نے ایک مسجد کو آگ لگا دی اور گولیاں چلائیں۔

مسجد کے حکام کے مطابق ہندوتوا کا ہجوم بندوقیں، تلواریں اور لاٹھیاں لے کر آدھی رات کے قریب پہنچا۔ وہ "جئے شری رام” کے نعرے لگا رہے تھے۔

مسجد تشدد میں اب تک کم از کم چار افراد مارے گئے، جن میں دو ہوم گارڈز گرو سیوک اور نیرج اور ایک نامعلوم شخص شامل ہے۔ اس کے علاوہ تشدد کے پھوٹ پڑنے کے دوران کم از کم 20 دیگر زخمی ہوئے۔

ڈپٹی کمشنر پرشانت پنوار کے مطابق ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات ضلع میں پانچ یا اس سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے کو روکنے کے لیے نافذ کیے گئے ہیں اور ضلع میں انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا گیا ہے۔

مکتوب میڈیا کے ایک رپورٹ کے مطابق اس سال فروری میں راجستھان کے بھرت پور میں دو مسلم نوجوانوں کے اغوا اور قتل کے ملزم بجرنگ دل کے رکن مونو مانسر نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ اور ان کی ٹیم کے اغوا کے بعد خطے میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔

مقامی لوگوں نے مونو کے قتل کیس میں ملوث ہونے کی وجہ سے نوح کے دورے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوگی۔

تشدد پیر کی دوپہر کے قریب اس وقت شروع ہوا جب عقیدت مندوں کو لے کر تقریباً نصف درجن گاڑیاں نوح چوک پر پہنچیں جس سے یہ افواہ پھیلی کہ مونو مانیسر ایک گاڑی کے اندر موجود ہیں۔

"گاڑیوں پر ‘گورکشک’ لکھا ہوا تھا جس سے افواہوں کو ہوا ملتی تھی کہ مونو مانیسر ان کے اندر ہیں۔ جیسے ہی گاڑیاں نوح چوک پر پہنچیں، مٹھی بھر نوجوانوں نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ جلد ہی آس پاس کے دیہاتوں کا ہجوم سڑک پر اتر آیا اور ہنگامہ آرائی پر چلا گیا-

قارئین: ہریانہ کے نوح میں ہندوتوا تنظیموں کے ذریعہ نکالی گئی یاترا کے دوران جو زبردست فرقہ وارانہ تصادم 31 جولائی کو دکھائی دیا تھا، اس کی آگ اب قریبی ریاست راجستھان میں پہنچ گئی ہے۔ نوح کے بعد ہریانہ کے گروگرام میں 31 جولائی کی دیر شب ایک مسجد کو آگ کے حوالے کر دیا گیا تھا، اور اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق راجستھان کے بھیواڑی میں گوشت کی دکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھیواڑی میں گوشت کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ اس معاملے میں نصف درجن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھیواڑی میں منگل کے روز الور بائپاس واقع گوشت کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔اس دوران دکانوں میں بیٹھے لوگ کسی طرح سے اپنی جان بچا کر بھاگے۔

ہندوتوا تنظیم کے ذریعے جو تشدد کی آگ ملک کے مختلف خطوں میں آئے دن بھڑکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، کہیں نہ کہیں گزشتہ روز جے پور ممبئی ٹرین سانحہ بھی اسی کا ایک حصہ تھا- تمام باشندگان وطن نے ٹرین کے اس سانحہ کو سوشل میڈیا پر تیر رہے ویڈیو کے ذریعے ضرور دیکھا ہوگا، جہاں ایک پولیس اہلکار عام عوام کے سامنے کھلے عام ٹرین میں سوار چار لوگوں کو گولیوں سے مار دیتا ہے-

قارئین: 31 جولائی کو جے پور-ممبئی ٹرین میں ریلوے پروٹیکشن فورس کے کانسٹیبل چیتن سنگھ نے جن چار لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کیا، ان میں سے تین مسلمان تھے۔ ایسی ہی ایک ویڈیو میں رائفل کے ساتھ ملزم کو کہتے ہوئے سنا گیا کہ اگر آپ ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں تو یوگی (یو پی کے وزیر اعلی) اور مودی (وزیر اعظم) کو ووٹ دیں۔ اس واقعے کے کچھ ہی دیر بعد انٹرنیٹ پر اس کے پریشان کن مناظر سامنے آئے۔ جسے پوری دنیا نے دیکھا-

ان تین مسافروں کی شناخت عبدالقادر محمد حسین بھانپور والا (48)، اختر عباس علی (48) اور صدر محمد حسین کے طور پر ہوئی ہے جب کہ گولی مار کر ہلاک ہونے والے پولیس افسر کی شناخت اسسٹنٹ سب انسپکٹر ٹیکا رام مینا کے طور پر ہوئی ہے۔ غور طلب ہو کہ مینا کا تعلق قبائلی برادری سے ہے۔

ذرائع کے مطابق فائرنگ اس بحث کے بعد ہوئی جس نے مسلم مخالف رخ اختیار کیا۔

مکتوب میڈیا کے ایک رپورٹ کے مطابق سنگھ نے اے ایس آئی مینا پر پہلے اپنی اے آر ایم رائفل سے B-5 کوچ کے اندر گولی چلائی اور پھر عبدالقادر کو گولی مار دی، جو مدھوبنی کا رہنے والا تھا۔ بعد میں اس نے پینٹری کار میں ایک نامعلوم شخص کو مار ڈالا اور S-6 کوچ میں چلا گیا، جہاں اس نے جے پور کے ایک چوڑیاں بیچنے والے اصغر کائی کو گولی مار دی۔

ان پرتشدد واقعات کے بعد وی ایچ پی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسے پولیس اور انٹیلی جنس کی کوتاہی قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کے متعلق کئی ہیش ٹیگ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں منی پاکستان بھی ایک ہیش ٹیگ ہے۔ اس کے تحت یہ کہا جا رہا ہے کہ میوات کا علاقہ مسلم اکثریتی آبادی والا علاقہ ہے جہاں 80 فیصد مسلم آباد ہیں۔ یہ علاقہ دہلی سے ملحق ہے جہاں زیادہ تر کسان رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس تعلق سے منافرت بھرے پیغامات نظر آتے ہیں جن میں سے زیادہ تر اشتعال انگیز ہیں۔

بی جے پی کے رہنما کپل مشرا نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ "نوح میوات میں آج بے گناہ ہندو خواتین، بچے، غیر مسلح عقیدت مندوں کو جہادیوں نے گھیر لیا، منصوبہ بند قاتلانہ حملہ کیا۔ صحافیوں اور پولیس اہلکاروں کے قتل کی کوشش کی۔ میوات میں ہونے والے اس حملے کے حملہ آور وہی لوگ ہیں جو میوات کو منی پاکستان بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔” انھوں نے مزید لکھا کہ "ملک کی سیکولر سیاست اور صحافت کے شاہین باغ جہادی گینگ نے میوات میں اس طرح کے حملوں کے لیے نظریاتی کردار بنانے کا کام کیا ہے۔”

ان کے اس ٹویٹ کے جواب میں لوگوں نے بڑی تعداد میں انھیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ دونوں جگہ حکومت آپ کی ہے تو پھر ایسا کیونکر ہوا۔ کوئی اسے ووٹ مانگنے کی سازش کہہ رہا ہے تو کوئی منافرت پھیلانے کا الزام لگا رہا ہے-

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جئے پور ممبئی ایکسپریس پر فائرنگ اور ہریانہ میں نوح میوات میں فرقہ وارانہ تشدد پر بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ "میڈیا اور ان کے ساتھ کھڑی قوتوں نے پورے ملک میں نفرت کا کیروسین پھیلا دیا ہے۔ ملک میں اس آگ کو صرف محبت ہی بجھا سکتی ہے۔”

اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "یہ ایک دہشت گردانہ حملہ ہے جس میں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ مسلسل مسلم مخالف نفرت انگیز تقریر اور وزیراعظم نریندر مودی کی اسے ختم کرنے کی خواہش کا نتیجہ ہے۔ کیا ملزم آر پی ایف جوان مستقبل میں بی جے پی کا امیدوار بن جائے گا؟ کیا حکومت اس کی ضمانت کی حمایت کرے گی؟ کیا رہا ہونے پر اسے ہار پہنایا جائے گا؟”

اسد الدین اویسی کے اس ٹویٹ کو جے پور ریلوے شوٹنگ کے واقعہ کو مسلمانوں کے خلاف دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے حکومت ہند کی ہدایت کے بعد ٹویٹر نے بلاک کر دیا ہے۔ 1 اگست کو اویسی کو ٹویٹر سے ایک رپورٹ موصول ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ اسے حکومت ہند سے ٹویٹ کو روکنے کا قانونی مطالبہ موصول ہوا ہے کیونکہ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ باتیں ٹویٹر کی طرف سے اویسی کو بھیجے گئے میل میں لکھا گیا تھا۔

اویسی نے اپنے ٹویٹ میں ٹرین کے اندر گولی چلنے والے واقعے کا ایک ویڈیو شیئر کیا تھا، جس میں آر پی ایف جوان اور ایک متاثرہ شخص کو اپنے آس پاس کے دیگر مسافروں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے اور قاتل وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی تعریف کر رہا تھا۔

وہ مزید ایک ٹویٹ میں لکھتے ہیں کہ میرا ٹویٹ جئے پور ایکسپریس تشدد معاملے میں حکومت ہند کی درخواست پر ہندوستان میں روک دیا گیا ہے۔ کس قانون کی خلاف ورزی کی؟ کیا دہشت گردانہ حملے کو دہشت گردانہ حملہ کہنا جرم ہے؟ اویسی نے کہا کہ کاش مودی حکومت مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کو روکنے کے لیے بھی اتنی ہی سرگرم ہوتی۔

ایوارڈ یافتہ صحافی رانا ایوب کے ٹویٹ کو بھی حکومت ہند کی ہدایت کے بعد ٹوئٹر نے بلاک کر دیا تھا۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ "ٹرین واقعے پر میری ٹویٹ کو حکومت ہند کے مطالبے کے جواب میں ہندوستان میں روک دیا گیا ہے۔ ٹویٹر نے مجھے اس کی اطلاع دینے کے لیے لکھا ہے۔ جمہوریت کی ماں کے لیے بہت کچھ”

قارئین: یہ تو کچھ چنندہ ٹویٹ کا ذکر میں نے کیا جسے حکومت ہند کی جانب سے ڈلیٹ کرانے کے احکام جاری ہوئے- ایسے نہ جانے کتنے لوگ جو غلط کو غلط کہنے اور صحیح کو صحیح کہنے کے لئے آگے آتے ہیں، حکومت انہیں توڑنے اور ختم کرنے کی پوری کوشش کرتی ہے- کیا ایک جمہوری ملک میں سوال کرنا غلط ہے؟ کیا کسی کے حق کے لئے آواز بلند کرنا غلط ہے؟

مشہور صحافی رویش کمار گروگرام معاملے پر لکھتے ہیں کہ گروگرام کے واقعہ کا ویڈیو جب تب ابھر آتا ہے۔ سوشل میڈیا کے کسی پیج پر جاتا ہوں تو دکھ جاتا ہے۔ چھت پر لڑکیاں چلّا رہی ہیں۔ اس کی نچلی منزل پر کچھ لوگ ڈنڈے سے دو لوگوں کو مار رہے ہیں۔ ایک بوڑھی ماں بھی لاٹھیوں کی چپیٹ میں آرہی ہے۔ گروگرام کے دھمس پور گاؤں کا یہ ویڈیو ہماری حساسیت کا آخری امتحان لے رہا ہے۔ یہی کہ ہم سب ایسے ویڈیو سے نارمل ہونے کے امتحان میں پاس کر گئے ہیں۔ ویڈیو میں درج تشدد کی تصویریں اس حق کا اعلان کر رہی ہیں جو اب سڑکوں پر کسی کو بھی حاصل ہے۔ بس وہ اپنی دلیلوں میں گائے، پاکستان، بھارت ماتا کی جئے یا مودی مخالفت لے آئے، وہ کسی کو پیٹ سکتا ہے، مار سکتا ہے۔ حملے کی فوری وجہ کیا رہی ہوگی، یہ اہم نہیں ہیں۔ وجوہات کی افادیت ختم ہو چکی ہے۔ اہم یہ ہے کہ اکثریت کمیونٹی کے اس طبقے کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ وہ کبھی بھی کہیں بھی لاٹھی ڈنڈا لے کر گھس سکتا ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جو کسی صبح لکھنؤ کے فٹ پاتھ پر کاجو بادام بیچنے والے کشمیری کو اٹھاکر مارنے لگتا ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جو جولائی 2016 میں گجرات کے اونا میں دلت فیملی کو نکال کر مارنے لگتا ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جو انسپکٹر سبودھ سنگھ کو مار دیتا ہے۔ یہ ویڈیو ہمارے اندر ہر دن ایک نئی جگہ کی تعمیر کرتے ہیں جہاں سے کسی کو بے دخل کیا جا چکا ہوتا ہے۔ ان ویڈیو میں لگاتار بے دخل کئے جاتے رہے لوگ صرف مار کھا رہے ہیں۔ مارنے والے ایک ہی ہیں۔اب فرقہ پرستی شرماتی نہیں ہے۔ ویڈیو میں سج کر آتی ہے-

قارئین: موجودہ دور حکومت میں نفرت اپنی انتہا پر پہنچ چکی ہے اور مسلم دشمنی کا یہ عالم ہے کہ اب تو محافظ ہی قاتل بن چکے ہیں۔ یہ کوئی عام واقع نہیں ہے جسے گودی میڈیا بتارہا ہے، یہ دہشت گردی ہے اورمسلمانوں کے خلاف ایک منظم دہشت گردی ہے۔ کانسٹبل تو گرفتار ہوگیا لیکن اس کی ذہن سازی اور اسے یہ گھنائونی حرکت کرنے کے لئے اکسانے والے کب گرفتار ہونگے؟ ان پر کب کارروائی ہوگی؟

گزشتہ دس سالوں میں ملک میں مسلمانوں کے خلاف جتنی نفرت بڑھی ہے اور انہیں پریشان کرنے کا جو سلسلہ شرو ع ہوا، آزادی کے بعد سے 75 سالوں میں ایسا نہیں ہوا تھا۔ ماب لنچنگ سے لیکر گئو رکشک کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کرنا اور انہیں قتل کردینا عام ہوتے جارہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف جرائم میں لگاتار اضافہ صرف ایک مخصوص سیاسی پارٹی کے دور اقتدار والی ریاستوں میں ہورہا ہے۔ مسلمانوں کے لئے زمین تنگ کی جارہی ہے، نفرت کا یہ عالم ہے کہ ڈاڑھی ٹوپی دیکھتے ہی زدوکوب کیا جانے لگتا ہے، نفرت آمیز فقرے کسے جاتے ہیں، جئے شری رام، وندے ماترم وغیرہ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے- دھرم سنسد کے نام پر ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے بڑے جلسے منعقد کئے جارہے جس میں کھلے عام مسلمانوں کو قتل کرنے کی بات کہی جارہی ہے، سپریم کورٹ کی سخت ہدایت پر بھی مقامی پولس انتظامیہ خاطیوں پر کارروائی کرنے پر ناکام رہی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پولس کو کارروائی کرنے سے روکا جارہا ہے، نفرت پھیلانے والوں پر کارروائی نا کرنے کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔

مجاہدین آزادی کے خوابوں کا ہندوستان ایسا تو نہیں تھا، آزاد ہندوستان میں تمام قوموں کو سکون کی زندگی، اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی، روزی روزگار کی آزادی کا جو خواب دیکھا گیا تھا آج ہندوستان میں اس کے برعکس ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مسلمان نا تو محفوظ ہے اور نہ ہی وہ اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ جی سکتا ہے- آج کل مسلمانوں کا معاشی رہائشی بائیکاٹ عام بات ہوچکی ہے۔

اب وقت آچکا ہے کہ ہندوستان کی بقاء کے لئے موجودہ فاشسٹ حکومت کو کھدیڑا جائے اور ملک میں ایک سیکولر حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے جو ہندوستان میں بسنے والی تمام قوموں کی محافظ ہو۔موجودہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی سوائے مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے۔

بقول شاعر مشرق علامہ اقبال…

"یہ شہادت گہہِ الفت میں قدم رکھنا ہے

 لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا”

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت میں زیر تعلیم ہیں)۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے