اویس عاطف
متعلم دارالعلوم ندوةالعلماء لکھنؤ

جشن آزادی جمہور منانے والوں
ان چراغوں میں شہیدوں کا لہو جلتا ہے

سالہا گزشتہ کی طرح ایک بار پھر یوم آزادی ہمارے سامنے جلوہ نما ہے ، ہم اسکی خوشیاں اور سال گرہ منانے میں مگن ہیں ، ہم بارگاہ ایزدی میں دعا بدست ہیں کہ جس طرح یہ دن گزشتہ 76 سالوں سے اپنی رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ آرہا ہے اسی طرح تاقیامت آرہاہے ۔آمین
یوم آزادی اور جمہوریہ کے آتے ہی سکولوں ،کالجوں اور مدرسوں میں ترانوں اور نغموں کی گونج اور رقص و سرور کی محفلیں سجائی جاتی ہیں، Emotionally Lectures دئے جاتے ہیں ، چھوٹا بڑا ہر لیڈر ان تقریبات میں کم از کم ایک خطاب ضرور کرتا ہے، Press اور Electronic media جنگ آزادی کے حالات و واقعات بیان کرنے اور ممتاز مجاہدین کی سیرت قید و بند سنانے میں اپنا پورا زور صرف کردیتی ہیں، لیکن یہ دن جو پیغام لے کرآتا ہے ، اس کی طرف توجہ بہت ہی کم لوگوں کی ہوتی ہے، کم اخبار و رسائل ہیں، جو محاسبہ کرتے ہیں، کم مقرر و خطیب ہیں جو گزشتہ حالات کو موجودہ دور سے ملاکر نتیجہ نکالتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں اور ہماری نئی نسل ( New Generation ) ہمارے سکولوں میں پڑھنے والے نونہالوں کو یہ پتہ ہے کہ جواہرلال نہرو کون تھے ؟! سبھاش چندر بوس کون تھے ؟! اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا یے؟! مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ پنڈت جوہر لال نہرو کو نہرو کس نے بنایا ؟ مہتما گاندھی کو مہتما کے خطاب کو کس نے نوازا؟ سبھاش چندر بوس کو بوس کے لقب سے کس نے ملقب کیا ؟ اسکول میں پڑھنے والے معصوموں سے پوچھیں کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ تو وہ یہی کہیں گے کہ مجاہدین آزادی تھے ، کالج میں عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سے سوال کریں تو ان کا جواب بھی یہی ہوگا! میں اپنے( Educated ) تعلیم یافتہ اور ( Uneducated) غیر تعلیم یافتہ ساتھیوں سے ایک سوال کرتا ہوں ، کہ کیا جنگ آزادی دو بھائیوں کے بٹوارے کی لڑائی تھی ، جس میں موتی لال نہرو ، مہتما گاندھی نے آ کر صلح کرادی ، یا وہ کشتی میں سوار تھے اور وہ ڈوبنے کو تھی وہ کوڈ گئے اور ہوگئی آزادی ، جنگ آزادی کا مطلب و معنی اور پس منظر یہ ہے کہ خون کی ندیاں بہانا، لاشوں کا انبار لگانا، سروں کے مینار بنانا ، بچوں کے سر پر یتیمی کا تاج پہننا، بی وی کے آنچل پر بیوگی کا داغ لگانا، والدین کا جگر چاک کرانا ، بھائیوں اور بہنوں کو بے سہارا کرنا اور بہت سے مصائب برداشت کرنا ۔

جنگ آزادی 1857 یا 1920 سے نہیں لڑی گئی بلکہ 1803 سے 1920 تک صرف علماء نے لڑی لیکن چند جاہل کندہ ناتراشوں نے نصاب تعلیم میں بچوں کو یہ بتایا کہ آزادی کی لڑائی 1857 سے یا 1920سے برادران وطن نے لڑی ہے جو کہ بالکل غلط ہے اصلا 1803 سے علماء نے لڑی ہے اور اس میں لاکھوں نے اپنی جانوں کو قربان کر کے ہندوستان کو آزاد کرایا تھا ، مگر آج بڑے ہی دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ فرقہ پرستوں اور حکومت ہند نے اس میں شہید ہونے والے علماء کی جد و جہد کو فراموش کردیا ۔ جب وائسرائے برطانیہ نے اپنےہندی مشیروں سے رائے طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ تمہاری حکومت ہندوستان میں کیسے قائم رہ سکتی ہے، تو ایک بہت بڑا سیاست دان ہندوستانی ڈاکٹر ولیم فورٹ نے جو رپورٹ پیش کی ، اس میں لکھتا ہے کہ ہندوستانی میں سب سے زیادہ بیدار مسلمان ہیں ، جنگ اور آزادی کے لئے صرف مسلمان و علماء متحرک ہیں ، مسلمانوں میں جب تک جذبہ جہاد زندہ ہے ، اس وقت تک ہم ان پر حکومت نہیں کرسکتے ہیں ، اور جذبہ جہاد ختم کرنے سے پہلے ایک چیز اور قابل ختم ہے وہ یہ کہ ہندوستان سے علماء اور قرآن کو ختم کیا جائے چنانچہ 1861 تین لاکھ قرآن کریم کے نسخے بدبخت انگریزوں نے جلائے اور اس کے بعد علماء کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، انگریز مورخ اپنی یادداشت میں لکھتا ہے 1864 سے لے کر 1867تک انگریز نے علماء کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ، یہ تین سال ہندوستان کی تاریخ میں الم ناک گزرے ہیں ، اس مدت طویل میں فرنگیوں نے 14000 علماء کو شہید کیا ، چودہ ہزار وارثین انبیاء نے تختہ دار کو بوسہ دیا اور دلی کے چاندنی چوک سے لے کر لاہور کی جامعہ مسجدتک کوئی درخت ایسا نہ تھا جس میں علماء کی نعشیں نہ لٹکی ہوں مزید کہتا ہے کہ علماء کے جسموں کو تانبے سے داغا گیا اور علماء کو سور کی کھالوں میں بند کرکے تنور میں ڈال دیا جاتا تھا ، اور ہاتھیوں پر کھڑا کرکے درختوں سے باندھ کر ہاتھیوں کو نیچے سے چلا دیا جاتا تھا ، لاہور کی جامع مسجد کے صحن کو انگریزوں نے تختہ دار بنایا اور ایک دن 80 ،80 علماء کو پھانسی دی یہیں پہ بس نہیں ہوتا 80 ،80 علماء کو بوریوں میں بند کرکے دریائے راوی میں ڈال دیاجاتا اور اوپر سے گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا، مورخ لکھتا ہے کہ جب میں دہلی میں اپنے خیمہ میں گیا تو مردار کی بدبو محسوس ہوئی جب خیمہ کے پیچھے جاکر دیکھا تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں میں نے دیکھا کہ آگ کے انگارے دہک رہے ہیں ، چالیس علماء کو کپڑے اتار کر ان انگاروں پر لٹا دیا گیا میرے دیکھتے ہی دیکھتے مزید چالیس کو لایا گیا اور انگریز نے کہا کہ مولویوں جس طرح ان چالیس کو آگ میں بھونا گیا ہے اسی طرح تمہیں بھی بھون دیا جائے گا ، تم میں سے صرف ایک آدمی یہ کہ دے کہ 1857 کی جنگ آزادی میں ہم نہیں تھے ، تم کو ابھی چھوڑ دیا جائے گا ، مورخ اپنے جذبات کو قابو نہ کرسکا کہتا ہے کہ مجھے پیدا کرنے والے کی قسم ان میں سے کوئی عالم ایسا نہ تھا جس نے موت پر حیات کو ترجیح دی ہو سارے کے سارے مولویوں نے اپنی جانوں کو نظر آتش اور جسم کو لقمہ نار بنادیا لیکن گردنیں نہیں جھکائیں اور داعئی اجل کو لبیک کہا ،یہ وہی لوگ ہیں جنہیں دنیا اسیران مالٹا کے نام سے جانتی ہے،
انہیں میں شیخ الہند و شیخ الاسلام عبداللہ سندھی ہیں جو 1856 کے بعد 1947 تک جنگ آزادی کے سرخیل کمانڈر رہے ، یہ وہی شیخ الہند ہیں جنہوں نے انگریزوں کے خلاف عالمگیر تحریک چلائی تھی ، جس کے عکس میں عقل انسانی حیران و ششدر رہ جاتی ہے ، انہیں میں سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید ، اور بہادر شاہ ظفر وغیرہا تھے، تاریخ نے وہ منظر بھی دیکھا ہے کہ 1707 کے بعد بہادر شاہ ظفرکے بیٹوں اور پوتوں کے سر ایک طشتری میں سجاکر ان کے سامنے پیش کئے گئے جس پر حیرت انگیز صبر ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاہ جی نے کہا تھا کہ الحمدللہ تیمور کی اولاد ایسے ہی سرخ رو ہوکر باپ کے سامنے آیا کرتی ہے، اور خود شاہ جی کو بغاوت کے جرم میں قید کرکےجلا وطن کردیا گیا ، شاہ جی اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لئے
دو گز زمیں بھی مل نہ سکی کوئے یار میں

جنگ آزادی دو ، چار لوگوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ملک کو آزاد کرانے کے لئے بے شمار لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں ، لاتعداد علماء نے اپنے خون سے اس چمن کو سیراب کیا ، مگر بڑے ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ چند فرقہ پرستوں نے پورے ملک کو نفرت کی آگ میں جھونک دیا یہ آزادی جو ہمیں وراثت میں ملی تھی، ان ناہنجاروں نے اس کی قدر ہی نہیں کی ، اب سے 76 سال پہلے انگریز قوم کی جو روش ہمارے ساتھ تھی، اس سے کہیں زیادہ برا سلوک ہمارے ساتھ رواں رکھا ہے ، آج جب ہندوستان آزاد ہوا ہمارا ملک ہمارا ہوگیا ، جب ہم نے خون کی ندیاں بہا کر، عورتوں کو بیوہ ، اور بچوں کو یتیم کرکے جب ہم نے غلامی کی سرحدوں کو عبور کرلیا ، آزاد فضا میں سانس لینے لگے تو ہماری مثال اس گھڑیال کی سی ہوگئی جو اپنے بچوں کو جنم دیتی ہے اور خود ہی انہیں کھا جاتی ہے،ہمارے ملک کے کچھ لوگوں نے آزادی کا کچھ غلط ہی مطلب سمجھ لیا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جتنا چاہو نفرت پیدا کرو، فساد برپا کرو ، اکثریت و اقلیت پرجتنا چاہو ظلم جور کرو، جس کو چاہو جیل میں ٹھوسو، جس کو چاہو گولیوں کا نشانہ بناؤ، جس کا چاہو انکاونٹر کرو ، کیوں کہ ملک تو آزاد ہے ۔

کتنی بربادی مقدر میں تھی آبادی کے بعد
کیا بتائیں ہم پہ کیا گزری آزادی کے بعد

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس شجر آزادی کا پھل ہمارے حق میں بہت ہی تلخ ثابت ہوا، جس کی تلخی آج تک ختم نہ ہوسکی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدیوں ختم نہ ہوسکے گی ، ہمیں بھی کوئی رنج و الم نہیں ، کوئی افسوس و ملال نہیں ، اگر یہ ظالم حکومت ہمارے حقوق اسی طرح پامال کرتی رہی تو اسے بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہم انہیں شیران اسلام کے فرزند ہیں جنہوں نے ہندوستان کی تاریخ رقم کی تھی ہم بھی دوہرا کر دیکھیں گے، آخر کب تک ظلم کی چکی کے بیل بنیں گے

ہمیں تو آخر یہ دیکھنا ہے رہے گی لہجے میں دھار کب تک
تمہارے لفظوں کی قینچیوں سے پرندے ہوں گے شکار کب تک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے