محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔

یہ بات صاف ہے کہ جماعت اسلامی ہند پالیسی اور پروگرام کے تحت سابق میں کام کیاکرتی تھی ۔ اب وہ میقاتی منصوبہ کے تحت آئندہ چارسال (2023؁ء تا2027؁ء ) کے لئے کام کر ے گی ۔ جس کے تحت تمام ریاستیں (حلقہ جات) اپناپروگرام بناتے ہوئے سرگرمیوں کوانجام دیں گی۔ تقریباً تمام حلقہ جات نے اپنااپناپروگرام بنالیاہے جن میں جماعت اسلامی ہند کرناٹک کا حلقہ بھی شامل ہے۔
ڈاکٹر محمد سعدبلگامی امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند حلقہ کرناٹک نے 24؍جولائی 2023؁ء کو حلقہ کاپروگرام جاری کردیاہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ میقاتی منصوبہ جو میقاتی مشن(یعنی رائے عامہ کی تبدیلی) پر مرکوز کیاگیاہے ، اس کے تحت نوجوانوں کے لئے حلقہ کرناٹک نے کیاپروگرام رکھاہے ؟
جناب سید سعادت اللہ حسینی امیرجماعت اسلامی ہند نے میقاتی منصوبہ کے مقدمہ میں اس منصوبے کی کچھ امتیازی خصوصیات گنوائی ہیں ۔جہاں اداروں کو بھی اہمیت کے ساتھ میقاتی منصوبہ میں شامل کیاگیاہے۔ وہیں پانچویں خصوصیت میں خواتین کے ساتھ نوجوانوں کا تذکر ہ بھی کیاہے۔ لکھاہے ’’(ان خواتین کی طرح ) نوجوانوں کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ کوشش بھی ہوگی کہ ہر سطح پر نوجوان آگے بڑھیں اور ان کی توانائیاں ملک وملت کی تعمیر وترقی میں لگیں ‘‘ (ص۔11) اتنا ہی نہیں امیرجماعت سید سعادت اللہ حسینی نے جماعت کے تمام وابستگان کے علاوہ پوری امت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس خاکے میں رنگ بھرنے کے لیے کمربستہ ہوجائیں ‘‘فی الحال ہمار اموضوع نوجوانوں تک محدود ہے۔ ہم اس سے متعلق بات کریں گے۔ میقاتی مشن کے حصول کے لیے جو منصوبہ بنایاگیاہے اس کی ترتیب تین حصوں پرمشتمل ہے ۔ ۱۔ بنیادی ولازمی کام (دعوت ، اصلاح ، تزکیہ اور خدمت)۔ ۲۔ تنظیم ۔ ۳۔ دیگر محاذ اور ادارہ جات ۔
میقاتی منصوبہ کادوسرا حصہ تنظیم ہے ، اس میں نوجوانوں سے متعلق’رہنماخطوط‘ میں کہاگیاہے کہ ’’حلقے اور مقامات پر نوجوانوں میں کام پر خصوصی توجہ دینا، ان کی جماعت میں شمولیت اور نوجوانوں کی تنظیموں کو مستحکم کرنے پرتوجہ دینا ‘‘(ص۔23)آگے’’ اہداف‘‘ کے 8ویں نکتہ میں ہدف رکھاگیاہے کہ ’’کوشش کی جائے گی کہ اضافہ ہونے والی افرادی قوت میں کم ازکم تیس فیصدنوجوان ہوں ‘‘ (ص۔ 24)اس کے تحت مرکز نے جوپروگرام بنایاہے اس میں کہیں پر بھی نوجوانوں کے لئے کوئی پروگرام نہیں رکھاگیا۔ غالباً حلقوں کو ذمہ داری دینا ضرور ی سمجھاگیاہوگا۔
اب ہم تنظیم کے تحت حلقہ (کرناٹک) کے پروگرام کوپڑھتے ہیں۔ حلقہ کے پہلے پوائنٹ ہی میں لکھاہے ’’کوشش کی جائے گی کہ اضافہ ہونے والی افرادی قوت میں کم ازکم تیس فیصدنوجوانوں کااضافہ ہو‘‘ یعنی میقاتی منصوبہ کے ہدف والے پوائنٹ کو من وعن شامل کرلیاگیاہے الحمد للہ ۔ حلقہ کے پروگرام کاپانچواں پوائنٹ کچھ یوں ہے اور غالباً یہی کچھ جماعت کومطلوب بھی ہے ۔ کہاگیاہے کہ ’’حلقہ میں قائم صالڈارٹی یوتھ موومنٹ SYMکو مستحکم کیا جائے گا‘‘(ص۔25)
ملکی امور کے تحت’ ہدف‘ رکھاگیاہے کہ ’’فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بہتر تال میل کے لئے نوجوانوں کے فورم بنائے جائیں گے ‘‘(ص۔ 32) حلقہء کرناٹک جماعت اسلامی ہند نے اپناپروگرام اس’ہدف ‘ کے تحت کچھ یوں رکھاہے ۔ حلقہ کہتاہے ’’فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بہتر تال میل کے لئے ضلعی سطح پر SYMکے ذریعہ نوجوانوں کے فورم قائم کرنے کی کوشش ہوگی ‘‘ (ص۔ 33) اس سے آگے ایسی کوئی قابل ذکر بات نوجوانوں سے متعلق رہنماخطوط، اہداف ، مرکز کے پروگرام یاحلقہ کے پروگرام میں بالکل بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نوجوانوں کو جماعت اسلامی ہند سے وابستہ رہ کر کام کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین
چوں کہ ہرسطح پر نوجوانوں کو آگے بڑھانے اور ان کی توانیاں ملک وملت کی تعمیر وترقی میں لگانامقصود ہے اس کے لئے چند ایک گزارشات حسب ذیل ہیں۔

(۱)ہرسطح پر نوجوانوں کوآگے بڑھانے کے لئے :۔
۱۔ ہفتہ واری اجتماع،اور تربیتی اجتماع میں 60%سے زائد ذمہ داریاں نوجوانوں کو دی جائیں۔
۲۔ جہاں کہیں مساجد میں روزانہ کی بنیاد پر اجتماعات چلتے ہوں ان میں زیادہ سے زیادہ نوجوان حصہ لیں اور اس طرح مساجد کو مضبوط بنائیں
۳۔ قرآن پروچن ، سیرت النبی ﷺ کے پروگرام میں 20%خطاب نوجوانوںکی جانب سے ہو۔ اسی طرح برادران وطن (غیرمسلمین )سے ملاقاتوں میں نوجوانوں کوساتھ لے جایاجائے۔

(۲) نوجوانوں کی توانیاں ملک وملت کی تعمیر وترقی میں لگانے کے لئے :۔
۱۔ ملکی اور ملی امور کے کام میں نوجوانوں کا حصہ 80%ہوناچاہیے۔
۲۔ دھارمک سوہاردا ویدیکے ، FDCA، اور مقامی سطح کے سدبھاؤنامنچوں کا80%فیصدکام نوجوان انجام دیں(صرف گزارش ہے )
۳۔ سیول سوسائٹیز کے نیٹ ورک کو مستحکم کرنے نوجوان آگے آئیں۔ (یہ کام وہی انجام دے سکتے ہیں)
۴۔ SYMکرناٹک اپنی کارکردگی کوبہتر بناتے ہوئے اپنے اس فورم کوفعال کردے۔
اور بھی کچھ نکات ہوسکتے ہیں، فی الحال اتنا ہی کافی رہے گا۔اللہ تعالیٰ قابل ترین اور متقی وپرہیزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعدادکو جماعت اسلامی ہند میںشامل فرماکراپنی تائید ونصرت خداوندی عطافرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے