عبدالمقیت

   عبید اللّہ فیضی

آج ہم 76ویں جشن یومِ آزادی منا رہے ہیں- مطلب یہ کہ انگریزوں کی غلامی سے نجات پائے ہوئے 76 سال مکمل ہو گئے ہیں- ملک کو آزاد کرانے کے لئے سبھی طبقوں نے لازوال و بیش بہا قربانیاں دیں، انھوں نے اپنے نونہالوں کے لئے آزادیئے وطن کا جو خواب دیکھا تھا اس کو شرمندئے تابیر کیا-

لیکن افسوس آج آزادی کے 76 سالوں کے بعد بھی ملک میں حکومت مذہب کی سیاست کر رہی ہے، کسی ایک خاص طبقے کو ہاشیئے پر لا کر کھڑی کر رہی ہے- گاندھی، کلام اور امبیڈکر کے خوابوں کو دھراشائی کر رہی ہے-

قارئین! ہندوستان کی آزادی کی کہانی اور تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ آزادیئے ہند کی تاریخ مسلمانوں کے خون سے عبارت ہے۔ آبادی کے لحاظ سے کم تناسب کے باوجود جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے وطن عزیز کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کئے۔

یہ الفاظ کسی عام ہندوستانی، سیاسی رہنما یا پھر کسی مسلم عالم و قائد کے نہیں بلکہ ممتاز صحافی و ادیب آنجہانی خشونت سنگھ نے کہے تھے۔

آپ کو بتادیں کہ دہلی کی انڈیا گیٹ پر تقریباً 95,300 مجاہدین آزادی کے نام تحریر کئے گئے ہیں- جن میں سے 61,945 مسلمان ہیں۔ مطلب یہ کہ ہندوستان کی آزادی کے لئے انگریزوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے، لڑنے اور قربانیاں پیش کرنے والوں میں 65 فیصد مسلم مجاہدین آزادی تھے۔ یہ بات سچ ہے کہ جدوجہد آزادی میں مسلمانوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں لیکن ان کی قربانیوں کو جان بوجھ کر چھپا دیا گیا یا عوام کی نظروں سے اوجھل کردیا گیا۔

آئیے سچ جاننے کے لئے ہندوستانی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔ ہر ہندوستانی کو ان ناقابل تردید حقائق کے بارے میں باخبر ہونا چاہئے اور اپنے نونہالوں کو بھی ملک کی تحریک آزادی کی حقیقت سے واقف کرانا چاہئے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہر ہندوستانی کو جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کی قربانیوں سے واقف کروائیں۔

قارئین! ہندوستان پر انگریزوں کے غاصبانہ قبضہ اور پھر ان کے خلاف جدوجہد آزادی کے آغاز کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پہلی جدوجہد آزادی حیدر علی اور ان کے فرزند دلبند ٹیپو سلطان نے 1780 ء میں شروع کی اور 1790 ء میں پہلی مرتبہ فوجی استعمال کے لئے حیدر علی و ٹیپو سلطان نے میسوری ساختہ راکٹس کو بڑی کامیابی سے نصب کیا۔ حیدر علی اور ان کے بہادر فرزند نے 1780 ء اور 1790 ء میں برطانوی حملہ آوروں کے خلاف راکٹوں اور توپ کا مؤثر طور پر استعمال کیا۔

ہندوستان میں ہر کوئی جانتا ہے کہ رانی جھانسی نے اپنے متبنیٰ فرزند کے لئے سلطنت و حکمرانی کے حصول کی خاطر لڑائی لڑی لیکن ہم میں سے کتنے لوگ یہ جانتے ہیں کہ بیگم حضرت محل پہلی جنگ آزادی کی گمنام ہیروئن تھیں، جنھوں نے برطانوی چیف کمشنر سر ہنری لارنس کو خوف و دہشت میں مبتلا کردیا تھا اور 30 جون 1857 ء کو چن پاٹ کے مقام پر فیصلہ کن جنگ میں انگریزی فوج کو شرمناک شکست سے دوچار کیا تھا۔

مولانا ابوالکلام آزاد ایک ممتاز عالم دین تھے اور ہندوستان کی تحریک آزادی کے دوران انڈین نیشنل کانگریس کے ایک سینئر مسلم رہنما تھے۔ شراب کی دوکانات کے خلاف مہاتما گاندھی نے دھرنا اور گھیراؤ مہم چلائی اس میں صرف 19 لوگوں نے حصہ لیا، ان میں بھی 10 مسلمان تھے۔

برطانوی راج کے خلاف سازش کے الزام میں اشفاق اللہ خاں کو پھانسی دی گئی۔ اس طرح وہ انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں پھانسی پر چڑھ جانے والے پہلے مجاہد آزادی بن گئے۔ جس وقت اشفاق اللہ خاں کو پھانسی دی گئی اُس وقت ان کی عمر صرف 27 سال تھی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کی پہلی جنگ عظیم کو کس نے منظم کیا تھا اور اس کی قیادت کس نے کی تھی؟ اس کا جواب مولوی احمد اللہ شاہ ہے جنھوں نے ملک میں پہلی جنگ آزادی منظم کی تھی۔ جدوجہد آزادی میں بے شمار مجاہدین آزادی نے اپنی زندگیوں کا نذرانہ پیش کیا جن میں 65 فیصد مسلم مجاہدین آزادی تھے۔

آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر پہلے ہندوستانی تھے جنھوں نے ہندوستان کی آزادی کے لئے بڑی مضبوط اور شدت کے ساتھ لڑائی لڑی۔ ان کی وہی لڑائی 1857 ء کی غدر کا باعث بنی۔ سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے رنگون، برما (میانمار) میں بہادر شاہ ظفر کی مزار پر حاضری کے بعد کتاب تاثرات میں لکھا تھا….

"اگرچہ آپ (بہادر شاہ ظفر) کو ہندوستان میں زمین نہ مل سکی، آپ کو یہاں (برما) میں سپرد خاک ہونے کے لئے زمین مل گئی۔ آپ رنگون (ینگون) میں مدفن ہیں لیکن آپ کا نام زندہ ہے۔ میں ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی کی نشانی و علامت بہادر شاہ ظفر کو خراج عقیدت و گلہائے عقیدت پیش کرتا ہوں، وہی ہندوستان کی جدوجہد آزادی کا نکتۂ آغاز تھا۔”

آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ ایم اے ایم امیر حمزہ نے انڈین نیشنل آرمی (آزاد ہند فوج) کے لئے لاکھوں روپئے بطور عطیہ پیش کیا۔ وہ انڈین نیشنل آرمی کے آزاد لائبریری ریڈنگ پروپگنڈہ کے سربراہ تھے۔ آج اس مجاہد آزادی کا خاندان انتہائی غربت و کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے اور ٹاملناڈو کے علاقہ رامنتاپورم میں یہ خاندان کرایہ کے مکان میں مقیم ہے۔

ہندوستانی، میمن عبدالحبیب یوسف مرفانی کو بھی نہیں جانتے۔ یہ وہی شخصیت ہے جس نے اپنے دولت کا ایک بڑا حصہ ایک کروڑ روپئے انڈین نیشنل آرمی کو بطور عطیہ پیش کردیا تھا۔ اس دور میں ایک کروڑ روپئے کوئی معمولی رقم نہیں تھی۔ میمن عبدالحبیب یوسف مرفانی نے اپنی ساری دولت سارے اثاثے نیتاجی سبھاش چندر بوس کی انڈین نیشنل آرمی کو عطیہ کردی۔

شاہنواز خاں ایک سپاہی، ایک سیاستداں اور انڈین نیشنل آرمی میں چیف آفیسر اور کمانڈر تھے۔ نیتاجی سبھاش چندر بوس کی قائم کردہ آزاد ہند کی جلاوطن کابینہ کے 19 ارکان میں 5 مسلمان تھے۔ بی اماں نامی ایک مسلم خاتون نے جدوجہد آزادی کے لئے 30 لاکھ روپئے سے زائد رقم کا گرانقدر عطیہ پیش کیا تھا۔

ٹاملناڈو میں اسمٰعیل صاحب اور مرودانایاگم نے مسلسل 7 برسوں تک انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑی، ان دونوں نے انگریزوں میں خوف و دہشت پیدا کر رکھی تھی۔

ہم تمام وی او سی (کیالوٹیا ٹامل زہان) کو جانتے ہیں وہ پہلے ملاح ہیں جنھوں نے ہندوستانی جدوجہد آزادی میں حصہ لیا لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو فقیر محمد راٹھور کے بارے میں جانتے ہیں جنھوں نے اس جہاز کا عطیہ دیا تھا۔ جب وی او سی کی گرفتاری عمل میں آئی محمد یٰسین کو برطانوی پولیس نے وی او سی کی رہائی کے لئے احتجاج کرنے پر گولی مار دی۔

تریپورہ کلارن (کوڈی کٹی کمارن) نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں حصہ لیا۔ کمارن کے ساتھ دیگر 7 کو گرفتار کیا گیا وہ تمام کے تمام مسلمان تھے جن کے نام یہ ہیں۔ عبداللطیف، اکبر علی، محی الدین خان، عبدالرحیم، باوو صاحب، عبداللطیف اور شیخ بابا صاحب۔

یقیناً مسلم مجاہدین آزادی کی تحریک آزادی میں قربانیوں پر ہزاروں صفحات تحریر کیا جا سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے فرقہ پرست، انتہا پسند، فاشسٹ طاقتوں نے اس سچائی و حقیقت کو عام ہندوستانیوں کی نظروں سے چھپائے رکھا اور اس پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ہندوستان کی تاریخ کی کتب میں تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ ووٹوں کے حصول کی خاطر اور عوام کو منقسم کرنے، تاریخ کو توڑ مروڑ کر ازسرنو قلملبند کیا گیا۔ محب وطن ہندوستانیوں کو ناپاک عزائم کے حامل سیاستدانوں کی مکاریوں و عیاریوں کا شکار ہونا پڑا-

قارئین! علاوہ ازیں ان لٹیروں، جاگیرداروں، رشوت خوروں سے نام کی آزادی لیکر ہم کہتے ہیں کہ ہم آزاد نہیں ہیں تو دوسری طرف ہر گلی چوراہے پر ترنگا لہرا کر جشنِ آزادی مناتے ہیں- آپ کو بتا دوں کہ ہم نا حمایت میں ہیں اور نا ہی مخالفت میں ہیں ہم صرف اور صرف منافقت میں ہیں- ہم نے وہ ہندوستان کبھی دیکھا ہی نہیں جس کے وعدے ہمارے حکمران اقتدار میں آنے سے پہلے کرتے ہیں- 15 لاکھ غریبی مٹاؤ اقلیتی طبقے کو برابر کا مقام دینے کے نام پر عوام کو لولی پاپ دیئے جاتے ہیں- جس ملک کے سیاست دانوں کی دولت دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے اور ملک کی ترقی کا دارو مدار ان سیاست دانوں پر ہو تو میں کیسے کہوں کہ ہم آزاد ہیں؟

کسی مخصوص طبقے کے لوگوں کو نشانہ بنا کر، لینچیننگ کے نام پر، سڑکوں پر گھسیٹ کر، گھروں سے نکال کر قتل کر دیا جائے تو میں کیسے کہوں کہ ہم آزاد ہیں؟

دنگا فساد کر کے ہمارے مجاہد بھائیوں کو گرفتار کرکے انکاؤنٹر کے نام پر ان کا قتل کر دیا جاتا ہے تو میں کیسے کہوں کہ ہم آزاد ہیں؟

یہ جس آزادی کی بات کرتے ہیں شاید یہ آزادی صرف دہشت گردوں کو حاصل ہے- جو جب چاہے جہاں چاہے کسی کو بھی قتل کر سکتے ہیں اور ہمارے سیاست دان اسکرین پر صرف مذمت پر مذمت مذمت پر مذمت کرتے ہیں- جب انکے دہشت گردوں کا چہرہ سامنے آجاتا ہے، میڈیا اور عوام کو ہزاروں سوالوں کے جواب ملنے کی ایک امید نظر آتی ہے، تب یہ لوگ ایک کفن سو راز دفن کی پالیسی اپنا کر اس دہشت گرد کو عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں انکاؤنٹر کے نام پر گولی سے اُڑا دیتے ہیں- پچھلے دنوں پیش آنے والا وکاس دوبے(Vikas_dubey) کا انکاؤنٹر سامنے ہے- تو جس ملک کے سیاست دان دہشت گرد ہوں تو میں کیسے کہہ دوں وہ ملک آزاد ہے؟

جس ملک کے سیاست دانوں کے نام عصمت ریزی کی لسٹ میں سرفہرست ہوں، اس ملک کی معصوم بیٹیوں کی عزت لٹتی ہوں، تو جناب میں کیسے کہہ دوں کہ ہم آزاد ہیں؟

اے مسلمانوں! جاگ جاؤ یہ دور تم کو دوبارہ 75 سال پیچھے لے جا رہا ہے- اس وقت بھی آزادی کی لڑائی تھی اور آج بھی ہم آزادی مانگ رہے ہیں- 75 سال پہلے ہم نے اپنوں کو چھوڑا تھا، اپنوں سے غداری کی تھی کہ ہم ہندوستان نہیں چھوڑیں گے- جناح کو غدر قرار دیا تھا، جناح کی تھیوری کو غلط قرار دیا تھا، اس لئے نہیں کہ تم آج ہمیں غدار کہو-

ماؤں نے بچوں کو کھویا، باپ نے بیٹے گنوائے، بہنوں کے سہاگ چھن گئے، بیٹیوں نے عزت کی قربانی دی، معصوم بچے ماں باپ سے بچھڑ گئے لیکن پھر بھی ہندوستان نہیں چھوڑے- اس لئے نہیں کہ تم آج ہمیں غیر ملکی قرار دو، ہم نے ہندوستان کی مٹی کو اپنے خون سے سینچا ہے، ہم کو غدار کہنے والوں جا کر تاریخ پڑھو حافظ ضامن بن کر ہم نے اس ملک کی حفاظت کی ہے، مشرق سے لیکر مغرب تک شمال سے لیکر جنوب تک یہ ملک ہمارا ہے-

تم ہمارے پاکیزہ رشتوں کو ڈھانے کی نیت رکھتے ہو، عورتوں کو انصاف کی لالچ دے کر شریعت میں دخل اندازی کرتے ہو- جاگ جاؤ مسلمانوں بچا لو اپنے ایمان اور ملک کو، حکومت کی ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں جنہیں خود دستور کا علم نہیں، خود آئین کی دھجیاں اڑاتے ہیں، انھیں مذہب کی سیاست پسند ہے، ہندؤ مسلمان کے جھگڑوں میں انہیں مزہ آتا ہے، میڈیا بھی انہیں ایسی پسند ہے جو ہندؤ مسلمان پہ بحث کرے- ہماری حکومت پر ایسے لوگ معمور ہیں جنہیں دستور نہیں من مرضی چاہئے، سیکولر ملک نہیں مذہبی ملک چاہئے، انہیں آزادی چاہئے تاکہ آئین کی دھجیاں اڑائی جائیں-

کیا گاندھی، نہرو، آزاد اور امبیڈکر کا یہی خواب تھا؟؟

ظلم وستم کی زد میں نام ونشاں ہمارا

برباد ہو رہا ہے امن و اماں ہمارا______!

کس منہ سے اب کہیں ہم اقبال کا یہ مصرعہ

"سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا____!”

یہ وہ ملک ہےجہاں پر مختلف تہوار ہندؤ مسلمان مل کر مناتے ہیں، ہندؤ بہنیں راکھی باندھ کر مسلمان بھائیوں کی حفاظت کے لئے دعائے کرتی ہیں- یکجہتی اس ملک کی پہچان ہے- ہمارا ملک گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ ہے- یہ ملک پریم چند و رگھوپتی سہائے کا ملک ہے-

رب کریم سے یہی دعا کرتا ہوں کہ مولا یہ میرا وطن وطن عزیز ہے، میرا محبوب وطن ہے میں اپنے وطن سے بہت محبت کرتا ہوں تو ہمارے اس وطن کی(سرزمین ہند) کی حفاظت فرما، ظالموں کی شر سے عزیزان وطن کو محفوظ رکھ، ملک میں امن و امان قائم رکھ…. آمین!

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت میں زیر تعلیم ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے